حکومت ایک پارٹی کی سرپرستی کر کے انتخابات کو متنازع بنا رہی ہے،سراج الحق 

170
امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق دروازگئی مہمند میں جلسے سے خطاب کررہے ہیں
امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق دروازگئی مہمند میں جلسے سے خطاب کررہے ہیں

لاہور(نمائندہ جسارت)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ کچھ لوگوں کا تاثر ہے کہ حکومت ایک پارٹی کی سرپرستی کر رہی ہے جس سے انتخابات کو متنازع بنایا جارہا ہے ،نگراں حکومت اور الیکشن کمیشن انتخابی عمل کو غیر جانبدار اور شفاف بنائے ،اگرعوام کا الیکشن پر اعتماد نہ رہا تو ملک میں انتشار اور انارکی کو پھیلنے سے کوئی نہیں روک سکے گا، 2018ء کا الیکشن فیصلہ کرے گا کہ پاکستان ایک اسلامی ملک رہے گا یا لبرل اور سیکولر پاکستان بنے گا،یہ الیکشن نظریا ت ، تہذیب اور کلچر کا مقابلہ ہے،یہ غیر ت اور بے غیرتی اور حیااور بے حیائی کے درمیان مقابلہ ہے ، سیکولر ازم کے حامی چاہتے ہیں کہ اسلام کو مسجد تک محدود کردیا جائے اوراس سے پارلیمنٹ میں قانون سازی اور اقتدار کا حق چھین لیا جائے،یہ ٹولہ ہمارے نوجوانوں کو اسلام سے بغاوت پر اکسا رہا ہے ، پاکستان سے لوٹی گئی 5 سو ارب ڈالر کی بیرون ملک پڑی دولت کو واپس لا کر ملک و قوم پر خرچ کریں گے ،ملک کے تما م مسائل کا حل اسلامی انقلاب میں ہے ، ملا کنڈ کے عوام کو اپنے اسلامی کلچر پر فخر ہے ،پختون قوم اپنے کلچر اور تہذیب کی حفاظت کرنا جانتی ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے لوئر دیر میں یوتھ کنونشن اور مہمند ایجنسی میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔یوتھ کنونشن سے مولانا اسد اللہ اور اعزاز الملک افکاری نے بھی خطاب کیا۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ پاکستان کے مستقبل کا فیصلہ عوام کے ووٹ سے ہوگا۔عوام نے طے کرنا ہے کہ انہوں نے جاگیرداروں وڈیروں اور سرمایہ داروں کی غلامی کرنی ہے یا کرپٹ ٹولے سے آزادی حاصل کرکے پاکستان کو حقیقی معنوں میں ایک اسلامی و فلاحی ریاست بنانا ہے ۔انہوں نے کہا کہ آنے والا کل پاکستان میں اسلامی نظام اور غریب عوام کا ہے ۔پاکستان کو ایک اسلامی و خوشحال پاکستان بنانے کے لیے عوام متحدہ مجلس عمل کے دست و بازو اور ووٹر اور سپورٹر بنیں ۔ متحدہ مجلس عمل عام آدمی کو خوشحال دیکھنا چاہتی ہے اس لیے ظلم کرپشن اور غربت کے خاتمے کے لیے جدوجہد کررہی ہے ۔انہوں نے کہاکہ متحدہ مجلس عمل نے پاک دامن لوگوں کو اکٹھا کرکے عوام کے سامنے پیش کیا ہے تاکہ عوام اپنی حقیقی قیادت کو پہچان سکیں ۔ایم ایم اے میں پاناما زدہ اور کرپٹ لوگ نہیں، قرضے لے کر ہڑپ کرنے والے ہیں نہ دبئی اور لندن میں ان کی جائدادیں ہیں ۔یہ سب آپ کے درمیان رہنے والے لوگ ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اللہ سے ڈرنے والے لوگ اسمبلیوں میں پہنچیں گے تو اللہ تعالیٰ برکت اور رحمت کے دروازے کھول دے گا ۔کچھ لوگ ملک سے حیا کا جنازہ نکالنا چاہتے ہیں ۔ قوم یہ نہیں ہونے دے گی کہ یہاں شراب خانے آباد اور مسجدیں اور مدارس ویران ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم عام آدمی کو اقتدار کے ایوانوں میں پہنچانا چاہتے ہیں کیونکہ عوام کے مسائل کا ادراک وہی رکھتا ہے جو عوام میں سے ہو۔جو لوگ غریبوں کے ہمدرد اور خیر خوا بن کر آتے ہیں انہیں عوام کے مسائل سے نہیں اپنے اقتدار سے مطلب ہوتا ہے اسی لیے وہ دوبارہ5 سال تک نظر نہیں آتے ۔انہوں نے کہا کہ آج تک ملک کے اقتدار پر قابض وڈیروں نے عوام کا استحصال کیا ہے اور عام آدمی کو زندگی کی بنیادی سہولتوں سے محروم رکھا ہے ۔جن لوگوں نے روٹی کپڑے اور مکان کے نعرے پر40 سال حکومت کی وہ آج ایک بار پھر عوام کو بے وقوف بنانے کی ناکام کوشش کررہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ عوام اب باشعور ہوچکے ہیں وہ نئے لیبل والی پرانی شراب کے دھوکے میں نہیں آئیں گے اور 25جولائی کو متحدہ مجلس عمل کے امیدواروں کو ووٹ دے کر ایک اسلامی و خوشحال پاکستان کی بنیاد رکھیں گے ۔انہوں نے کہا کہ علاقے میں تعلیمی اداروں کا جال بچھانے کا اللہ نے ہمیں موقع دیا ہے ،آج تیمر گرہ میں بچوں اور بچیوں کے اعلیٰ اور معیاری ادارے ہیں اور ہمارا عزم ہے کہ ملا کنڈ میں میڈیکل کالج ،زرعی یونیورسٹی ،انجینئر نگ اور ٹیکنیکل یونیورسٹیاں قائم کی جائیں گی۔جس طرح غرناطہ ،ثمر قند وبخارا اور قرطبہ علم کے مرکز تھے اسی طرح ملاکنڈ کو جدید علوم کا مرکز بنایا جائے گا جس میں بیرون ملک سے طالب علم آکر پڑھیں گے ۔انہوں نے کہا کہ ہم تعلیم کو بالکل مفت کردیں گے اور5 بڑی بیماریوں کا علاج مفت کریں گے ۔جب تک نوجوانوں کو روز گار نہیں ملے گا انہیں حکومت کی طرف سے بے روز گاری الاؤنس دیا جائے گا،غریب بچیوں کی شادیوں کا انتظام حکومت کرے گی۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ