اسرائیلی پارلیمان نے یہودیوں کی قومی ریاست کا متنازع بل منظور کر لیا

199

مقبوضہ بیت المقدس: اسرائیلی پارلیمان نے یہودیوں کی قومی ریاست کا متنازع بل منظور کر لیا۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اسرائیلی پارلیمان نے یہودیوں کی قومی ریاست کا متنازع بل منظور کر لیا جس میں ملک کو خصوصی طور پر یہودی ریاست قرار دیا گیا۔

یہودیوں کی قومی ریاست نامی بل عربی کے بطور سرکاری زبان کے درجے کو کم کرتا ہے اور یہ کہا کہ یہودی آباد کاری کی پیش قدمی قومی مفاد میں ہے۔

بل میں یہ بھی کہا گیا کہ مکمل اور متحدہ یروشلم اس کا دارالحکومت ہے، اسرائیلی عرب ارکان پارلیمان نے اس قانون سازی پر تنقید کی ہے لیکن اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اس کی تعریف کرتے ہوئے اس واضح لمحہ قرار دیا،اس بل کو اسرائیل کے دائیں بازو کی حکومت کی حمایت حاصل ہے اور انہوں نے کہا کہ اسرائیل یہودیوں کا ملک ہے اور انہیں قومی خود مختاری کا خصوصی اختیار حاصل ہے۔

اسرائیل کی پارلیمان میں پیش کیے جانے والے اس بل کے حق میں 62 جبکہ مخالفت میں 55 ووٹ ڈالے گئے۔

اسرائیل کے صدر اور اٹارنی جنرل کی جانب سے بل پر اٹھائے جانے والے اعتراضات کے بعد اس بل کی چند شقوں کو ہٹا دیا گیا جس میں ایک شک قانونی طور پر صرف یہودی آبادیوں کی تخلیق کا احاطہ کرتی تھی۔

واضح رہے کہ اسرائیل کی 90 لاکھ آبادی میں سے تقریبا 20 فیصد اسرائیلی عرب ہیں۔ عرب ایم پی احمد تبی نے اس بل کی منظوری کو”جمہوریت کی موت”قرار دیا ہے انہیں قانون کے تحت برابری کے حقوق حاصل ہیں لیکن ان کا موقف ہیں کہ ان کے ساتھ دوسرے درجے کے شہریوں جیسا سلوک کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انہیں تعلیم، صحت اور ہائوسنگ کے شعبوں میں بدترین سلوک کا سامنا ہے۔

عرب ایم پی احمد تبی نے اس بل کی منظوری کو جمہوریت کی موت قرار دیا ہے۔

عربوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے این جی او ادالا نے کہا کہ یہ قانون نسل پرستی کی پالیسیوں کو فروغ دینے کی نسلی ترغیب کو آگے بڑھانے کی ایک کوشش ہے۔

خیال رہے کہ اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے گذشتہ ہفتے اس بل کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ہم اسرائیل کی جمہوریت میں شہری حقوق کو یقینی بنائیں گے لیکن اکثریت کو بھی حقوق حاصل ہیں اور اکثریت ہی فیصلہ کرے گی۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ