ہدف کو جلا دینے والی چین کی لیزر کلانشنکوف

87

جمال نازی

صنعت اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں چین برق رفتاری سے ترقی کرنے کے ساتھ دفاعی شعبے میں بھی حیران کن اسلحہ تیار کررہا ہے۔ حال ہی میں چین کی ایک نئی لیزر کلاشنکوف کی خبریں ذرائع ابلاغ کی توجہ مرکز بنیں۔ یہ کلاشنکوف کیسی ہے؟ کیسے کام کرتی ہے اور روایتی کلاشنکوفوں سے کیسے مختلف ہے؟۔ آیئے اس کا جائزہ لیتے ہیں:
رپورٹ کے مطابق چین میں تیار ہونے والی AK-47 ایک ایسی بندوق ہے جو اب تک صرف فلموں میں دکھائے گئے فرضی اسلحہ تک محدود تھی مگر چین نے اسے حقیقت میں پیش کردیا ہے۔ اس کلاشنکوف کی لیزر گولی کا نشانہ بننے والے افراد تکلیف کی شدت سے اپنا توازن کھو بیٹھیں گے۔
لیزر کلاشنکوف 800 میٹر تک اپنے ہدف کو درست انداز میں نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ لیزر سے حملہ اگرچہ جسم پر کوئی زخم نہیں لگائے گا مگر اس کے نتیجے میں جسم میں شدید تکلیف پیدا ہونے کے ساتھ ہدف کو آگ لگ سکتی ہے۔
کھڑکیوں میں نقب لگانے میں معاون
چینی لیزر کلاشنکوف کھڑکیوں میں نقب لگانے کا بہترین اسلحہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کا دوسرا فنکشن جسم میں آگ لگانا ہے۔ ماہرین جن کا نام سیکورٹی وجوہات کی بنا پر ظاہر نہیں کیا گیا کا کہنا ہے کہ چینی لیزر کلاشنکوف کی بڑی تعداد میں تیاری کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ کلاشنکوف پولیس، انسداد دہشت گردی فورس اور مسلح افواج کو دی جائے گی۔
جنگ کی صورت میں یہ لیزر کلاشنکوف ٹینکوں اور گاڑیوں کی تیل کی ٹنکیوں کو نشانہ بنا کر ان میں آگ بھڑکا دے گی جس کے نتیجے میں وہ ناکارہ ہو جائیں گے۔

7
اخبار چائنا مارننگ پوسٹ کے مطابق ’لیزر کلاشنکوف‘ چائنا سائنس اکیڈمی کے زیرانتظام ’زیان آپٹکس اینڈ ریسیجن میکانیکس انسٹی ٹیوٹ‘ کی جانب سے تیار کی گئی ہے تاہم یہ معلوم نہیں کہ آیا اسے کب تک باقاعدہ فوج یا پولیس کے حوالے کیا جائے گا۔
وزن اور ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت
ذرائع کا کہنا ہے کہ ’ AK-47‘ لیزر کلاشنکوف وزن میں بہت ہلکی ہوگی جس کا وزن صرف 3 کلو گرام تک ہوگا۔ تاہم یہ کلاشنکوف اپنے ہدف کو 800 میٹر تک نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھے گی۔ 15 ملی میٹر دھانے والی اس کلاشنکوف کو ’لیتھیم بیٹری‘ کی مدد سے چلایا جائے گا۔ اسے فوجی گاڑیوں کشتیوں اور جہازوں پر بھی رکھا جاسکتا ہے۔
چینی کلاشنکوف کم سے کم 2 سکینڈز میں 1000 لیزر فائر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
کلاشنکوف کی تیاری میں شامل ماہرین کا کہنا ہے کہ ’اے کے 47‘ لیزر کلاشنکوف کا ہدف اگر کوئی شخص ہوگا تو وہ اس کے کپڑوں میں آگ لگا دے گی۔ اگر اس نے ریشم کے کپڑے پہن رکھے ہوں تو اس کے کپڑوں میں فورا آگ بھڑک اٹھے گی اور اس کا پورا جسم جھلس جائے گا۔ لیزرکے حملے اور آگ لگنے سے ہونے والی تکلیف ناقابل برداشت ہوجائے گی۔
ڈراؤنے حملے
سائنسدانوں کاکہنا ہے کہ لیزر اسلحہ ایک غیر مرئی اور آواز کے بغیر ہےجو عموما لوگوں کو خوف زدہ کرنے کا ایک ذریعہ ہوسکتا ہے۔ اس حملے کے شکار ہونے والے شخص کے بارے میں یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ وہ کسی حادثے کا شکار ہوگیا ہے۔
لیزر کلاشنکوف کے استعمال میں سخت احتیاط بھی برتی جائے گی۔ اس کے استعمال کی کڑی نگرانی ہوگی اور اسے حکومت کی اجازت کے بغیر کسی جگہ تیار نہیں کیا جاسکے گا اور بغیر لائسنس کے اسے استعمال کرنا ممنوع ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ