لیبیا :دم گھٹنے سے 8مہاجر ہلاک ،158کو بچالیا گیا

78
طرابلس: اسمگلنگ میں استعمال ہونے والا کنٹینر تارکین وطن کی المناک موت کا پتا دے رہا ہے‘ زندہ بچ جانے والوں کو طبی امداد فراہم کی جارہی ہے
طرابلس: اسمگلنگ میں استعمال ہونے والا کنٹینر تارکین وطن کی المناک موت کا پتا دے رہا ہے‘ زندہ بچ جانے والوں کو طبی امداد فراہم کی جارہی ہے

طرابلس (انٹرنیشنل ڈیسک) لیبیا میں غیرقانونی طریقے سے یورپ منتقلی کی کوشش کے دوران بند کنٹینر میں دم گھٹنے سے کم سے کم 8 تارکین وطن ہلاک اور 90 بے ہوش ہوگئے، تاہم انہیں بچالیا گیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق لیبیا کے سیکورٹی حکام کا کہنا ہے کہ تمام تارکین وطن کا تعلق مختلف ممالک سے ہے۔ لیبیا کے زوارہ شہر کے ڈائریکٹوریٹ سیکورٹی کی طرف سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ پولیس نے ایک بڑے کنٹینر کی تلاشی لی، جس میں 100 غیرقانونی تارکین وطن ٹھونسے گئے تھے۔ کنٹینر میں ڈیزل کے کئی گیلن بھی رکھے گئے تھے۔ یہ فریزر نما کنٹینر مردہ مچھلیوں اور گوشت کی منتقلی کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ طویل وقت کنٹینر میں بند رہنے کے باعث دم گھٹنے سے 6 بچوں اور ایک خاتون سمیت 8 افراد جاں بحق ہوگئے۔ دیگر بے ہوش افراد کو علاج کے لیے اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ لیبیا کے راستے غیرقانونی تارکین وطن کی یورپ منتقلی کا خطرناک دھندہ جاری ہے۔ حالاں کہ لیبیا اور یورپ سمیت کئی دوسرے ممالک بحیرہ روم سے تارکین وطن کی منتقلی کی روک تھام کے لیے کئی سخت اقدامات بھی کرچکے ہیں۔ عالمی سلامتی کونسل بھی لیبیا سے تارکین وطن کی اسمگلنگ پر پابندی لگا چکی ہے۔دوسری جانب لیبیا کے دارالحکومت طرابلس کے قریب 26 میل دور سمندر میں 158 غیر قانونی تارکین وطن کو ڈوبنے سے بچا لیا گیا۔ لیبیائی بحریہ کے مطابق ان تارکین وطن کا تعلق افریقی ممالک سے ہے۔ بتایا گیا ہے کہ جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔ ادھر لیبیا کی قومی حکومت وزیراعظم فائز سراج کا کہنا ہے کہ ملک میں اس وقت 24 مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے غیر قانونی تارکین وطن کی تعداد 5لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، جن کی اکثریت بہتر مستقبل کی تلاش میں یورپ جانے کی منتظر ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ