مالی سال2018 ء میں گندم کا 2کروڑ67لاکھ ٹن کاہدف حاصل نہیں ہوسکا

107

گندم کی مجموعی پیداوار پچھلے سال کی نسبت4.4فیصد کمی سے 2کروڑ 55لاکھ ٹن رہی ، اسٹیٹ بینک

برآمدات پر120 ڈالر فی ٹن زرتلافی کے سبب فروری ‘ مارچ2018 کے دوران3لاکھ ٹن گندم برآمد کی گئی

کراچی: شوگر ملز مافیا کی جانب سے گنے کی کٹائی میں غیر معمولی تاخیر اور پانی کی کمی کے باعث ملک میں مالی سال2018میں گندم کی 2کروڑ67لاکھ ٹن کاہدف حاصل نہیں ہوسکا۔ مالی سال2018 میں گندم کی مجموعی پیداوار پچھلے سال کی نسبت4.4فیصد کمی سے 2کروڑ 55لاکھ ٹن رہی ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی گزشتہ مالی سال2017-18 کی تیسری سہ ماہی کی اقتصادی جائزہ رپورٹ کے مطابق مالی سال2018کی ربیع کے سیزن میں گندم کی فصل کامقررہ ہدف حاصل نہ ہونے میں دودیگر عوامل میں مارچ میں غیرمعمولی گرمی اور کھاد کی کم فروخت سے نہ صرف غذائیت نہ ملنے سے پنجاب اور سندھ میں فی ایکٹر پیداوار میں منفی اثرات مرتب ہوئے تھے۔ رپورٹ کے مطابق گنے کی کٹائی میں تاخیر کی وجہ سے گندم کے قابل کاشت مطلوبہ رقبہ دستیاب نہ ہوسکا جبکہ فصل کوپانی بھی گزشتہ سال کی نسبت14.5فیصد میسر آسکا تھا تاہم ان عوامل کے باوجود مالی سال2018 میں گندم کی فصل بمپر ثابت ہوئی جس کے باعث گندم کے ملکی ذخائر میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ حکومتی ایجنسیوں نے اس سال مجموعی طور پر69 لاکھ ٹن گندم کی خریداری کی منصوبہ بندی کی تھی اور اپریل کے اختتام (خریداری سیزن کے آغاز) پرگندم کے ذخائر69 لاکھ ٹن ہوچکے تھے اور توقع ہے کہ اس سال گندم کے مجموعی سرکاری ذخائر ایک کروڑ ٹن سے تجاوز کرجائیں گے۔ رپورٹ میں کہاگیاہے کہ فروری مارچ 2018 کے دوران برآمدات کے باعث گندم کے ذخائر میں کچھ کمی آئی تھی۔ حکومت نے جون2018 تک گندم کی نئی فصل کے ذخائر کی جگہ پیداکرنے کی غرض دسمبر2017 میں20لاکھ ٹن گندم برآمد کرنے کی اجازت دی تھی۔ گندم کی برآمدات کویقینی بنانے کے لیے حکومت نے بذریعہ سمندر159ڈالر اور زمینی راستے سے کی جانے والی برآمدات پر120 ڈالر فی ٹن زرتلافی دینے کااعلان کیاتھا جس کے سبب فروری ‘ مارچ2018 کے دوران3لاکھ ٹن گندم برآمد کی گئی تھی۔ برآمدات کی وجہ سے گندم خریدنے والی ایجنسیوں کے مالی حالات قدرے بہتر ہوگئے تھے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ
mm
قاضی جاوید سینئر کامرس ریپورٹر اور کامرس تجزیہ، تفتیشی، اور تجارتی و صنعتی،معاشی تبصرہ نگار کی حیثیت سے کام کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں ۔جسارت کے علاوہ نوائے وقت میں ایوان وقت ،اور ایوان کامرس بھی کرتے رہے ہیں ۔ تکبیر،چینل5اور جرءات کراچی میں بھی کامرس رپورٹر اور ریڈیو پاکستان کراچی سے بھی تجارتی،صنعتی اور معاشی تجزیہ کر تے ہیں qazijavaid61@gmail.com