روپے کی قدر میں کمی کے بعدیوریا کھاد ، سیمنٹ،کار مہنگی کردی

134

یوریا کھاد کے بیگ کی قیمت 1582روپے ہوگئی ، سیمنٹ کے تھیلے کی قیمت میں10روپے کا اضافہ

کاراسمبلرز کی جانب سے رواں سال چوتھی مرتبہ مقامی طور پر اسمبل کردہ کاروں کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ

کراچی:images (1)Granular-and-Prilled-Fertilizer-Ureaروپے کی قدر میں کمی کے بعدیوریا کھاد اور سیمنٹ مہنگا کردیا گیا۔یوریا کھاد کے بیگ کی قیمت میں 50روپے کا اضافہ ہوا ہے جبکہ یوریا کھاد کی قیمت ملک کی دو بڑی نجی کمپنیو ں نے بڑھائی ۔یوریا کھاد کے بیگ کی قیمت 1582روپے ہوگئی جبکہ سیمنٹ کے تھیلے کی قیمت میں10روپے کا اضافہ دیکھنے میں آیاتین ہفتوں میں سیمنٹ کا بیگ 45سے55روپے مہنگا کیاجاچکا ہے۔انڈسٹری ذرائع کے مطابق کوئلہ اور ڈالر مہنگا ہونے کے باعث سیمنٹ مہنگا ہوا، نارتھ ریجن میں سیمنٹ کے بیگ کی قیمت575اور ساوتھ ریجن میں630روپے ہوگئی،شئیر مارکیٹ میں بدھ کو سیمنٹ اور کھاد کمپنیوں کے شئیرز کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیاتاہم ا نڈسٹری ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈی اے پی کھاد کی قیمت میں اضافہ نہیں کیا گیا۔ جب کہ دوسری جانب پاکستان میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں 5.3فیصد کی کمی کے باعث مقامی کاراسمبلرز کی جانب سے رواں سال میں چوتھی مرتبہ مقامی طور پر اسمبلی کردہ کاروں کی قیمتوں میں اضافے کا امکان ہے تاہم مقامی کاروں کے مقابلے میں نئی درآمدہ کاروں کی قیمتوں میں زیادہ اضافہ ہوگا۔ مقامی اسمبلرز اگست کے اوائل میں قیمتیں بڑھانے کااعلان کریں گے۔ آٹو موبائل مارکیٹ ڈیلرز کاکہناہے کہ ڈالر کی قیمت میں تسلسل سے ہونے والے اضافے سے مقامی اور درآمدہ نئی کاروں کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوگیاہے جس سے موٹرڈیلرز کاکاروبار متاثر ہوا ہے تاہم کار اسمبلرز زیادہ پریشان ہیں کہ انہیں تواتر سے کاروں کی قیمتیں بڑھانی پڑرہی ہیں۔ ڈیلرز نے بتایا کہ روپے کی قدرگھٹنے سے مقامی طور پر اسمبل شدہ کاروں کے مقابلے میں نئی درآمدہ کاروں کی قیمتیں زیادہ بڑھتی ہیں لہٰذا نئی کاریں درآمد کرنے والی کمپنیاں زیادہ پریشان ہیں کیونکہ روپے کی قدر میں کمی کے پہلے مرحلے میں خریدار درآمدہ کاروں کو چھوڑ کر مقامی نئی کاروں کی طرف چل پڑتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ دسمبر 2017 سے اب تک مقامی کاروں سے زیادہ درآمدی کاروں کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اوران کی فروخت میں بھی کمی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے قرضوں کی شرح میں ایک فیصد کمی سے بھی نئی کاروں کے کاروبار پراثر پڑے گا کیونکہ کنزیومر کے قرضے مہنگے ہوجائیں گے اور آٹوفنانس حاصل کرنے والوں کی تعداد میں غیر معمولی کمی واقع ہوگی۔ ڈیلرز نے بتایا کہ تین مرتبہ روپے کی قدر میں کمی ہوچکی ہے اور ہرمرتبہ مقامی کاراسمبلرز نے اپنی کاروں کی قیمتیں بڑھائی ہیں اور اب چوتھی مرتبہ قیمتوں میں اضافہ ہوگا توکاروں کی فروخت میں بھی کمی ہوگی اوراب تونان فائلرز بھی کاریں نہیں خرید سکیں گے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ
mm
قاضی جاوید سینئر کامرس ریپورٹر اور کامرس تجزیہ، تفتیشی، اور تجارتی و صنعتی،معاشی تبصرہ نگار کی حیثیت سے کام کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں ۔جسارت کے علاوہ نوائے وقت میں ایوان وقت ،اور ایوان کامرس بھی کرتے رہے ہیں ۔ تکبیر،چینل5اور جرءات کراچی میں بھی کامرس رپورٹر اور ریڈیو پاکستان کراچی سے بھی تجارتی،صنعتی اور معاشی تجزیہ کر تے ہیں qazijavaid61@gmail.com