اقتصادی تعاون بڑھانے کیلیے چین اور یورپی یونین کا اجلاس

67
بیجنگ: چینی وزیراعظم اور یورپی کمیشن اور کونسل کے سربراہان اجلاس کے موقع پر پریس کانفرنس کررہے ہیں
بیجنگ: چینی وزیراعظم اور یورپی کمیشن اور کونسل کے سربراہان اجلاس کے موقع پر پریس کانفرنس کررہے ہیں

بیجنگ (انٹرنیشنل ڈیسک) چین اور یورپی یونین کے رہنماؤں کی سالانہ کانفرنس گزشتہ روز چینی دارالحکومت بیجنگ میں شروع ہو گئی جس میں دو طرفہ سرمایہ کاری کے سمجھوتے کو حتمی شکل دیے جانے کا قوی امکان ہے۔ اپنی نوعیت کی اس بیسویں کانفرنس میں چینی وفد کی قیادت وزیراعظم لی کی چیانگ کر رہے ہیں۔ دوسری جانب اس اہم سربراہی اجلاس میں یورپی کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹْسک اور یورپی کمیشن کے سربراہ ژاں کلاڈینکر بھی شریک ہیں۔ کانفرنس میں فریقین خاص طور پر اپنی توجہ تجارتی امور پر مرکوز رکھیں گے۔ ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن میں اصلاحات کے لیے ممکنہ تجاویز پر بھی بات کی جائے گی۔ چین یورپی یونین کا دوسرا بڑا تجارتی ساتھی ہے۔ دریں اثنا یورپی یونین نے امریکا، روس اور چین سے کہا ہے کہ وہ قریبی رابطہ کاری اور اشتراک سے عالمی تجارتی تناؤ کی صورت حال کو ختم کریں کیوں کہ اگر ایسا نہ ہوا تو یہ افراتفری اور تشدد کا باعث ہو سکتا ہے۔ گزشتہ روز یورپی کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک نے یہ بیان چینی وزیراعظم لی کی چیانگ کے ساتھ چینی دارالحکومت بیجنگ میں ملاقات کے بعد دیا۔ انہوں نے واضح کیا اگر یہی کیفیت برقرار رہی تو یہ عالمی اقتصادیات کے لیے شدید نقصان دہ ہو گی۔ یورپی کمیشن کے سربراہ ژاں کلاڈینکر نے کہا ہے کہ اگر چین چاہے، تو وہ اپنی معیشت کو آزاد بنا سکتا ہے۔ چینی وزیر اعظم لی کی چیانگ اور یورپی کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک کے ساتھ ایک پریس کانفرنس کے دوران ینکر نے چین کی جانب سے ایک جرمن کمپنی کو سرمایہ کاری کی اجازت دیے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر چین چاہے تو وہ بالکل اپنی معیشت کے دروازے کھول سکتا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق یورپی یونین کے رہنما بیجنگ حکومت کو چین میں یورپی کمپنیوں کے لیے ’ٹیکنالوجی ٹرانسفر‘ کے قوانین کے بارے میں بھی اپنے تحفظات سے آگاہ کریں گے۔ علاوہ ازیں کانفرنس کے دوران چین کے ’ون بیلٹ ون روڈ‘ منصوبے اور میانمر، افغانستان، ایران اور شمالی کوریا کی سیاسی صورت پر بھی گفتگو کی جائے گی۔ اقتصادی امور کے ماہرین کے مطابق عالمی تجارت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ’سب سے پہلے امریکا‘ کی پالیسی کے سبب غیر یقینی صورت حال کا شکار ہے۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے چینی اور یورپی مصنوعات پر اضافی محصولات عائد کیے جانے کے بعد عالمی تجارت کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں اور ایسے میں صدر ٹرمپ کی جانب سے مزید چینی اشیا پر اضافی ٹیکس عائد کرنے کی دھمکی کے بعد بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ یہ کشیدگی جلد ختم ہونے والی نہیں ہے۔ اس صورت حال میں چین اور یورپی یونین باہمی اقتصادی تعاون بڑھانے اور عالمی ادارہ تجارت میں اصلاحات پر یکساں موقف اختیار کر کے امریکی پالیسیوں کے منفی اثرات ختم کرنے کی کوششوں میں ہیں۔
چین ؍ یورپ ؍ اجلاس

Print Friendly, PDF & Email
حصہ