نیشنل ایکشن پلان پر عمل ہوتا تو سانحہ مستونگ نہ ہوتا، عمران خان

161
کوئٹہ: پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان سراج رئیسانی کے اہل خانہ سے تعزیت کے بعد دعائے مغفرت کررہے ہیں
کوئٹہ: پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان سراج رئیسانی کے اہل خانہ سے تعزیت کے بعد دعائے مغفرت کررہے ہیں

کوئٹہ/جھنگ (نمائندہ جسارت+آن لائن) تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل ہوتا تو سانحہ مستونگ نہ ہوتا ، انتخابی مہم بند کرنے کے پیغامات ملے مگر ہم نہیں ڈرتے ، شبہ ہے دہشت گردی کے واقعات کا مقصد 25جولائی کے انتخابات میں رخنہ ڈالناہے، منشور پر عمل نہ ہو تو اقتدار میں آنے کا کیا مقصد ۔ کوئٹہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سانحہ مستونگ بڑا سانحہ ہے اس میں 200سے زاید لوگ شہید ہوئے ہیں اس واقعے کے پیچھے پاکستان کے دشمن ہیں جو ملک کے اندر اور باہر بیٹھے ہوئے ہیں شبہ ہے کہ اس دہشت گردی کے واقعے کا مقصد 25جولائی کے انتخابات میں رخنہ ڈالنا ہے۔ لوگوں میں خوف پھیلانے کے لیے ہے ہمیں یہ پیغامات دیے گئے ہیں کہ اپنی ساری الیکشن مہم بند کر دیں جلسے ختم کر دیں اگر ہم ایسا
کریں گے تو دہشت گرد اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائیں گے۔ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم اپنی انتخابی مہم جاری رکھیں گے 25جولائی کا الیکشن پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین الیکشن ہے اسی لیے دہشت گردی ہو رہی ہے ۔سراج رئیسانی بہت محب وطن تھے شاید اسی لیے ان کو ٹارگٹ کیا گیا ہے یہ اپنی پارٹی کا اثاثہ تھے ،مستونگ واقعے سے پورا پاکستان سوگ میں ہے ،سانحہ اے پی ایس کے بعد مستونگ میں بڑا نقصان ہے ہم سب سراج رئیسانی کے اہلخانہ کے ساتھ ہیں ،ملک کو اکٹھا ہونا پڑے گا۔ آنے والے دنوں میں تمام صوبوں میں ایسی حکومتیں آئیں ،وفاق اور صوبے ایک پیج پر ہوں پولیس کو اہم کردار ادا کرنا پڑے گا کیونکہ اندرونی دہشت گردی کی روک تھام کے لیے پولیس سب سے اہم کردار اداکر سکتی ہے ،فوج ، پولیس، ایجنسیاں اور سویلین ادارے ملکر دہشت گردی کو شکست دیں گے ،اللہ کا شکر ہے کہ ہم دہشت گردی پر کافی حد تک قابو پا چکے ہیں، دہشت گردی کو شکست دینے کے لیے نیشنل ایکشن پلان بنا تھا اس پر کتنا عمل ہوا ہے سب کے سامنے ہے نیشنل ایکشن پلان پر عمل نہ ہونے کی وجہ سے آج ملک کو مشکلات کا سامنا ہے ۔ن لیگ کے ساتھ مخلوط حکومت بنانے کے سوال پر عمران خان نے کہا کہ جب آپ اپنے منشور پر عملدرآمد نہیں کر سکتے تو اقتدار میں آنے کا کیا مقصد ہے ۔ 2013ء کے انتخابات میں اسٹیبلیشمنٹ نے ن لیگ کی مدد کی منظم دھاندلی ہوئی تھی، دھاندلی میں شہباز شریف پوری طرح ملوث تھا ،اس لیے ان کو آج ڈر لگا ہوا ہے کیونکہ اپنے امپائر نہیں ہیں نیوٹرل امپائر سے یہ میچ کھیل نہیں سکتے ۔عمران خان نے کوئٹہ میں سراج رئیسانی کے اہلخانہ سے تعزیت اور اسپتالوں میں سانحہ مستونگ کے زخمیوں کی عیادت کی۔علاوہ ازیں چیئرمین پی ٹی آئی نے جھنگ انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 25جولائی کو ملک بھر سے کلین سوئپ کریں گے، شہباز شریف نے پنجاب کا آدھا فنڈ لاہور پر لگایا، ملتان میٹرو بس خالی چل رہی ہے، الیکشن جیتے تو ایک بہترین بلدیاتی نظام کو لے کر آئیں گے ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ