شعور کو جگائیں ورنہ نصیب سو جائے گا ہوا کی زد میں چراغ اپنا

59

کرن وسیم
الیکشن قریب آتے ہی ملک کا ہر فرد ارادی و غیر ارادی طور پر اس حوالے سے سوچنے لگتا ہے۔ 5 سالہ غیر حاضری اور بے عملی کا ہائبرنیشن پیریڈ گزار کر سیاسی جماعتوں کے امیدواران دوبارہ اپنے حلقہ میں نظر آنے لگتے ہیں۔ مختلف سیاسی جماعتیں خوش نما اور امید افزا منشور کے ذریعے روشن مستقبل کے سنہرے خواب عوام کو دکھاتی ہیں، جو الیکشن کے اگلے 5 سال تک خواب ہی رہتے ہیں۔ پاکستانی عوام کی مستقل مزاجی بھی حیران کن ہے کہ ان خوابوں کا تسلسل برقرار رکھنے کے لیے پھر ان ہی سیاسی شعبدہ بازوں کو ووٹ دے کر اسمبلیوں میں پہنچاتے ہیں۔ دین کو سیاست سے الگ سمجھنے کا یہی نتیجہ ہے کہ ہربار لادین اور خوف خدا سے عاری حکمران ہم پر مسلط ہوجاتے ہیں،جو ملکی وسائل اور عوام سے حاصل شدہ ٹیکس کی رقوم سے اپنی ذاتی جائداد اور بین الاقوامی اکاؤنٹس میں اضافہ کرنے کا کام دلجمعی سے انجام دیتے ہیں۔
پھر ان کی کرپشن،بے عملی اور فرائض سے غفلت و لاپروائی کا ڈھنڈورا اگلے الیکشن تک پیٹا جاتا ہے۔ اپنے نصیبوں کو رویا جاتا ہے۔ پھر الیکشن کا یہی کھیل دہرایا جاتا ہے۔یہ ہے اس مملکت خداداد کے باشعور عوام کا 70 سالہ انتخابی ریکارڈ۔
کچھ سال پیشتر تبدیلی کے نعروں کی لہر نے ہمارے نوجوانوں اور مثبت تبدیلی کے حامی افراد کو مسحور کیا،لیکن اب اہل عقل و دانش اس نام نہاد تبدیلی کے تباہ کن اثرات کا بغور مشاہدہ کررہے ہیں۔جس طرح تبدیلی کا یہ سونامی میڈیا کے ذہن سازی ایجنڈے کے ذریعے ناپختہ ذہنوں پر مسلط ہورہا ہے،نوجوان نسل کا اخلاق وکردار، دین سے ناواقفیت اور بے عملی کا حال کسی سے ڈھکا چھپا نہیں رہا۔ عدم برداشت اور زبان درازی ان تبدیلی کے دعویداروں کی پہچان بن گئی ہے جو کوئی ہلکی سی بات بھی طبیعت کے خلاف برداشت کرنے کو تیار نہیں۔ عمر، رتبہ اور اقدار کا لحاظ کیے بغیر بے دھڑک بد زبانی کرنے والی یہ نسل کس قسم کی تبدیلی کا پیش خیمہ ہے یہ سوچ کر خوف آتا ہے۔ سوشل میڈیا پر جھوٹ،بدتمیزی اور مخالفین کو گالم گلوچ کا ایک طوفان ہے جس کا شکوہ سوشل میڈیا استعمال کرنے والا ہر طبقے کا فرد کررہا ہے۔ جلسوں اور دھرنوں میں دی گئی بد تہذیبی کی تربیت اب ہر طرف اپنا رنگ دکھارہی ہے۔ بالفرض اگر یہ اقتدار میں آتے ہیں تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ ملکی معاملات میں بیرونی

قوتوں کی مداخلت بھی حددرجہ بڑھ جائے گی کیونکہ عمران خان بحر حال ن لیگ اور پی پی سے بہت مخالفت کے باوجود خارجہ پالیسی اور بین الاقوامی معاملات میں ان دونوں پارٹیوں سے کچھ زیادہ مختلف نہیں۔ جن لوگوں کے ساتھ مل کر اب یہ اختیارات کی جنگ لڑنے چلے ہیں وہ افراد ذیادہ تر اِن ہی دونوں پارٹیوں کے سابقہ کارکن یا عہدیدار ہیں جنہیں الیکٹیبلز کے نام پر الیکشن لڑنے کے لیے آگے لایا گیا ہے۔ وہی کرپٹ، موقع پرست اور قومی مفادات کا سودا کرنے والے جو دوسری جماعتوں کو چھوڑ کر سونامی کی لہر میں اپنی ذاتی اغراض کے لیے شامل ہوئے،ان تمام حقائق سے صرف نظر کرتے ہوئے ملک کی باگ ڈور ان کے ہاتھ میں دے دی جائے تو کسی طرح کی مثبت تبدیلی کی امید عبث ہے۔ اب اس موقع پر ملک کے عوام کو اپنا سیاسی شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنا اور اپنی آئندہ نسلوں کا مستقبل کن ہاتھوں میں دینا چاہتے ہیں۔ اس طرح کے اجتماعی معاملات کا فیصلہ جذباتیت اور لااُبالی پن سے کرنا قطعی مناسب نہیں ہے۔ موجودہ سیاسی منظرنامے میں دینی جماعتوں کا اتحاد ایم ایم اے بھی متبادل کے طور پر موجود ہے۔ یہ وہ جماعتیں ہیں جن کی عوامی فلاحی سرگر میاں الیکشن اور کسی بھی طرح کی عوامی ستائش کے بغیر بھی سارا سال ہی جاری رہتی ہیں۔ آزمائے ہوؤں کو دوبارہ آزمانے کی بے وقوفی دہرانے سے بہتر کیا یہ نہیں ہے کہ ہم اسلام کو نظام ریاست بنانے کی دعوے دار اس جماعت کو منتخب کرکے اس مملکت خداداد کا اسلامی تشخص اور اپنا مستقبل محفوظ کرلیں۔ آخرکار دنیا میں دی گئی گواہیوں کا آخرت میں بھی جواب دینا ہے۔ ووٹ بھی گواہی کا درجہ رکھتا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ