ہر چوتھے روز تولیہ بدلیے ۔۔ یا دھو ڈالیے

59

مہر النساء
بچوں والے گھروں میں احتیاط کی اور زیادہ ضرورت ہے، خاص طور پر گرمیوں کے موسم میں۔ موسم سرما میں بھی بعض جلدی امراض اور الرجی کی اقسام سے جلد متاثر ہوتی ہے۔ اس لیے ماہرین طب ضروری سمجھتے ہیں کہ آپ کے تولیے کا ہر چوتھے روز دھلنا یا بدلنا ضروری ہے۔
اگر مرکزی کمرے میں ایک تولیہ 3 افراد کے استعمال میں ہو تب تو یہ احتیاط لازمی ہوتی ہے۔ ہر باتھ روم میں تولیہ اضافی طور پر ہونا چاہیے۔ تولیوں کی تعداد کچھ بڑھالیں اور جاذب ریشے والے میٹریل کا تولیہ خریدیں۔ ہمیشہ دن کی روشنی میں تولیے دھونے چاہییں اور تازہ ہوا میں تا دیر سوکھنے دیں۔
جن گھروں میں یا خصوصاً فلیٹوں کے مکینوں کو کپڑے سکھانے کا مسئلہ رہتا ہے۔ تنگ و تاریک فضا یا ایک ہی مختصر سے رقبے پر مشتمل گیلری میں آپ دیگر کپڑوں کے ساتھ تولیوں کی جگہ کیسے نکالیں گی لیکن اپنے کام کو اس طرح منظم کیجیے کہ ایک دن تولیوں کی دھلائی کے لیے مخصوص کردیجیے۔ اپنے ہاتھوں سے کپڑے دھوتے وقت اپنی جلد کی حساسیت کو ضرور مدنظر رکھیں۔ کوئی تیز ڈٹرجنٹ یا بلیچ کا محلول تا دیر ہاتھوں پر نہ لگا رہنے دیں۔
جہاں الماری میں تولیے رکھے جاتے ہیں وہاں کوئی خوشبو رکھ دی جائے تو بہت دن تک یہ ڈٹرجنٹ والی مخصوص خوشبو سے بچے رہیں گے اور بھینی بھینی خوشبو ریشوں میں بس کر انہیں مہکاتی اور آپ کو لبھاتی رہے گی۔
خاص کر بارش کے دنوں میں سورج بھی اپنی پوری آب و تاب سے نہیں نکلتا۔ ان دنوں میں تولیوں کا دھونا اور پھر انہیں سکھانا بڑا مسئلہ ہوتا ہے۔ پھر ایسا کیجیے کہ انہیں خشک جگہ پر پھیلائے رکھیے اور گرم استری استعمال کریں کیونکہ آپ محسوس کریں گی اچھا خاصا ڈٹرجنٹ استعمال کرکے اور بار بار پانی بدل کر بھی تولیوں کی بدبو نہیں گئی یہ بدبو دراصل میل جمنے کی وجہ سے نہیں ہوتی یہ صرف بھرپور روشنی، دھوپ اور ہوا میں نہ سکھانے کی وجہ سے ان میں بس جاتی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ