مشتاق یوسفی کی یاد میں ادبی نشست

119

پاکستان رائٹرز کلب اینڈ لیڈیز چیپٹر کی جانب سے ادبی شخصیت اور مزاح نگار مرحوم مشتاق احمد یوسفی کی یاد میں ایک شاندار تقریب کا اہتمام کیا گیاجس میں ریاض کی معروف اور ادبی شخصیات نے شرکت کی۔ اس موقع پر مرحوم مشتاق احمد یوسفی کی مزاح سے بھرپور تحریروں اور نظموں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ تقریب کا انعقاد نالج کور اکیڈمی میں کیا گیا۔ جس کا آگاز تلاوت قرآن پاک سے کیا گیا۔ بعد ازاں عاشق حسین اور عمر خالد نے اپنی پرسوز اور منفرد آواز میں حمد اور نعت کا نذرانہ پیش کیا۔
تقریب کے مہمان خصوصی ہشام احمد سید اور قاضی اسحاق تھے۔ نظامت کے فرائض یوسف علی یوسف نے انجام دیے۔ تقریب دو حصوں نثر اور نظم پر مشتمل تھی۔ نثری حصے کا آغاز پاکستان رائٹرز ز کلب کے صدر فیاض ملک نے مشتاق احمد یوسفی کے انداز بیاں پر روشنی ڈالتے ہوئے ان کے منفرد اور مزاح سے بھرپور لہجے کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کیا۔لیڈیز چیپٹر کی ڈپٹی کنوینیئر شمائلہ ملک نے مشتاق احمد یوسفی کے ایک فکاہیہ مضمون ’پڑے گر بیمار‘ سے منتخب اقتباسات کو اپنی پرسوز آواز میں سامعین کے گوش گزار کیا اور خوب داد وصول کی۔
تقریب کے مہمان خصوصی ہشام احمد سید نے مرحوم یوسفی کے حوالے سے کہا کہ ان جیسا مزاح نگار ہزاروں میں سے شاید کوئی ایک ہی ہوتا ہو۔ اور ان کی وفات ان کے عہد کا خاتمہ نہیںبلکہ ان کا آغاز ہے۔ ان کی نثر و نظموں کو آنے والی نسلیں بھی سراہیں گی۔ ساجدہ چودھری نے مرحوم مشتاق احمد یوسفی کی ذات اور ان کی مزاح سے بھرپور تحریروں کو خوب سراہا اور چند خوبصورت اشعار کے ذریعے ان کو خراج عقیدت پیش کیا۔ قاضی اسحاق صاحب نے بھی رائٹرز کلب کی کوششوں کو سراہتے ہوئے مرحوم یوسفی صاحب کی مزاحیہ ادب پر روشنی ڈالی۔
تقریب کے دوسرے حصے میں ریاض کے شعرا نے بھرپور انداز میں حصہ لے کر مرحوم یوسفی کو خراج عقیدت پیش کیا۔جن میں یوسف علی یوسف ، زبیر بھٹی ، سلیم کاوش ، ساجدہ چودھری ، محسن رضا ، صدف فریدی اور ہشام سید نے مزاحیہ اور طنزیہ نظموں اور اشعار کے ذریعے حاضرین سے داد وصول کی۔ یوسف علی یوسف نے نظامت کے فرائض بخو بی انجام دیے اور شعرا کو اعزازی سرٹیفکیٹ سے نوازا گیا۔ تقریب کا اختتام پر تکلف عشایئے سے کیا گیا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ