کراچی نے کتاب کے حق میں فیصلہ دیدیا،متحدہ مجلس عمل 

387
کراچی: متحدہ مجلس عمل کے تحت باغ جناح میں جلسہ عام سے مولانا فضل الرحمن‘ سراج الحق‘ انس نورانی‘ مولانا غفور حیدری‘ عارف حسین واحدی اورمحمد علی بوتراب خطاب کررہے ہیں
کراچی: متحدہ مجلس عمل کے تحت باغ جناح میں جلسہ عام سے مولانا فضل الرحمن‘ سراج الحق‘ انس نورانی‘ مولانا غفور حیدری‘ عارف حسین واحدی اورمحمد علی بوتراب خطاب کررہے ہیں

کراچی (اسٹاف رپورٹر)متحدہ مجلس عمل کے رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان کو اسلامی اور خوشحال پاکستان بنائیں گے ،پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ کی جدوجہد جاری رہے گی ، حکومت ملی تو سودی نظام کا خاتمہ کریں گے ، ہم وہ نظام چاہتے ہیں جس میں چیف جسٹس کے ہاتھ میں انگریز کی کتاب کے بجائے قرآن کی کتاب ہو ، 2018کا الیکشن کلچر ، غیرت اور بے غیرتی مسجد اور ڈانس ، کرپشن اور نظریات کے درمیان مقابلہ ہے جو کتاب کو ووٹ دے گا وہ نظام مصطفی کو ووٹ دے گا،۔انقلاب اور تبدیلی صرف کتاب ہی لاسکتی ہے۔ ہم کراچی کو ایسا شہر بنائیں گے جس کی حکومت کے ماتحت تمام ادارے ہوں اور کراچی کے مسائل حل ہو۔ہم پانی کے مسئلے کے حل کے لیے پانی کے تمام منصوبے مکمل کریں گے ،آج عوام کی عدالت لگی ہوئی ہے اور عوام اپنی عدالت میں ان حکمرانوں اور ٹولے کو دوبارہ مسلط نہ ہونے کا فیصلہ دیں ،آج مجلس عمل کی صورت میں عوام کے لیے ایک امید کی کرن ہے اور علما کرام کی قیادت میں ملک کی کشتی کو بھنور سے اور قوم کو بحران سے نجات دلائی جاسکتی ہے ،بلٹ کے ذریعے نہیں بیلٹ کے ذریعے سے نظام مصطفی نافذ کریں گے ، کراچی میں امن لائیں گے ،ریاست کو سیکولر و لبرل نہیں بننے دیں گے،اگر ایم ایم اے کے مینڈیٹ کو چور ی کیا گیا تو پھر دمادم مست قلندرہوگا۔ان خیالا ت کا اظہار متحدہ مجلس عمل کے صدر مولانا فضل الرحمن ، سینئر نائب صدر سینیٹر سراج الحق ، مرکزی رہنما اویس نورانی ، عارف حسین واحدی،غفور حیدری اوردیگر نے اتوار کو مجلس عمل کراچی کے تحت باغ جناح میں ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کے دورن کہی۔اس موقع پرایم ایم اے کے قومی و صوبائی حلقوں سے انتخاب میں حصہ لینے والے امیدوار اور دیگر رہنما ؤں نے بھی خطاب کیا۔ اجتماع میں NA۔245کے امیدوار سیف الدین ایڈوکیٹ نے مارٹن کواٹر کے مکینوں کے ملکیتی حقوق دلوانے کے حوالے سے قرارد بھی پیش کی۔متحدہ مجلس عمل پاکستان کے صدر مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ پاکستان 70سالوں سے مذہب بیزار طبقے کے قبضے میں ہے ، ملک کا سیاسی و معاشی نظام مذہب بیزار طبقے کے ہاتھ میں رہا ہے۔ عوام کو ایک بار پھر موقع مل رہا ہے کہ اپنے اور ملک کے مستقبل کی بہتری کے لیے ایسی قیادت کو ووٹ دیں جو ملک میں اسلامی نظام نافذ کرے اور عوام کو مسائل سے نجات دلائے۔انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ تلواروں سے نہیں ووٹ کی پرچی سے لڑی جارہی ہے آج اسے حق کے لیے استعمال کیا گیاتو حق جیت جائے گا۔ووٹ کی پرچی سے ملک کا نظام اور اقتدار تبدیل ہوسکتاہے۔ماضی میں ملک پر مسلط رہنے والے عوام کو کچھ نہیں د ے سکتے۔اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کو کبھی منظور نہیں کیا گیا۔انہوں نے کہاکہ آج ملک کے اندر عوام کی جان و مال محفوظ نہیں ہے جو ریاست کی ذمہ داری ہے 70سالوں میں یہ عوام کو حقوق اور تحفظ نہیں دے سکے اب اس طبقے اور ٹولے کو اقتدار میں رہنے کا کوئی حق نہیں۔آج عوام کی عدالت لگی ہوئی ہے اور عوام اپنی عدالت میں ان حکمرانوں اور ٹولے کو دوبارہ مسلط نہ ہونے کا فیصلہ دیں۔انہوں نے کہاکہ آج ملک قرضوں میں جکڑا ہواہے اور ورلڈبنگ اور آئی ایم ایف کے کہنے کے مطابق ہی ہمارا بجٹ بنتا ہے۔مجلس عمل کی جب خیبر پختونخواہ میں حکمرانی تھی تو صوبے پر 80ارب روپے کا قرضہ تھا لیکن آج وہ صوبہ 350ارب روپے کا مقروض ہے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کے بانی نے ملک کی معیشت قرآن و سنت پر رکھی تھی لیکن حکمرانوں نے قائد اعظم کے فرمان اور قرآن کے خلاف ملک کی معیشت سودی بنادی۔آج ملک کے اندر پانی کا بحران ہے ،پاکستان کی زراعت کی حالت بہت خراب ہے۔حکمران ملک کے دریاؤں اور زاعت کا تحفظ نہیں کرسکے۔انہوں نے کہاکہ پارلیمنٹ کے اند ر ایک جماعت نے مذہب اور سیاست کو الگ الگ کرنے کی بات کی ہم نے اس کا مقابلہ کیا ایک جماعت نے قرارداد مقاصد کو آئین سے نکالنے کا کہا ہم نے اس کی مخالفت کی۔ انہوں نے کہاکہ کراچی میں لسانیت ، علاقائیت اور قومیت کے نام پر عوام کو لڑایا گیا اور لوگوں کا قتل عام کیا گیا۔ملک کی سیاست کے اندر سے لسانیت، قومیت اور تعصبات کو ختم ہونا چاہیئے۔ اسلام ہی ان خرابیوں کو دور کرسکتا ہے اور ہر طرح کے تعصبات سے بالاتر ہوکر ملک کو آگے لے کر چل سکتا ہے۔ اسلام کی قوت اور طاقت سے مغربی ، یہودی اور سیکولر لابی کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے ، آج مجلس عمل کی صورت میں عوام کے لیے ایک امید کی کرن ہے اور علما کرام کی قیادت میں ملک کی کشتی کو بھنور سے اور قوم کو بحران سے نجات دلائی جاسکتی ہے۔ملک کے نظام کو تبدیل کرنا ہے تو ان قوتوں کو ہٹانا ہوگا جو بے حیائی اور فحاشی کو فروغ دے رہی ہیں ، علما اگر نوجوان نسل کو برداشت کا درس ن ہ دیتے تو آج پاکستان کا نقشہ کچھ اور ہوتا۔مجلس عمل کے سینیئر نائب صدر سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ پاکستان کو اسلامی اور خوشحال پاکستان بنائیں گے ، قائد اعظم کی وفات کے بعد ملک پر جو قیادت قابض ہوئیاس نے ملک اور قائد کے وڑن سے دور کردیا۔ پاکستان کا آئین ایک اسلامی آئین ہے اور ہم اس آئین کے مطابق اس ملک کو اسلامی مملکت بنانا چاہتے ہیں ، ہم خون کے آخری قطرے تک ملک کے اندر اسلامی نظام اور شریعت محمدی ? کے نفاذ کی جدوجہد جاری رہے گی۔ ہمیں حکومت ملی تو شریعت نافذ کریں گے ، عشر وزکوٰۃ کا نظام لائیں گے ، سودی نظام معیشت کا خاتمہ کریں گے۔زمین کی پیداوار اور کارخانے کی آمدنی جب مزدور کا حصہ ہوگا عدالت کے اندر فیصلہ قرآن کے مطابق ہوگا۔انہوں نے کہاکہ ملک کے اندر کرپشن سے پاک نظام صرف اسلام کے عادلانہ اصولوں پر عمل کرکے ہی کیا جاسکتا ہے ،انسانوں کے دلوں کو تبدیل کیے بغیر ،کردار سازی کیے بغیر رشوت ،جھوٹ اور کرپشن کا خاتمہ نہیں کیا جاسکتا۔ آج ملک کو قوم کو ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو امریکا اور مغرب کی طرف دیکھنے والی نہ ہو بلکہ مکہ اور مدینہ والی قیادت ہو جو جرات مندی اور بہادری کے ساتھ حالات کا مقابلہ کرسکے۔ انہوں نے کہاکہ ووٹ دینا ایک دینی فریضہ اور جہاد ہے اس ووٹ کی پرچی سے عوام اپنے اوپر مسلط رہنے والوں کو مسترد کر کے نئی اور ایماندار قیادت لاسکتے ہیں۔عوام کے پاس 25جولائی کو بہترین موقع ہے کہ اپنے ووٹ کی طاقت سے ماضی کے حکمرانوں سے انتقام لیں اور ان کا احتساب کریں۔حکمرانوں نے ملک و قوم کو ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کا مقروض بنادیا ہے۔قومی بجٹ کا بڑا حصہ سودے قرضے کی ادائیگی پر صرف ہوجاتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ مجلس عمل کے پاس ایک متبادل نظام ہے جو کتاب کو ووٹ دے گا۔ہمارے ساتھ کوئی ایسا نہیں جن کا نام پاناما لیکس میں ہو ، جو قرضے ہڑپ کرنے والے ہوں۔ ہم ملک کے دفاع کے بعد سب سے زیادہ خرچ تعلیم پر کریں گے اور تعلیم کو مفت اور عام کریں گے۔انہوں نے کہاکہ ووٹ کو عزت تب ملے گی جب شریعت کو عزت ملے گی اسلام کو عزت ملے گی ،خواتین اور بچوں کو عزت ملے گی۔ جب کراچی میں لاشیں گررہی تھیں تو یہ لوگ کہا ں تھے ؟جو آج الیکشن لڑنے کراچی آگئے ہیں۔ جبر و تشدد اور خوف و دہشت کے ماحول میں ہم ہی تھے جو کھڑے ہوئے تھے اور امن واخوت اور محبت کی بات کررہے تھے۔ انقلاب اور تبدیلی صرف کتاب ہی لاسکتی ہے۔ ہم کراچی کو ایسا شہر بنائیں گے جس کی حکومت کے ماتحت تمام ادارے ہوں اور کراچی کے مسائل حل ہو۔ہم پانی کے مسئلے کے حل کے لیے پانی کے تمام منصوبے مکمل کریں گے۔ جمعیت علمائے پاکستان کے سربراہ اور مجلس عمل کے مرکزی نائب صدر علامہ صاحبزادہ اویس نورانی نے کہاکہ 26جولائی کا سورج مجلس عمل کی کامیابی کا پیغام لے کر طلوع ہوگا۔ جنرل پرویز مشرف نے امریکا کو پاکستان کے اندر کھلی آزادی دے کر ملک کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں۔کراچی میں ایم کیوا یم کی سرپرستی کی گئی اور عوام کو دہشت گردوں ، بھتا خوروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ، کراچی کو لاشوں کا تحفہ دیا۔ 26سال تک شہر کا مینڈیٹ چوری کیا گیا۔کراچی میں ہم نے حالات کے جبر کا مقابلہ کیا اور اپنے بزرگوں کے پیغام کو پھیلاتے رہے ان تمام حالات کی ذمے داری آمروں پر عاید ہوتی ہے لیکن وقت آگیا ہے کہ حالات تبدیل کریں اب بلٹ سے نہیں بیلٹ سے فیصلہ ہوگا اور کراچی کے عوام کتاب کے نشان پر مہر لگاکر مجلس عمل کی قیادت کو کامیاب بنائیں گے امریکا کے غلاموں اور را کے ایجنٹوں کو مسترد کر دیں گے۔مرکزی سیکرٹری جنرل اسلامی تحریک اور مجلس عمل کے مرکزی رہنما عارف حسین واحدی نے کہاکہ مجلس عمل کے آج جلسے نے سیکولر اور لبرل قوتوں کو مایوس اور ناامید کردیا ہے ، آج مزار قائد کے پہلو میں عہد کرتے ہیں کہ اس ملک کو قائد اعظم کے مشن اور وژن کے مطابق لا الہ الا اللہ کی بنیاد پر تعمیر کریں گے اور وطن عزیز کو اسلام کا قلعہ بنائیں گے۔ ملک کے اندر سے سودی نظام معیشت اور کرپشن کا خاتمہ کریں گے۔ کشمیر و فلسطین کی آزادی کی جدوجہد میں آگے بڑھ کر ان کا ساتھ دیں گے اور پورے ملک کے مسائل پر آواز اٹھائیں گے۔ مجلس عمل کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا غفور حیدری نے کہاکہ آج کراچی کے عوام نے مجلس عمل کے منشور اور پروگرام پر اعتماد کا بھر پور اظہار کر دیا ہے۔ ہمارا عزم ہے کہ ملک کو اسلامی فلاحی ریاست بنائیں گے سب کے ساتھ انصاف ہوگا، ہم ملک میں ایسا نظام لائیں گے جس میں عوام کے مسائل حل ہوں گے، عوام ختم نبوت کے حلف نامے میں ترمیم کرانے کی کوشش کرانے والوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ مجلس عمل اور مرکزی جمعیت اہلحدیث کے مرکزی رہنما علامہ علی محمد ابو تراب نے کہا کہ ہمارا مقصد اور منشور ملک میں نظام مصطفی کا قیام ہے، 25 جولائی کا دن کتاب کی فتح کا دن ہوگا، مجلس عمل کا سفید پرچم امن ومحبت ا ور ایمان اور قرآن کی علامت ہے۔ ملک کے اندر دہشت گردی کے واقعات ملک کو کمزور کرنے کی سازش ہے۔ ہمیں اس سازشوں کو ناکام بنانا ہے اور ملک کو محفوظ اور مستحکم بنانا ہے۔ مجلس عمل سندھ کے صدر مولانا راشد سومرو نے کہا کہ آج کراچی میں عظیم الشان جلسہ عام پر کراچی کے صدر حافظ نعیم الرحمن کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ مجلس عمل کی قیادت کراچی اور سندھ کے مسائل سے واقف ہے اور یہ قیادت ہی عوام کے مسائل حل کراسکتی ہے۔ عوام 25 جولائی کو کتاب کے نشان پر مہر لگاکر سندھ کو جاگیرداروں‘ وڈیروں اور کراچی میں قابض ٹولے سے نجات حاصل کریں گے۔ پیپلزپارٹی کی قیادت سے ہمارا سوال ہے کہ ان کی حکومت اپنی قائد بے نظیر کے قاتلوں کو گرفتار نہ کراسکی تو وہ سندھ کے عوام کے مسائل کس طرح حل کرے گی وہ پہلے بھی حکومت کر چکی ہے اب پھر حکومت مل گئی توکیا کرے گی۔ مجلس عمل سندھ کے سینئر نائب صدر ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی نے کہا کہ آج شہر کراچی نے15 جولائی کو25 جولائی کا فیصلہ دے دیا ہے اور یہ فیصلہ کراچی کی تعمیر وترقی کا فیصلہ ہے مجلس عمل کی کامیابی کا اعلان ہے۔ اب لوٹوں کی بارات واپس جائے گی‘ لوٹوں کی حکومت کرنے کا خواب کبھی پورا نہیں ہوگا۔ متحدہ مجلس عمل کراچی کے صدر حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ آج ملک میں خوف کی فضا کے باوجود ایک تاریخی جلسہ عام نے ثابت کر دیا ہے کراچی کو روشنیوں کا شہر بنایا جائے گا۔25 جولائی کا دن شہر کے اندر سے تاریکیوں کے خاتمے کا دن ثابت ہوگا۔ کراچی کے اندر30 سال کا دور انتہائی اندوہناک اور بدترین رہا ہے۔ لسانیت وعصبیت کی بنیاد پر عوام کو تقسیم کیا گیا اور قتل عام کرایا گیا، جن لوگوں نے حقوق دلانے کا وعدہ اور نعرہ دیا ان ہی لوگوں نے عوام کو دھوکا دیا۔ عوام کے میندیٹ کو یرغمال بنایا گیا اور اسے وڈیروں اور جاگیرداروں کے ہاتھوں فروخت کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ آج جو لوگ باہر سے آکر کراچی کے عوام کو حقوق دلانے کی بات کر رہے ہیں ان کو کراچی کے مسائل کا کچھ پتا ہی نہیں ہے۔ صرف الیکشن لڑنے کے لیے کراچی آکر کراچی کے حقوق نہیں دلائے جاسکتے۔ کراچی کے اندر اصل متبادل قوت مجلس عمل ہی ہے۔ آج کراچی میں پانی کا شدید بحران ہے۔ پیپلزپارٹی اور ایم کیوایم نے یہ مسئلہ حل نہیں کیا آج یہ دونوں جماعتیں کس منہ سے کراچی کے عوام سے ووٹ مانگ رہی ہیں ان کو شرم آنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے کراچی کے عوام کو کے الیکٹرک اور نادرا کے مظالم سے نجات دلائی۔ عوامی جد وجہد کے باعث آج کے الیکٹرک کے نرخوں میں اضافے کی درخواست کو نیپرا نے مسترد کر دیا ہے۔ ہم نے نادرا کے ایس او پی میں تبدیلی کرائی ہے جس سے کراچی کے لاکھوں افراد کو فائدہ ہوا۔ ہم ہی کراچی کے عوام کو بجلی، پانی اور ٹرانسپورٹ سمیت دیگر مسائل سے نجات دلائیں گے۔ ڈاکٹر اسامہ رضی نے کہا کہ متحدہ مجلس عمل کا آج کا جلسہ عام کراچی میں تبدیلی کا عنوان اور نشان بن کر سامنے آیا ہے۔ کراچی ہمیشہ اسلام اور پاکستان سے محبت کرنے والوں کا شہر رہا ہے۔ مرکزی جمعیت اہلحدیث کے مرکزی نائب صدر اور مجلس عمل سندھ کے نائب صدر مولانا محمد یوسف قصوری نے کہا کہ مجلس عمل موم کی ناک نہیں جس طرف چاہے موڑ دیا جائے یہ وہ مکا ہے جو پانچوں انگلیاں مل کر بنتا ہے اس میں تمام مسالک اور مکتب فکر کی قوت اور طاقت ہے اس طاقت سے لادین قوتوں اور سیکولر لابی کو شکست دی جائے گی۔ ہم اعلان کرتے ہیں کہ کراچی سمیت پورے سندھ میں اہلحدیث علما اور پیروکاروں کا ووٹ کتاب کے لیے ہوگا۔ سابق رکن قومی اسمبلی اور مجلس عمل کے مرکزی رہنما اسد اللہ بھٹو نے کہا کہ عوام 25 جولائی کو امریکا کے یاروں اور قوم کو لوٹنے والوں کو مسترد کر دیں گے۔ سابقہ حکمران ٹولے کو اب دوبارہ حکمرانی نہیں ملے گی، مجلس عمل ملکی آئین کی اسلامی دفعات اور ختم نبوت وتوہین رسالت کے قوانین کا تحفظ کرے گی۔ اسلامی تحریک سندھ کے صدر اور مجلس عمل سندھ کے جنرل سیکرٹری مولانا ناظر عباس تقوی نے کہا کہ عوام بم دھماکوں سے خوفزدہ نہیں ہوں گے بلکہ 25 جولائی کو سروں پر کفن باندھ کر گھروں سے نکلیں گے اور ملک میں نظام مصطفی کا نفاذ کر کے دم لیں گے اور کتاب کے نشان پر مُہر لگاکر مجلس عمل کو کامیاب بنائیں گے، مجلس عمل عوام کی حقیقی ترجمان ہے۔ مجلس عمل ملک کی داخلی اور خارجہ پالیسی کو ازسر نو مرتب کرے گی۔ امریکا، بھارت اور اسرائیل کی سازشوں اور ریشہ دوانیوں کا سد باب کیا جائے گا۔ کشمیر اور فلسطین کی آزادی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔ جمعیت علمائے اسلام اور مجلس عمل کے مرکزی رہنما محمد اسلم غوری نے کہا کہ 25 جولائی کو اس شہر کے اندر سے ٹھپا مافیا اور عوام کو یرغمال بنانے والوں کو ان کی اصل حیثیت سے آگاہ کردیں گے۔ آج کا جلسہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس شہر کے اندر چوروں ، بھتہ خوروں کا دور ختم ہوگیا ہے۔ 25 جولائی کتاب کی کامیابی کا دن ہوگا۔ جمعیت علمائے پاکستان کے رہنما انجینئر سلیم احمد نے کہا کہ اب قت آگیا ہے کہ کراچی کے دہشت گردوں اور راکے ایجنٹوں سے آزاد کرایا جائے۔ کتاب کی کامیابی ہی عوام کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ مجلس عمل کراچی کے نائب صدر سید عامر نجیب نے کہا کہ کراچی کا مقدمہ مجلس عمل ہی نے لڑا ہے۔ 30 سال سے کراچی میں مسلط ٹولے نے شہر کو تعصبات اور نفرت کی آگ میں جھونک دیا ہے۔ مجلس عمل کے نائب صدر اور اسلامی تحریک کے رہنما مولانا غلام محمد کراروی نے کہا کہ آج کا جلسہ عام اس بات کا ثبوت ہے کہ کراچی کے عوام بیدار ہیں اور مجلس عمل کے ساتھ ہیں۔ مجلس عمل کے رہنما قاری عثمان نے کہا کہ ہم کراچی اور ملک کو امن کا گہوارہ بنائیں گے۔ جمعیت علمائے پاکستان اور مجلس عمل کے رہنما مفتی غوث صابری نے کہا کہ کراچی علم و محبت اور امن واخوت کا گہوارہ تھا مگر چند مفاد پرستوں نے اس شہر کو تباہ وبرباد کردیا‘ عوام کتاب کے نشان پر مہر لگا کر اپنے شہر کا مستقبل محفوظ بنائیں۔مجلس عمل کے سابق صوبائی پارلیمانی لیڈر مولانا عمر صادق نے کہا کہ ہم پاکستان کو اس کے اصل مقصد سے روشناس کرائیں گے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ