پاکستان میں جمہورت پر خود کش حملے 

69

میر افسر امان
2018 کے الیکشن کی گہما گمی شروع ہی ہوئی تھی کہ پاکستان اور جمہوریت دشمنوں نے جمہوریت پر حملے شروع کر دیے۔ ان میں پشاور میں نیشنل عوامی پارٹی کے امیدوار، بنوں میں ایم ایم اے کے امیدوار، مستونگ میں بلوچستان عوامی پارٹی کے امیدواروں پر خود کش حملے کیے گئے۔ جن میں بے قصور عوام اور کچھ لیڈروں کو بے دردری سے شہید کر دیا گیا۔ ایک ہی ہفتہ کے اندر اتنی زیادہ شہادتیں اور حملے لمحہ فکر ہے۔ اس پر پاکستان کے سارے اداروں کو مل جل کر غور و فکر کرنی چاہیے۔ دشمن تو اعلانیہ اور بار بار کہہ چکا ہے وہ پاکستان کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے رہے گا۔ اس سے قبل بھی وہ پاکستان میں تباہی پھیلاتا رہا ہے۔ دشمن نہیں چاہتا کہ پاکستان میں جمہورت پھلے پھولے۔ دشمن نے ایک طرف پاکستان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ۔ دوسری طرف بھارت، اسرائیل اور امریکا کے کنٹرول میں چلنے والے والے دجالی میڈیا نے پاکستان اور دنیا میں مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دینے کی مہم شروع کی۔ اس میں کسی حد تک کامیاب بھی ہوئے۔ اسی مہم سے ہمارے ازلی دشمن بھارت جو پاکستان کو توڑ کر اکھنڈ بھارت بنانا چاہتا ہے پیش پیش ہے۔ وہ پاکستان کے عاقبت نااندیش سابق حکمران کو عدلیہ اور فوج سے لڑتے دیکھ کر بڑا خوش ہے۔ لگتا ہے کہ کسی نہ کسی طور پر موجودہ دہشت گردی کروا کر اس کی حمایت اور مدد کے طور پر پاکستان میں افراتفری پھیلا لانے کی کوششوں میں لگا ہوا ہے۔ اس سے قبل بھی پاکستان کی اپوزیشن نے بھارت پر الزام لگائے تھے کہ وہ سرحد پر کشیدگی بڑھا کر سابق وزیر اعظم کی مدد کرتا رہا ہے۔ لگتا ہے اس وقت اس کا ہدف پاکستان میں الیکشن ملتوی کرنے کی سازشیں کرنا ہے۔ وہ چاہتا کہ پاکستان کے اندر سیاسی استحکام نہ آئے۔ انارکی پھیلے اور ن لیگ کے لیڈروں پر کرپشن کے مقدموں پر اثر پڑے اور نون لیگ کے بیانیہ کو تقویت ملے۔ وہ اپنے نا پاک عزائم پر عمل کرنے میں آسانی محسوس کرے۔
اس موقعے پر ہم اپنے مقتدر حلقوں کو باور کرنا چاہتے ہیں کہ ایک زمانے میں جب ایران میں خمینی نے امریکی ایجنٹ رضا شاہ پہلوی کے خلاف کامیاب اسلامی انقلاب برپا کیا تھا۔ تو اپنے ایجنٹ کی مدد کرنے کے لیے اور ایران میں عدم استحکام پیدا کر نے کے لیے ایسی ہی سازش کر چکا ہے۔ اُس وقت امریکا نے ایران کی پارلیمنٹ پر خود کش حملے کروائے تھے۔ ایران کی پوری پارلیمنٹ کو اُڑا دیا گیا تھا۔ اس وقت پاکستان میں بھی ایران جیسی سازش کی جا رہی ہے کہ ایک طرف تو نون لیگ ملک کے اداروں کو تباہ کرنے کے بعد پاکستان کے آخری دو بڑے معتبر اداروں عدلیہ اور فوج کے خلاف عوام کو الیکشن میں اُکسا رہی ہے۔ ملک کی اعلیٰ عدلیہ کی طرف سے طرف سے مقدمے میں کرپشن ثابت ہونے اور قید اور جرمانے اور جیل میں بند ہوجانے کے باوجود ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کا جھوٹا نعرہ عوام میں پھیلا رہے ہیں۔ اس مہم سے بھارت فایدہ اُٹھانا چاہتا ہے۔ اس لیے کچھ بھی ہو جائے تمام سیاسی قائدین کو اعتماد میں لے کر جمہوری عمل کو جاری و ساری رکھنے کی تدبریں کرنا ضروری ہے۔
سیاسی پارٹوں کے رہنماؤں نے دہشت گرد حملے کے جواب میں بہادری سے سامنا کرنے کے بیانات دیے ہیں اس سے قوم کا حوصلہ بڑا ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے لیڈر نے کہا کہ اس طرح ہمیں انتخابات سے باہر نہیں کیا جا سکتا۔ ہم ہر حالت میں الیکشن میں جائیں گے۔ ایم ایم اے کے سربراہ نے بھی کہا کہ دشمن عوام کو دہشت زدہ کرنا چاہتا ہے۔ مگر عوام اپنے جمہوری نمائندے ضرور چنیں گے۔ بلوچستان عوامی پارٹی نے بھی کہا کہ ہمیں پاکستان سے محبت کی سزا دی گئی ہے۔ مگر ہم ہر حالت میں پاکستان کے دفاع کے لیے قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔ پارٹیوں کے جگر گوشوں نے اپنی جانیں نچاور کر دیں اور ان کے عزائم ایسے ہیں تو ان شاء اللہ دشمن اپنے ناپاک سازشوں میں کامیاب نہیں ہو سکے گا۔
وفاقی اور صوبائی نگران حکومتوں کو امن وامان اور سیکورٹی اداروں کے ساتھ ساتھ پاکستان کے سیاست دانوں کو اعتماد میں لے کر سیکورٹی پروگرام نئے سرے سے ترتیب دینا چاہیے۔ کسی صورت بھی الیکشن ملتوی نہیں ہونے چاہییں۔ ضرورت تو اس امر کی ہے کہ مہذب جمہوری ملکوں کی طرح ہر سیاسی پارٹی کو سرکاری الیکٹرونک میڈیا پر برابر کا وقت دیا جائے۔ ہر سیاسی پارٹی میڈیا پر آکر اپنا اپنا منشور اور پروگرام عوام کے سامنے پیش کرے۔ عوام کی سہولت کے لیے ان کے گھروں کے قریب ترین جگہوں پر پولنگ اسٹیشن اور بوتھ قائم کرنے چاہئیں۔ سیاسی پارٹیاں ریلوں اور جلسوں کی الیکشن کمیشن اور سیکورٹی اداروں پہلے سے اطلاع کریں تاکہ انتظامیہ کی ساری توجہ اُسی طرف مبذول رہے۔ اپنے طور پر ہر سیاسی پارٹی واک تھرو سیکورٹی گیٹ کا انتظام کرے۔ مشکوک لوگوں پر سیاسی کارکن نظر رکھیں۔ ملک میں جاری کرپشن کے خلاف مہم جاری و ساری رہے۔ ملک میں کرپشن میں ملوث بڑی مچھلیوں کو قانون کی گرفت میں لا کر ان سے لوٹا ہوا پاکستان کے غریب عوام کے خزانے میں جمع کرایا جائے۔ اللہ سے دعاء کے کہ پاکستان میں پرامن طریقے سے انتخابات مکمل ہوں جائیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ