سراج رئیسانی سمیت130 شہدا سپردخاک ،آج ملک میں یوم سوگ کا اعلان 

142
کوئٹہ:دھماکے میں شہید ہونے والے سراج رئیسانی کی نمازہ جنازہ ادا کی جارہی ہے 
کوئٹہ:دھماکے میں شہید ہونے والے سراج رئیسانی کی نمازہ جنازہ ادا کی جارہی ہے 

کوئٹہ/اسلام آباد (نمائندہ جسارت+خبر ایجنسیاں)بلوچستان کے علاقے مستونگ میں انتخابی جلسے میں خود کش حملے کے بعد صوبے میں فضا سوگوارہے، سراج رئیسانی کی نماز جنازہ میں آرمی چیف ، نگراں وزیرا علیٰ بلوچستان علا الدین مری، کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ اور صوبائی وزرا سمیت اہم شخصیات نے شرکت کی، سراج رئیسانی کو کانک جبکہ 129شہداء کو مختلف آبائی قبرستانوں میں سپردخاک کردیا گیا ، نگراں وزیراعظم نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان سانحات پر آج ملک
میں یوم سوگ کا اعلان کیا ہے ، تمام سرکاری عمارتوں میں قومی پرچم سرنگوں رہے گاجبکہ پاکستان میں انتخابی جلسوں میں دھماکوں پر چین، سعودی عرب، ایران اور امریکا سمیت کئی ممالک نے شدید مذمت کی ہے ۔ تفصیلات کے مطابق جمعے کے روز مستونگ کے علاقے درینگڑھ میں خودکش حملے میں نوابزادہ میر سراج رئیسانی سمیت 130 افراد جاں بحق جبکہ 200سے زایدافراد زخمی ہو گئے تھے ۔ہفتے کے روز بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنما سراج رئیسانی کی نماز جنازہ کوئٹہ کے موسیٰ اسٹیڈیم میں ادا کی گئی، نماز جنازہ میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، نگراں وزیراعلیٰ بلوچستان علا الدین مری، کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ اور صوبائی وزرا ،سراج درانی کے بھائی نواب اسلم رئیسانی، نوابزادہ لشکری رئیسانی، آئی جی ایف سی میجر جنرل ندیم انجم، آئی جی پولیس بلوچستان اور قبائلی عمائدین کی بڑی تعداد نے بھی شرکت کی۔آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کوئٹہ کا دورہ کیا جہاں انہوں نے سراج رئیسانی کی نماز جنازہ میں شرکت کی۔آرمی چیف نے سراج رئیسانی کے اہل خانہ سے تعزیت کی اور سی ایم ایچ کوئٹہ میں مستونگ دھماکے کے زخمیوں کی عیادت بھی کی۔جنرل باجوہ نے سراج رئیسانی کو پاکستان کا سپاہی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے ایک محب وطن پاکستانی کھو دیا ہے جسے ہمیشہ پاکستان کے لیے خدمات کے حوالے سے یاد رکھا جائے گا۔آرمی چیف نے سراج رئیسانی کے خاندان کی 3 نسلوں کی قربانیوں کو بھی تسلیم کیا۔جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ ہم نے ابھی تک امن کی منزل حاصل نہیں کی ہے لیکن ہم کامیابی سے اپنی منزل کے قریب ہوتے جا رہے ہیں۔پاک فوج کے سپہ سالار کا کہنا تھا کہ بحیثیت قوم ہم دہشت گردی اور انتہا پسندی کے چیلنج کا مقابلہ کر رہے ہیں اور ہم انہیں شکست دیں گے۔یاد رہے کہ سانحہ مستونگ میں زخمی ہونے والوں میں سے 70 کے قریب افراد سول اسپتال کوئٹہ میں زیر علاج ہیں جن میں سے بعض کی حالت تشویشناک ہے ۔حکومت بلوچستان کی جانب سے اس سانحے پر 2 روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے جس کی وجہ سے قومی پرچم سرنگوں ہے جبکہ بلوچستان عوامی پارٹی نے اس سانحہ پر 3 روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے ۔ مستونگ ، کانک اور درینگڑھ میں خودکش حملے کے بعد تمام دکانیں بند رہیں اور صوبے بھر میں تمام سیاسی جماعتوں نے انتخابی سر گرمیاں معطل کر دیں،وکلا بلوچستان کی تنظیموں کی جانب سے سانحہ مستونگ کے واقعے کے خلاف عدالتوں کا بائیکاٹ کیا گیا ۔ واضح رہے کہ نوابزادہ سراج رئیسانی کو2011ء میں بھی مستونگ میں 14 اگست کی مناسبت سے ایک تقریب کے دوران بم حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا جس میں وہ محفوظ رہے تھے تاہم اس میں ان کے بڑے بیٹے میر حقمل رئیسانی سمیت متعدد افراد جاں بحق ہوئے تھے ۔لیویز حکام کے مطابق مستونگ خودکش حملے کا مقدمہ لیویز صدر تھانے میں نائب تحصیل دار کی مدعیت میں درج کرلیا گیا۔ مقدمے میں قتل، اقدام قتل اور دہشت گردی کی دفعات شامل ہیں۔ حکام کے مطابق تحقیقات کے لیے پنجاب سے فرانزک لیبارٹری کی خدمات حاصل کی جائیں گی پاکستان بار کونسل کی جانب سے سانحہ مستونگ اور بنوں کی مذمت کرتے ہوئے 2 دن کے سوگ اور ایک دن کی ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔دوسری جانب ہفتے کے روز نگراں وزیر اعظم جسٹس (ر) ناصر الملک نے جمعے کے روز خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں ہونے والے دھماکوں کے پیش نظر آج ملک بھر میں یوم سوگ کا اعلان کردیا ہے جس کے بعد آج ملک بھر میں سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں رہے گاجبکہ وزارت داخلہ نے بھی یوم سوگ کے حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔ادھریورپی یونین، او آئی سی ،چین ، ایران،برطانیہ،امریکا، جاپان ،آسٹریلیا، برطانیہ ،سعودی عرب ،متحدۃ عرب امارات اور دیگر ملکوں نے مستونگ میں انتخابی جلسے کے دوران خودکش دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔یورپی یونین نے دھماکے میں جاں بحق افراد کے اہلخانہ سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ حملوں کی مکمل تفتیش کی اشد ضرورت ہے ۔پاکستان میں تعینات چینی سفیر نے دھماکے میں جاں بحق ہونے والے افراد کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا اور کہا کہ مشکل کی اس گھڑی میں چین پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑا ہے اور وہ پاکستان میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں۔امریکی محکمہ خارجہ نے بھی پاکستان میں انتخابی جلسوں میں خودکش دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے حملے پاکستانی عوام کو جمہوری حقوق سے محروم کرنے کی کوشش ہے ۔امریکی محکمہ خارجہ کا اپنے بیان میں مزید کہنا تھا کہ دھماکوں میں جاں بحق افراد کے اہلخانہ سے تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہیں ۔سعودی دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں مستونگ میں دھماکے کو دہشت گردی اور انتہاپسندانہ عمل قرار دیتے ہوئے یقین دلایا گیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف مہم میں سعودی عرب، پاکستان سے مکمل تعاون جاری رکھے گا۔اسلامی ممالک میں تعاون کی تنظیم(او آئی سی)کے جنرل سیکرٹری نے بلوچستان میں انتخابی مہم کی ریلی پر خود کش حملے کی شدید مذمت کی ہے ۔او آئی سی کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر یوسف اے العثمین نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے ساتھ یکجہتی اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ دلی ہمدری اور تعزیت کا اظہار کیا۔ آسٹریلیا کی کی ہائی کشنر ماگریٹ ایڈمسن نے متاثر ہ غمزدہ خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کیا اور کہا ہے کہ آ سٹریلیا دہشت گردی کا مقابلہ کرنے میں پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتاہے۔برطانوی ہائی کمشنر تھامس ڈریو نے کہا ہے کہ پاکستانی قوم انسانیت دشمن مجرموں پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہے ،ہمارے پاکستانی دوستوں کے لیے خوف ناک دن ہے پاکستان میں جمہوری عمل کو روکنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جا سکتی۔سعودی فرمانروا شاہ سلمان کا صدر مملکت ممنون حسین سے ٹیلی فون کر کے مستونگ دھماکے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس کیا اورشہدا کے لواحقین اورتمام پاکستانی عوام سے دلی ہمدردی کا بھی اظہارکیا۔علاوہ ازیں سیکورٹی اداروں نے مستونگ میں خود کش حملہ کرنے والے کے 2سہولت کاروں گرفتار کر لیا ہے ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق سیکورٹی اداروں نے بلوچستان میں سانحہ مستونگ کے دہشت گرد کے2 سہولت کاروں کو گرفتارکر لیا ہے۔حملہ آوردھماکے سے2 روز قبل افغانستان سے چاغی پہنچا،سہولت کاروں نے اپنے پاس ٹھہرایا، دہشت گرد جلسے میں پہلی صف میں بیٹھا ہوا تھا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ