پاکستان میں غیر ملکی ایجنسیوں کے اجلاس سے لاعلمی باعث تشویش ہے،رضا ربانی

50

اسلام آباد (صباح نیوز) سابق چیئرمین سینیٹ سینیٹر میاں رضا ربانی نے اسلام آباد میں روس، چین، ایران، پاکستان خفیہ اداروں کے سربراہان کے مشترکہ اجلاس کا معاملہ ایوان بالا میں اٹھاتے ہوئے اجلاس کے بارے میں دفتر خارجہ کی لاعلمی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ نقطہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے میاں رضا ربانی نے کہا کہ ایوان بالا کو اس بارے میں اعتماد میں لیا جائے کہ یہ اجلاس پاکستان کی سرزمین پر
کیوں ہوا، کس نے مدعو کیا، اس کے کیا مقاصد تھے، 4 ملکوں کے انٹیلی جنس سربراہان اجلاس میں شریک ہوئے ہیں۔ ہماری سرزمین پر یہ اجلاس ہوا اور دفتر خارجہ اس سے لاعلم ہے۔ ایوان بالا کو آگاہ کیا جائے کہ واقعی یہ اجلاس پاکستان میں ہوا ہے۔علاوہ ازیں مالیاتی ٹاسک فورس اور جائزہ گروپ کے حالیہ اجلاسوں کی تفصیلات نگراں وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر نے سینیٹ میں پیش کر دی ہیں اور ایوان بالا کو آگاہ کیا ہے کہ پاکستان کو بلیک لسٹ میں 2012ء میں ڈالا گیا تھا ۔2015ء میں پاکستان کا نام اس لسٹ سے نکال دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو دوبارہ بلیک لسٹ میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔ گرے لسٹ میں ہے اور 3 ماہ کے بعد ستمبر 2018ء میں دوبارہ اس بات کا جائزہ لیا جائے گا۔ انہوں نے 9 مختلف شعبہ جات بشمول کالعدم تنظیموں کی سرگرمیوں کی روک تھام، ان کے اثاثوں کو منجمد کرنے اور دیگر شرائط سمیت اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے بارے میں سینیٹ کو آگاہ کیا اور تسلیم کیا کہ بعض شعبوں میں رابطوں کے فقدان، کمزور کارروائیوں کی وجہ سے امریکا، برطانیہ، روس، جرمنی مل کر انٹرنیشنل مالیاتی ٹاسک فورس میں پاکستان کے خلاف چلے گئے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ