ڈیموں کی تعمیر اور ملکی قرض اتارنا ہی میری زندگی کا مقصد ہے،چیف جسٹس 

174
اسلام آباد، چیف جسٹس ثاقب نثار کو چیئرمین واپڈا مزمل حسین ڈیموں کے حوالے سے بریفنگ دے رہے ہیں
اسلام آباد، چیف جسٹس ثاقب نثار کو چیئرمین واپڈا مزمل حسین ڈیموں کے حوالے سے بریفنگ دے رہے ہیں

اسلام آباد (آن لائن) چیف جسٹس ثاقت نثارنے ریمارکس دیے ہیں کہ میری زندگی کے 2 ہی مقصد ہیں‘ چاہے میں یہاں رہوں یا ریٹائرڈ ہو جاؤں اس پر کام جاری رکھوں گا ‘ پہلا مقصد ڈیمز کی تعمیر اور دوسرا پاکستان کا قرض اتارنا ہے‘ ہم نے آئندہ آنے والی نسلوں کو مقروض چھوڑ کر نہیں جانا‘ عدالت نے مسائل سے آگاہ کرنے کے لیے بابر اعوان کو عدالتی معاون مقرر کر دیا ہے۔ جمعے کو عدالت عظمیٰ میں اسلام آباد میں کچی آبادیوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کچی آبادیوں والے بھی انسان ہیں‘ کچی آبادیوں میں رہنے والوں کو بدترین مسائل کا سامنا ہے۔ ممبر پلاننگ سی ڈی اے نے عدالت کو بتایا کہ اسلام آباد میں 8 کچی آبادیاں ریگولر ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کچی آبادیوں کے مکینوں کو مناسب جگہ ملنی چاہیے‘ کم ازکم بنیادی سہولیات تو ملنی چاہییں‘ لوگوں کو پانی اور رہائش نہیں مل رہی۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 8 اگست تک ملتوی کر دی ۔ علاوہ ازیں عدالت عظمیٰ میں ڈیرہ اسماعیل خان فرقہ وارانہ قتل کیس کی سماعت کے دوران ڈی پی او ڈیرہ اسماعیل خان نے انکشاف کیا کہ پولیس کے اندر ایسے لوگ موجود ہیں جو شر پسند عناصر کی حمایت کرتے ہیں جبکہ چیف جسٹس نے قرار دیا کہ انتظامیہ ڈی آئی خان میں فرقہ واریت کے معاملے کو دیکھ کر اقدامات کرے‘ شہریوں اور پولیس اہل کاروں کے تحفظ کے حوالے سے نگران انتظامیہ فیصلوں سے آگاہ کرے‘شہریوں کی حفاظت ریاست کی ذمے داری ہے۔ جمعے کو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی ۔ جسٹس اعجا ز الاحسن نے کہا کہ فرقہ وارانہ واقعات پر قابو پانے کے لیے انتظامیہ کو مؤثر حکمت عملی تیار کرنا ہو گی۔ کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی گئی۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ