انتظامیہ مداخلت کرکے چیمبر میں میرا دفتر کھلوائے، اکرم راجپوت

46

حیدر آباد (نمائندہ جسارت) چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے منتخب صدر اکرام راجپوت نے ضلعی انتظامیہ اور اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ وہ اس صورتحال میں مداخلت کرے اور چیمبر میں میرے دفتر کو کھلوائیں تاکہ ہم تاجروں کے مسائل کے حل کرسکیں۔ وہ حیدرآباد پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ عدیل صدیقی، پہلاج رائے، اقبال احمد اور دیگر بھی موجود تھے۔ اکرام راجپوت نے بتایا کہ 3 جون کو چیمبر حیدر آباد کے انتخابات کے نتیجے میں ہم منتخب ہوکر آئے، اس سے قبل چیمبر پر 8 سال سے گوہرا للہ گروپ کا قبضہ تھا ، وہاں کوئی کام نہیں ہورہاتھا، جب ہم نے چارج لیا تو تاجروں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ،و ہ افسران جو چیمبر نہیں آتے تھے انہوں نے چیمبر میں آنے کی خواہش ظاہر کی ، انہوں نے بتایا کہ ہمیں یہ شکایت ملی کہ چیمبر حیدرآباد کے اکاؤنٹ میں گڑ بڑ کی گئی ہے تو ہم نے سیکرٹری چیمبر کو لیٹر لکھا کہ اکاؤنٹ کے بارے میں ہمیں تفصیلات بتائیں جس پر سیکرٹری نے ٹال مٹول کی اور ہمیں پتا لگایا کہ 2010ء میں سابقہ گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العبااد نے حیدرآباد میں چیمبر آف کامرس کی تعمیرات کے لیے 2کروڑ روپے کی گرانٹ دی تھی جسے سوائے تعمیراتی کام کے کسی اور مد میں خرچ نہیں کیا جاسکتا تھا وہ رقم نکوالی گئی اور اسے خرچ کردیا گیا۔ یہ رقم 2013ء میں نکلوائی گئی ۔ آج اس اکاؤنٹ میں 6لاکھ روپے موجود ہیں، اسی طرح چیمبر پر قابض گوہر اللہ ٹولے نے ممبر شپ میں گٹر بڑ کی اور سیکڑوں جعلی فرمیں بنارکھی ہیں، جب ہم نے ریکارڈ کی چھان بین شروع کی تو گوہر اللہ گروپ کو تشویش ہوئی اور گزشتہ ہفتے کو 10سے 12 افرد چیمبر میں داخل ہوئے ، میں کراچی گیا ہوا تھا میرے دفتر کے تالے توڑے اور میرے حوالے سے سیکرٹری کو میرا ایک جعلی استعفادیا ، جب مجھے پتا چلا تو میں نے سیکرٹری کو فون کرکے بتایا کہ میرا اس استعفے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ میں کراچی سے 2گھنٹے کا سفر کرکے حیدرآباد پہنچا تو یہاں پر چیمبر میں ہنگامہ آرائی ہورہی تھی تاہم ہم نے مزاحمت کی تو دو سے تین روز تک گوہر اللہ نے ہمیں مذاکرات کے نام پر الجھائے رکھا، اس دوران میں نے انہیں کہاکہ مجھے خدشہ ہے کہ آپ کوئی گڑبڑ کریں گے تو گوہر اللہ نے قرآن پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ میں کچھ نہیں کروں گا لیکن پھر انہوں نے معاملات بگاڑنے شروع کردیے۔ اکرام راجپوت نے بتایا کہ چیمبر کے آئین کے تحت چیمبر کا صدر ایک سال کے لیے منتخب کیا جاتا ہے اور اس کے عہدے کو ختم کرنے کا کسی کو کوئی اختیار نہیں ماسوائے اس کے کہ خود چیمبر کا صدر استعفا دے دے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ