سانگھڑ، منگلی پولیس کے ظلم کا شکار معمر خواتین پریس کلب پہنچ گئیں

44

سانگھڑ (رپورٹ: محمد سلیم ملک) منگلی پولیس کے ظلم کا شکار معمر خواتین نیشنل پریس کلب پہنچ گئیں، انصاف دلایا جا ئے۔ 18 مئی کو منگلی پولیس نے گھروں پر چڑھائی کی تھی، مال مویشی لے کر چلے گئے، جھوٹے مقدمے میں پھنسایا گیا، اصل مجرم سے ستر ہزار لے کر چھو ڑ دیا گیا، سکینہ گبول کی پریس کانفرنس۔سانگھڑ ستر سالہ خیری گبول اور سکینہ نے نیشنل پریس کلب میں پریس کانفرنس کر تے ہو ئے کہا ہے کہ 18مئی کو گھنڈن میں میرے گھر پر چڑھا ئی کی اور گھر کو آگ لگائی، جس میں میرے پورے گھر کے ساتھ ایک بیل جل کر مرگیا، ایس ایچ او احسان بلیدی میری 13 بکریاں اور دو بھینسیں ساتھ لے گیا جبکہ میرے بیٹے مرتضیٰ گبول اور قربان گبول پر چوری کا جھو ٹا مقدمہ منگلی تھانے پر درج کر کے میرے بیٹے قربان کو گرفتار کیا جو کہ سانگھڑ جیل میں بے گناہ قید کی زندگی گزار رہا ہے۔ پولیس گیری کا نشانہ بننے والی خواتین نے کہاکہ ہما را قصور یہ تھا کہ میرے بیٹے سے ارشد نامی شخص نے مو بائل سم اپنے چوری کے موبائل میں لگا ئی جس کی اتنی بڑی سزا ہمیں دی جا رہی ہے۔ ایس ایچ او منگلی احسان بلیدی نے اصل مجرم ارشد سے ستر ہزار روپے رشوت لے کر چھوڑ دیا۔ انہوں نے کہا کہ منگلی پولیس روزانہ میرے گھر آتی ہے اور دھمکیاں دے کر جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس اتنی رقم نہیں ہے کہ ہم وکیل کرسکیں۔ انہوں نے چیف جسٹس ثاقب نثار، ہائی کورٹ سندھ، آئی جی، ایس ایس پی سانگھڑ سے انصاف فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ