حیدر آباد، سہولیات کی عدم فراہمی کیخلاف کچی آبادیوں کے مکینوں کا احتجاج

74

حیدر آباد (نمائندہ جسارت) پریس کلب پر مختلف تنظیموں اور افراد نے اپنے مطالبات کی حمایت میں الگ الگ مظاہرے کیے۔ قاسم آباد کی کچی آبادیوں سحرش نگر، گل شاہ محلہ، قادر نگر،شہبا ز کا لو نی ، بختاور کالونی اور کچی آبادی فیز ٹو سمیت قرب وجوار کی دیگر کچی آبادیوں کے رہا ئشیوں نے بجلی،پینے کا پا نی اور صحت و صفائی سمیت دیگر بنیا دی سہو لتیں نہ ہو نے کیخلاف احتجاج کر تے ہو ئے اپیل کی کہ وہ آئند ہ عام انتخا با ت میں اہل لو گو ں کو اپنا ووٹ دیں تا کہ وہ اپنے علا قوں میں ترقیاتی کام کرواسکیں۔ عام انتخابات 2018ء میں حصہ لینے والے اُمیدواروں سے ایک بار پھر مطالبہ کیا ہے کہ کچی آبادیوں کو بنیادی سہولتیں فراہم کی جائیں، اس حو الے سے سماجی رہنما پاندھی خان جکھرانی نے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ کچی آبادیوں میں گزشتہ کئی سال سے کسی بھی طرح کی بنیادی سہولتیں میسر نہیں ہیں اور یہاں رہنے والے لوگ اس جدید دور میں بھی بجلی، پانی، صحت و صفائی اور سڑکوں جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ انہو ں نے بتا یا کہ گزشتہ 20سال سے مذکورہ کچی آبادیوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے اور ہر دور میں کا میا ب ہو کر آنے والے منتخب نمائندوں نے ان آباد یوں میں تر قیاتی کا م کر انے کے بجا ئے تبا ہ کرکے کھنڈر بنا دیا ہے ،انہو ں نے کہا کہ ہماری آبادیو ں میں روڈ ہیں نہ پکے راستے ہیں جبکہ پینے کا صاف پا نی بھی میسر نہیں ہے اور شہر میں ہو نے کے باوجود یہ آبادیاں دیہی علا قوں کا منظر پیش کر ر ہی ہیں۔ سندھ پبلک سر وس کمیشن کے سی سی ای کا امتحان دینے والے اُمیدواروں نے مارکس کم دیے جانے اور کمیشن کے افسران کے رشتے داروں کو امتحا ن میں کا میا ب قر ار دیے جا نے کیخلاف ٹھنڈی سڑ ک پر واقع پبلک سر وس کمیشن آفس کے سامنے احتجاجی مظا ہرہ کیا۔ اس موقع پر اسرار احمد بھٹو، عبد الغفار بھٹو، غلام سرور، اویس ابڑ و اور مہران میمن سمیت دیگر اُمید واروں نے ارباب اختیا ر سے مطا لبہ کیا کہ معاملے کا نو ٹس لیکر سی سی ای کے امتحا ن کے نتا ئج منسو خ کرکے دوبا رہ امتحا ن لیے جائیں۔ انہوں نے بتا یا کہ پبلک سر وس کمیشن کی جانب سے سی سی ای کے دوبارہ لیے گئے امتحا ن میں بھی کمیشن کے عہدیداروں کے رشتہ داروں کو کا میا ب قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتا یا کہ کمیشن کی جانب سے 2013ء میں سی سی ای کے امتحا ن دوبا رہ لینے کے بعد جو نتا ئج جا ری کیے گئے ہیں، ان میں کمیشن کے ممبر سائیں داد سولنگی کے بیٹے غلام نبی کو 609 مارکس دے کر کا میا ب قرار دیا گیا ہے، اسی طرح کمیشن کے کنٹرولر اور سابق ڈپٹی کنٹرولر کے رشتے داروں کو بھی 525 مارکس دے کر کامیاب قر ار دیا گیا ہے اور اس حو الے سے عدالت میں جا نے والے اُمید وار ہو ش محمد سمیت دیگر کو امتحا ن میں فیل کر دیا گیا ہے۔ حیدر آباد کے علا قے ہا لا نا کہ کے رہا ئشی بخشل مغیری نے اپنی بیو ی اور دیگر اہل خا نہ کے ہمر اہ تین سال قبل بلد یہ پو لیس کی جانب سے 12سالہ بیٹے فیا ض مغیری کو مبینہ پولیس مقابلے میں زخمی کر نے والے واقعہ پر انصاف نہ ملنے کے خلاف حیدرآباد پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظا ہر ہ کیا۔ اس موقع پر بخشل مغیر ی نے الزام عائد کر تے ہو ئے بتا یا کہ جو لا ئی 2015ء میں بلدیہ پو لیس نے میر ے 21سالہ بیٹے فیا ض مغیر ی کو بلاجواز گرفتار کرکے جعلی مقابلے میں ٹا نگ پر گو لیا ں مار کر زخمی کر دیا ،انہو ں نے بتا یا کہ ایک بے گنا ہ نو جوان کو ٹانگوں میں گو لیا ں ما رکر ہمیشہ کے لیے معذور کر نے والے ظالم پو لیس اہلکار اب تک قانون کی گر فت سے آزاد ہیں۔ انہو ں نے ارباب اختیا ر سے مطا لبہ کیا کہ میر ے بیٹے کو جعلی پولیس مقابلے میں زخمی کر کے معذور کرنے والے پو لیس اہلکا روں کو گرفتار کرکے مجھے انصاف فراہم کیا جا ئے ۔ حیدرآباد کے علا قے ٹنڈ و ولی محمد کے رہائشی 70سالہ ضعیف شخص محمد امین سومر و نے اپنے بھا ئیو ں کے مظا لم کیخلاف حیدرآباد پر یس کلب کے سامنے احتجاج کر تے ہوئے صحا فیوں کو بتا یا کہ میں گز شتہ 52 سال سے اپنے والد کے دیے گئے گھر میں رہا ئش پذ یر ہو ں اور یہ گھر میر ا اور میر ے دو بھا ئی ڈ اکٹر عالم سومر و اور محمد حنیف سومر وکا مشتر کہ گھر ہے لیکن اب میر ے بھا ئی اس گھر کو فروخت کر نا چا ہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں ایک ضعیف شخص ہو ں اور گھر نہ ہو نے کے بعد میں اس عمر میں کہاں جاؤں گا۔ اس حو الے سے عدالت میں بھی کیس زیر سما عت ہے۔ انہو ں نے مطا لبہ کیا کہ معاملے کا نو ٹس لیکر میر ے بھا ئیو ں کے خلاف کارروائی کرکے مجھے میر ا حق دلو ایا جا ئے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ