ایمنسٹی نے اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کی حمایت کردی

105
مقبوضہ بیت المقدس: فلسطینی مزاحمت کاروں پر اسرائیلی شیلنگ کی بارش کا منظر‘ چھوٹی تصاویر صہیونی اہل کار کی فائرنگ اور زخمی بچے کی ہیں
مقبوضہ بیت المقدس: فلسطینی مزاحمت کاروں پر اسرائیلی شیلنگ کی بارش کا منظر‘ چھوٹی تصاویر صہیونی اہل کار کی فائرنگ اور زخمی بچے کی ہیں

مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم کی گئی اسرائیل کی غیرقانونی بستیوں میں تیار ہونے والی مصنوعات کے بائیکاٹ کے حوالے سے آئرلینڈ کی پارلیمان میں منظور کردہ فیصلے کو جرات مندانہ اور قابل تقلید قرار دیا ہے۔ مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق آئرش پارلیمان کا یہودی کالونیوں اور ان میں تیار ہونے والی مصنوعات کے بارے میں فیصلہ عالمی قوانین کے عین مطابق ہے۔ دوسرے ممالک کو بھی آئرلینڈ کی تقلید کرنی چاہیے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ غرب اُردن میں قائم کی گئی یہودی کالونیاں
غیرقانونی ہیں اور عالمی قوانین کی رو سے ان میں تیارہونے والی مصنوعات کی خریداری درست نہیں۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیلی کالونیوں کی مصنوعات کی خریداری صہیونی ریاست کی توسیع پسندانہ سرگرمیوں میں مدد کرنے کے مترادف ہے۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ فلسطین میں یہودی توسیع پسندی کے اقدامات کی حوصلہ شکنی کریں۔ اسرائیل میں کار خانے لگانے والی کمپنیوں اور اداروں کابائیکاٹ کیا جائے اور اسرائیل کے ساتھ لین دین اور تجارتی روابطہ منقطع کیے جائیں۔ واضح رہے کہ 2 روز قبل یورپی ملک آئرلینڈ کی پارلیمان نے ایک بل کی منظوری دی تھی جس کے تحت فلسطین میں قائم کی گئی یہودی کالونیوں میں تیار کردہ مصنوعات کی درآمدات پر پابندی عاید کردی تھی۔ بل میں کہا گیا ہے کہ غیرقانونی یہودی بستیوں میں تیار ہونے والی مصنوعات کی خریداری جنیوا معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیر دفاع آوی گیڈورلائبرمین نے آئرلینڈ کی طرف سے اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کا بل منظور کرنے پر آئرلینڈ سے سفارتی تعلقات ختم کرنے کامطالبہ کیا ہے۔ مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق ایک بیان میں اسرائیلی وزیردفاع نے کہا کہ آئرلینڈ کی پارلیمان نے اسرائیلی کالونیوں کی مصنوعات کے بائیکاٹ کا بل منظور کرکے اسرائیلی ریاست کے خلاف کھل کر مخالفت کی ہے۔لائبرمین کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیل میں متعین آئرش سفیر کو طلب کرکے اس سے احتجاج کافی نہیں۔ اسرائیل کے ساتھ ظلم کرنے والوں کا ساتھ نہیں دیا جاسکتا۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ڈبلن میں موجود اسرائیلی سفارت خانہ بند کیاجائے اور آئرلینڈ کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کرے ۔اسرائیلی ریڈیو کے مطابق جمعرات کے روز وزارت خارجہ نے آئرلینڈ کے سفیر کو دفتر خارجہ طلب کرکے آئرش لینڈ کی پارلیمان میں اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کا بل منظور کیے جانے کے خلاف احتجاج کیا۔ علاوہ ازیں فلسطین نیشنل پروگریسیو موومنٹ کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر مصطفی البرغوثی نے آئرلینڈ کی پارلیمان میں اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کی حمایت میں آئینی بل کی منظوری کو صہیونی ریاست کے بائیکاٹ کی عالمی تحریک کی فتح اور کامیابی قرار دیا ہے۔ مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینی رہ نما ڈاکٹر البرغوثی نے ایک بیان میں کہا کہ کسی یورپی ملک کی طرف سے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم اسرائیل کے غیرقانونی کارخانوں کی مصنوعات کے بائیکاٹ کی حمایت کرنا غیر معمولی اقدام ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل ؍ حمایت

Print Friendly, PDF & Email
حصہ