نواز اورمریم کی گرفتاری کے خلاف پریس کلب پرمظاہرہ

43

کراچی(اسٹاف رپورٹر)سابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف اور ان کی صاحبزادی مریم نوا زکی گرفتاری کے حوالے سے ملک کے تمام بڑے شہروں کی طرح کراچی پریس کلب کے باہر مسلم لیگ (ن)کے سیکڑوں کارکنان نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اس موقع پر مرد اور خواتین کارکنوں نے لیگی پرچم اور ووٹ کو عزت دو کے نعروں پر مبنی بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور گرفتاری کے خلاف نعرے بلند کررہے تھے ۔مظاہرے میں کراچی سے انتخابات میں حصہ لینے والے تمام قومی و صوبائی اسمبلی کے امیدواروں
جن میں دوست محمد فیضی مفتاح اسماعیل ،اعجاز احمد ودیگر کی تشہیری مہم میں استعمال ہونے والی گاڑیوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی مگر صوبائی ڈویژنل قیادت اور امیدواروں کی لاہور میں موجودگی اور شہباز شریف کی قیادت میں نکلنے والے جلوس میں شمولیت کرنے کے حوالے سے شریک نہیں تھے ۔جس کی وجہ سے مظاہرے کی قیادت کراچی کی مقامی قیادت سلطان بہادر،مصطفی ایڈووکیٹ ،حسن زیب خان اور زاہدہ بھنڈسمیت دیگر رہنماؤں نے کی نواز شریف کی گرفتاری کے حوالے سے احتجاج رات گئے تک وقفہ سے وقفہ سے جاری رہا ۔جس سے مسلم لیگ (ن)کے رہنماں نے خطاب کرتے ہوئے میاں محمد نوازشریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کے وارنٹ گرفتار ی نکالے جانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس بات کا مطالبہ کیا کہ میاں محمد نوازشریف اور ان کے خاندان پر قائم کیے گئے تمام مقدمات واپس لیے جائیں اور انہیں الیکشن میں حصہ لینے کا بھرپور موقع فراہم کیا جائے۔بعدازاں مسلم لیگ (ن)اور میاں محمد نوازشریف کے چاہنے والے درجنوں افراد جن میں آغااسد ،محمد دین اور لطیف شاہ ودیگر شامل تھے ‘نے کراچی پریس کلب کے باہرہی بھوک ہڑتال شروع کردی۔اس موقع پر بھوک ہڑتال پر بیٹھنے والے آغااسد نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی یہ بھوک ہڑتال صرف علامتی بھوک ہڑتال نہیں بلکہ حقیقی بھوک ہڑتال ہے جو کہ اس وقت تک جاری رہے گی‘ جب تک میاں محمد نوازشریف اور ان کی صاحبزادی مریم نوازکو ریلیف فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ تمام گرفتار کارکنان کو رہا نہیں کیا جاتا۔
لیگی کارکنوں کے مظاہرے

Print Friendly, PDF & Email
حصہ