معذور افراد کو ووٹ ڈالنے میں دشواری نہیں ہوگی،نگہت صدیقی

36

کراچی ( اسٹاف رپورٹر)عام انتخابات میں الیکشن کمیشن نے خصوصی طور پر ریذیڈنٹ آفیسرز کو اس بات کی ٹریننگ دی ہے کہ وہ الیکشن کے دن ٹرانس جینڈرووٹرز، حاملہ خواتین ووٹرز اور معذور افراد ووٹرز کو الگ قطاروں میں لگا کر ووٹنگ کرائیں تاکہ الیکشن کے دن وہ اپنا حق رائے دہی بغیر کسی دقت کے استعمال کر سکیں۔ان خیالات کا اظہار الیکشن کمیشن کی نمائندہ نگہت صدیقی نے سندھ کمیشن آن دی اسٹیٹس
آف وومن نے یو این عورت کے اشتراک سے ’’خواتین کی سیاسی عمل میں شمولیت اور حلقہ انتخاب و انتخابی تشدد‘‘ کے موضوع پر منعقدہ مکالمہ میں کیا ۔ اس مکالمے میں ایم کیو ایم، پیپلزپارٹی، پی ٹی آئی، پاک سر زمین پارٹی کے علاوہ آزاد سیاسی امیدواروں نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ مکالمے سے سندھ کمیشن کی چیئرپرسن نزہت شیریں، سیکرٹری وومن ڈیولپمنٹ بقا اللہ انٹر،عورت فاؤنڈیشن کی ڈائریکٹر مہناز رحمان، این سی ایچ آر کی انیس ہارون، سی ای او کے مسڑ شاہد فیاض اور مکالمے کی چیف گیسٹ جسٹس ماجدہ رضوی نے بھی خیالا ت کا اظہار کیا ۔سندھ کمیشن کی جانب سے منعقد کردہ مکالمے کا بنیادی مقصد خواتین سیاسی امیدواروں کے بنیادی مسائل، ا نتخابی عمل، حلقہ انتخاب اور الیکشن کے دوران ہونے والے تشدد کوسمجھانا اور خواتین سیاسی امیدواروں کے ساتھ ساتھ خواتین ووٹرز کی بھی سیاسی عمل میں شمولیت کی حوصلہ افزائی کرنا تھا۔خواتین سیاسی امیدواروں نے اس مکالمے میں ذاتی تجربات بھی بتائے جو انہوں نے اپنے اپنے حلقہ انتخاب کے دوران اور سیاسی جماعت کی رکنیت کے دوران محسوس کیے۔ اس کے علاوہ خواتین سیاسی امیدواروں نے انتخابی تشدد کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا۔سیاست میں کارکردگی کے حوالے سے مہناز رحمان نے کہا کہ پاکستان میں آزادی کے وقت سے خواتین سیاست میں عملی طور پر متحرک رہی ہیں۔ خواتین سیاسی امیدواروں کے مطابق خواتین کو سیاسی عمل میں متحرک کرنے کے لیے سیاسی جماعتوں کو خواتین امیدواروں کے ساتھ ساتھ خواتین ووٹرز کی بھی معاونت اور مکمل حمایت کرنی چاہیے۔
نگہت صدیقی

Print Friendly, PDF & Email
حصہ