متحدہ مجلس عمل کے رہنماؤں کا مستونگ حلوں پر شدید رد عمل 

67

کراچی (اسٹاف رپورٹر)جمعیت علماء اسلام کے صوبائی نائب امیر اور پی ایس 114 سے متحدہ مجلس عمل کے نامزد امیدوار قاری محمد عثمان،متحدہ مجلس عمل صوبہ سندھ کے جنرل سیکرٹری اورشیعہ علماء کو نسل سندھ کے صدر علامہ سید ناظر عباس تقوی نے بنوں ،پشاور اور مستونگ میں یکے بعد دیگرے بم دھماکوں پرشدید ردعمل کااظہارکیاہے ۔تفصیلات کے مطابق متحدہ مجلس عمل کے نامزد امیدوار قاری محمد عثمان نے اپنے حلقہ انتخاب میں مختلف کارنر میٹنگزکارنرمیٹنگزسے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ یوں محسوس ہورہا ہے دہشت گردی ختم نہیں ہوئی تھی بلکہ دہشت گرد منظم ہو رہے تھے ۔خیبر پختونخواہ کے سابق وزیر اعلیٰ اکرم خان درانی پر حملہ ،ہارون بلور کی شہادت اور سانحہ مستونگ ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ملک دشمن عناصر پاکستان کو کمزور کرناچاہتے ہیں۔پے در پے حملے انتخابات کے خلاف سازش ہیں۔ چیف جسٹس، نگران وزیر اعظم اور وزرائے اعلیٰ انتخابات کے ماحول کو سازگار بنانے کے لیے ہنگامی اقدامات یقینی بنائیں ورنہ حالات قابو سے باہر ہوجائیں گے ۔انتخابی سرگرمیوں پر اس طرح کے حملوں سے کئی سوالات جنم لے رہے ہیں۔اس موقع پر سید اکبر شاہ ہاشمی ،انجینئر سلیم خان، انجینئر عبدالقیوم ،عزیز الرحمن عزیز ،مولانا عمر فاروق، سید اشرف شاہ شیرازی اور دیگر رہنما ء بھی موجود تھے ۔قاری محمد عثمان نے کہاکہ انتخابات سے قبل دہشت گردی کی لہر اور نگران حکومتوں کی بے بسی سوالیہ نشان ہے ۔ایک ہفتے کے اندر دہشت گردی کے تین بڑے واقعات کا رونما ہونا غیر معمولی نوعیت کے واقعات ہیں۔ لہذا تمام اداروں اور نگران حکومتوں کو سیکورٹی کے پروف انتظامات کے ساتھ ساتھ انتخابات کے لیے بہر صورت پر امن فضا قائم کرنی ہوگی۔انتخابات سے قبل سیاسی رہنماؤں سے سیکورٹی کی واپسی اور اب اس طرح کے یکے بعد دیگرے خون آشام واقعات سے سیکورٹی اداروں کی ناکامی صاف ظاہر ہورہی ہے ۔قاری محمد عثمان نے کہا کہ ایسے واقعات کارونما ہوناالیکشن کے عمل پر شکوک پیدا کرسکتے ہیں۔سیکورٹی ادارے دہشتگردوں کو تحفظ فراہم کرنیوالوں کے خلاف کاروائی کریں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ سیکورٹی ادارے اور ایجنسیاں ملک کے اندر موجود دہشتگردوں اور انکے بیرونی آقاؤں اور تحفظ فراہم کرنیوالوں کے خلاف بھرپور کاروائی کریں اور الیکشن کو پرامن بنانے کیلئے موثر اقدامات کریں ۔ قاری محمد عثمان نے کہا کہ متحدہ مجلس عمل کامیابی کے بعد ملک میں نفاذ اسلام کے ذریعہ ملک کو امن کا گہوارہ بنائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک میں اسلامی نظام عدل کے ذریعہ ہی امن قائم ہوسکتاہے ۔ ملک بھر اور کراچی کے عوام متحدہ مجلس عمل کے انتخابی انقلابی نشان کتاب پر مہر لگا کر یہ ثابت کریں کہ یہ دھرتی غلامان مصطفیﷺ کی دھرتی ہے ۔اب عوام باشعور ہوگئے ہیں ۔اب مذید دھوکہ نہیں کھائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ مجلس عمل کی صالح اور ایماندار قیادت ہی ملک کو بحرانوں سے نکالنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔علاوہ ازیں متحدہ مجلس عمل صوبہ سندھ کے جنرل سیکرٹری اورشیعہ علماء کو نسل پا کستان صوبہ سندھ کے صدر علامہ سید ناظر عباس تقوی نے کو ئٹہ مستونگ دھماکے میں بلو چستان عوامی پارٹی کے رہنماء سراج ر ئیسانی سمیت بیس سے زائد شہید ہونے والے تمام شہداء کے خاندانوں سے دلی ہمدردی اور افسوس کا اظہار علامہ سید ناظر عباس تقوی کا کہنا ہے کہ ملک بھرمیں دہشت گردو کی منظم کاروائی نے نگراں حکومت اورسیکیورٹی فورسز کے اداروں کی پول کھول دی گز شتہ کئی سا لوں سے پا کستان دہشت گردی کی آگ میں جل رہا ہے اور آج تک کئی ہزار بے گناہ اس دہشت گردی کا نشانہ بن چُکے ہیں لیکن حکومت اور ریاستی ادارے تا حال اس دہشت گردی کو رو کنے میں ناکام نظر آتے ہیں اور دہشت گرد وقفے وقفے سے اپنے ہدف کو نشانہ بنا نے میں کامیاب ہو جاتے ہیں عوام کو دہشت گردو کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے کب تک عوام اپنے پیاروں کے جنا زے اٹھاتے رہیں گے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ریاست پا کستان کے پاس کوئی جامع پالیسی موجود نہیں ہے جب تک دہشت گردو اور اُن کے سہولت کاروں کوگرفتار کرکے سزائیں نہیں دی جائے گی اُس وقت تک پا کستان ایسی صورتحال سے دو چار رہے گا اگر سا نحہ علمدار روڈ اورہزارہ ٹاون میں ہو نے والے دھماکوں میں ملوث دہشت گردو کو سز ائے موت دے دی جاتی تو آج یہ دلخراش واقعہ ہر گز پیش نہیں آتا ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر تمام امیدواروں کی سیکیورٹی کا بندوبست کرے ۔
مستونگ حملہ/مذمت

Print Friendly, PDF & Email
حصہ