نواز شریف اور مریم لاہور پہنچتے ہی گرفتار،موبائل فونز اور پاسپورٹ ضبط ،اڈیالہ جیل منتقل ،لیگیوں اور سیکورٹی اہلکار وں میں جھڑپوں میں متعدد زخمی ،سیکڑوں گرفتار

277

لاہو ر( نمائندہ جسارت )ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا یافتہ سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کووطن واپس پہنچتے ہی نیب کی ٹیم نے لاہور ائرپورٹ میں طیارے ہی سے گرفتار کرلیا ۔ وہ نجی ائرلائن کی پرواز سے رات 8بج کر47 منٹ پر علامہ اقبال انٹرنیشنل ائرپورٹ پہنچے ۔ ان کے ساتھ تقریباً 40 کے قریب ن لیگی رہنما اور غیرملکی صحافی بھی موجود تھے۔نیب ٹیم نے طیارہ لینڈ کرتے ہی نواز شریف اور مریم کے موبائل فونز اور پاسپورٹس ضبط کرلیے ، نواز شریف نے گرفتاری سے قبل نیب حکام سے کہاکہ انہیں کارکنوں سے ملنے دیا جائے وہ ان سے خطاب کرنا چاہتے ہیں تاہم ان کی یہ بات رد کردی گئی۔ نوازشریف نے ٹرمینل تک جانے کے لیے گاڑی میں بیٹھنے سے انکار کردیا اور پیدل ہی چل کر ٹرمینل روانہ ہوئے جہاں حج لاؤنج میں ایک گھنٹے تک رکھا گیا اور اس کے بعد انہیں خصوصی طیارے میں بٹھا کر اسلام آباد لے جایا گیا جہاں احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نیب کی درخواست پر نواز شریف اور مریم کی قیدیقینی بنانے کے لیے جیل بھیجنے کے احکامات جاری کردیے،جس کے بعد دونوں مجرموں کو الگ الک بکتربندگاڑی کے ذریعے سخت سیکورٹی حصار میں راولپنڈی میں واقع اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا۔ نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ سیکورٹی رسک کی وجہ سے گرفتار ملزمان کو زیادہ دیر تک نیب یا پولیس کی تحویل میں نہیں رکھا جاسکتا۔سردار مظفر نے کہا کہ عدالت میں نواز شریف اور مریم نواز کو پیش کرنا ممکن نہیں تھا، اسی وجہ سے عدالت سے جیل بھیجنے کے احکامات جاری کرنے کی درخواست کی۔ نواز شریف اور مریم نواز کی آمد سے قبل لاہور اور اسلام آباد میں سیکورٹی کے غیرمعمولی انتظامات کیے گئے تھے۔صدر ن لیگ شہباز شریف اور حمزہ شہباز سمیت دیگر سینئر رہنما بھی اپنے اپنے علاقوں سے ریلیاں لے کر نوازشریف کے استقبال کے لیے ائرپورٹ پر پہنچنا چاہتے تھے مگر سخت سیکورٹی انتظامات اور جگہ جگہ کنٹینرز لگے ہونے کی وجہ سے بہت کم تعداد میں لوگ ائرپورٹ تک پہنچ سکے۔ لاہور جانے والے تمام راستوں کو کنٹینرز لگا کر بلاک کردیا گیاتھا ، دن بھر لاہور میں میٹرو بس ، موبائل اور انٹرنیٹ سروس معطل رہی جبکہ لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں کئی کئی گھنٹوں تک بجلی بھی بند کردی گئی تھی۔پنجاب کے مختلف شہروں میں لیگیوں اور سیکورٹی اہلکاروں میں جھڑپیں جاری ہیں جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے اور بڑے پیمانے پر گرفتاریاں بھی عمل میں لائی گئیں۔ کئی اہم رہنماؤں کو نظر بند کرکے ان کی رہائش گاہوں پر تالے لگا دیے گئے۔ بعد ازاں ن لیگ کے صدر شہباز شریف نے مزاحمت ترک کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کارکنان کوہدایت کی کہ وہ اپنے اپنے گھروں کو واپس چلے جائیں اب فیصلہ 25جولائی کوعوامی عدالت میں ہوگا۔واضح رہے کہ ایون فیلڈ ریفرنس میں نیب عدالت کی جانب سے نواز شریف کو 12سال اور مریم نواز8سال قید کی سزا سنائی گئی تھی ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ