ملک میں ٹیکس کا پیسہ لٹانے کی لت پڑی ہوئی ہے،چیف جسٹس

128

چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ اس ملک میں کیا لت پڑی ہوئی ہے کہ ٹیکس کا پیسہ لٹایا جائے، حکومت کا یہ طریقہ کار ہے نجی کمپنیاں بنا، اپنے بندے لگا اور ان کو فائدے پہنچے۔

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی جس سلسلے میں اٹارنی جنرل اور ایم ڈی پی ایس او عدالت میں پیش ہوئے۔سماعت کے آغاز پر اٹارنی جنرل نے پیٹرولیم مصنوعات کی کوالٹی اور درآمد سے متعلق رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جب کہ سپریم کورٹ نے ایم ڈی پی ایس او کی تعیناتی اور مراعات کے معاملے میں نیب کو طلب کر لیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ نیب یہ بھی بتائے کہ ایل این جی پر ہونے والی تحقیقات کہاں تک پہنچیں؟جسٹس ثاقب نثار نے ایم ڈی پی ایس او سے استفسار کیاکہ آپ کو کب اور کس کی سفارش پر تعینات کیا گیا؟ اس پر ایم ڈی نے بتایا کہ مجھے 2015 میں اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف نے تعینات کیا، شاہد خاقان عباسی نے کمیٹی کی سفارش پر مجھے تعینات کیا، اشتہار کے ذریعے حکومت نے 6 نام فائنل کیے جن میں سے مجھے چنا گیا۔ایم ڈی پی ایس او نے بتایا کہ جب ادارے کا چارج سنبھالا تو منافع 6 ارب تھا جسے بڑھا کر 18 ارب کردیا ہے۔

چیف جسٹس نے پاکستان اسٹیٹ آئل کے مینجنگ ڈائریکٹر سے مکالمہ کیا کہ آپ کا تو پٹرولیم کا تجربہ ہی نہیں ہے، حکومت کا یہ طریقہ کار ہے نجی کمپنیاں بنا، اپنے بندے لگا اور ان کو فائدے پہنچا، کیوں نا آپ کو معطل کر دیا جائے؟۔جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ کسی قومی ایجنسی کے ذریعے آپ کی تعیناتی سے متعلق تحقیقات کرالیتے ہیں، پی ایس او کا آڈٹ بھی آڈیٹر جنرل سے کرا لیتے ہیں۔ اس ملک میں کیا لت پڑی ہوئی ہے کہ ٹیکس کا پیسہ لٹایا جائے،2 سے ڈھائی لاکھ تنخواہ والے گریڈ 22 کے افسر کو 4 لاکھ دے کر ایم ڈی بنایا جاسکتا تھا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.