خواتین کو زیادہ نمایاں نہ کریں، فیفا کی براڈ کاسٹرز کو تنبیہ

290

ماسکو: فیفا کے ڈائیورسٹی پروگرام کے سربراہ نے کہا کہ براڈکاسٹرز اسٹیڈیم میں موجود پرکشش خواتین کی تصاویر اور ویڈیوز زیادہ نمایاں نہ کرنے کی تنبیہ کردی۔

ورلڈ کپ کے دوران خلاف توقع غیرملکی شائقین کو روس میں نسلی تعصب کا سامنا نہیں رہا البتہ میگا ایونٹ کیلیے آنے والی خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے واقعات نے سب کو حیران کردیا ، انسانی رویوں سے متعلق ماہر نے تصدیق کی کہ فٹبال ورلڈ کپ دوران نسلی تعصب سے زیادہ جنسی تعصب بڑا مسئلہ رہا اور اس کے کئی واقعات سامنے آئے۔

روس کی سڑکوں پر فینز کی جانب سے خواتین رپورٹرز اور برڈ کاسٹرز کو ہراساں کیا گیا اور فیفا کو مختلف مستند ذرائع سے جنسی طور پر ہراساں‘ کیے جانے کے کل 30 سے زائد واقعات رپورٹ کیے گئے، اس صورتحال پر فیفا کے ڈائیورسٹی پروگرام کے سربراہ نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ مستقبل میں براڈکاسٹرز اسٹیڈیم میں موجود پرکشش خواتین کی تصاویر اور ویڈیوز کم سے کم دکھائیں۔

روس میں جاری ورلڈ کپ میں خاتون رپورٹر کو ہراساں کرنے کا پہلا واقعہ اس وقت سامنے آیا تھا جب ایونٹ کے پہلے راؤنڈ کے دوران جرمن ادارے کے لیے رپورٹنگ کرنے والی کولمبیا کی صحافی کا ایک فین نے بوسہ لے لیا تھا، یہ سلسلہ یہیں نہیں رکا اور اس واقعے کے ایک ہفتے کے اندر ہی روس کے شہر یکاٹیرن برگ میں خاتون صحافی کا بوسہ لینے کی کوشش کی گئی لیکن انھوں نے اسے ناکام بنا دیا۔

برازیلین ٹی وی کی صحافی جولیا گوئماریس نے اس عمل پر شدید برہمی کا اظہار کیا جس پر بوسہ لینے کی کوشش کرنے والے شخص نے فوراً معذرت کر لی، جولیا کے اس جرات مندانہ اقدام اور جارحانہ ردعمل پر صحافی برادری نے انھیں بھرپور انداز میں سراہتے ہوئے داد دی اور تمام خواتین صحافیوں کیلیے مثال قرار دیا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ