۔28برطانیہ سے وی آئی پی مجرموں کی پاکستان واپسی

225

جولائی 2017ء کو میاں نواز شریف نااہل قرار پائے تھے اب فاضل احتساب عدالت نے اپنے فیصلے میں ’’مجھے کیوں نکالا؟‘‘ کا جواب دے دیا ہے۔ یہ 174 صفحات پر مشتمل فیصلہ ہے جو فاضل احتساب عدالت نے دیا ہے۔ قومی احتساب آرڈیننس کی دفعات کے تحت میاں نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کو مجرم قرار دیا گیا ہے، ان وی آئی پی مجرموں کو جو سزائیں ہوئی ہیں ان کی تفصیل اب ہر کسی کو معلوم ہے، اس کے علاوہ دیگر وی آئی پی مجرم حسن نواز، حسین نواز اور میاں صاحب کے سمدھی اسحاق ڈار اشتہاری قرار دیے جاچکے ہیں اور یہ ابھی تک لندن ہی میں قیام پزیر ہیں۔ جیسا کہ اب برطانیہ میں 31 جنوری 2018ء سے (بے شمار وزن کے آرڈر) کے قانون کا اطلاق بھی شروع ہوچکا ہے لہٰذا اب لندن کے وسطی علاقے پارک لین میں شریف خاندان کی ملکیت چار لگژری فلیٹس اور لندن کے دیگر علاقوں مے فیئر، چیلسی اور بیلگرویا میں لگ بھگ 21 کے قریب جائدادیں جو تمام کی تمام ہاؤس آف شریف ہی کی ہیں۔ ان پر برطانوی تحقیقاتی اداروں کی نظریں ہیں۔ کرپشن کے حوالے سے ہاؤس آف شریف اور ہاؤس آف زرداری کا چولی دامن کا ساتھ ہے، پاکستان میں کرپشن کو فروغ دینے میں تاریخ میں ان کا نام ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، جب بھی کرپشن کے بارے میں تذکرہ ہوگا تو فوراً ’’میاں نوا زشریف زرداری‘‘ ایک نام کے طور پر سامنے آئیں گے۔ پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ تین مرتبہ وزارتِ عظمیٰ کے عہدے پر رہنے والا کڑے احساب کے شکنجے میں ہے اور ساتھ ہی اس خاندان کے دیگر افراد بھی احتسابی عمل کا سامنا کررہے ہیں۔ گو کہ اس وقت پاکستانی سیاست انتہائی مشکل حالات سے دوچار ہے اس کی وجہ کوئی اور نہیں اس کی اصل وجہ دراصل یہ ہے کہ اب پاکستان میں میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری کی صورت میں بدعنوانی اور قومی لوٹ مار کے کلچر کا ایک دور ختم ہونے جارہا ہے یہ سراسر غلط ہے کہ یہ ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ یا جمہوریت کو بچانے کی جنگ ہے، یہ ذاتی دولت جو مملکت سے بھی زیادہ طاقتور ہوچکی ہے اس کے تحفظ کی دونوں خاندان جنگ لڑ رہے ہیں اور اپنے ساتھ معصوم سیاسی کارکنوں کو ملا کر پاکستان میں انارکی پھیلانے کی پوری کوشش کی جارہی ہے۔ قوم کو واضح طور پر یہ سمجھ لینا چاہیے کہ میاں نواز شریف کو مروجہ قانونی طریقے کے عین مطابق چلنے والے کرپشن کے مقدمے میں سزا ہوئی ہے، کوئی جواز ہی نہیں کہ اس ضمن میں کوئی احتجاج کیا جائے۔ دوسری جانب عدالت عظمیٰ کی جانب سے سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کو طلبی کے نوٹس جاری ہوچکے ہیں جو منی لانڈرنگ کے حوالے سے ہیں، ان کے نام اب ای سی ایل میں دیگر 13 افراد کے ہمراہ ڈالے جاچکے ہیں۔
آصف علی زرداری کے زرداری گروپ پرائیویٹ لمیٹڈ نے سمٹ بینک سے ڈیڑھ کروڑ روپے نکلوائے اور پھر ساتھ ہی 35 ارب روپے بھی اسی بینک سے مختلف اوقات سے نکلوائے۔ یہ تو ایک عام سی کرپشن کی جھلک ہے جو اب دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ سامنے لائی جارہی ہے۔ ماضی میں ان کی کرپشن کی تو کوئی حد ہی نہ تھی اور پھر تمام شواہد بھی غائب کروائے جاتے رہے، یعنی دونوں خاندان جن کو اب ’’میاں نواز شریف زرداری‘‘ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا مل کر دونوں ہاتھوں سے قومی خزانہ لوٹا، ماضی میں لندن میں رحمن ملک کے فلیٹ پر میثاق جمہوریت کا معاہدہ طے پایا تھا۔ اس معاہدے میں یہ بھی طے کردیا گیا تھا کہ پاکستان امریکا ک زیر قبضہ افغانستان اور بھارت سے ہر قیمت پر خوشگوار تعلقات قائم رکھے گا جب کہ اس سارے عمل سے اور ان کی طے شدہ پالیسی کی وجہ سے پاکستان دہشت گردی کا شکار ہوا اور اپنے 60 ہزار سے بھی زاید شہریوں کو شہید کروالیا، خطے میں آہستہ آہستہ بھارت کی بالادستی قائم ہوتی چلی گئی، نتیجہ سب کے سامنے ہے کہ مملکت پاکستان میں صدارت کے عہدے پر آصف علی زرداری آبیٹھے، اس طرح دونوں خاندانوں کا مُک مُکا چلتا رہا۔ جمہوریت کے نام پر افواج پاکستان کے خلاف زہر اُگلا جاتا رہا اور ساتھ ہی قومی خزانہ بھی لوٹا گیا اور ملک غیر ملکی قرضوں کی دلدل میں پھنس گیا۔ اللہ تعالیٰ نے شریف خاندان کو موقع دیا کہ وہ ایک طویل عرصے تک اقتدار میں رہے لیکن انہوں نے اپنے وطن عزیز کے ساتھ کیا کیا، اتنی کرپشن کی کہ جس کے ثبوت لانا بھی ایک مسئلہ بن گیا، رنج تو اس بات کا ہے کہ اس خاندان کو اتنی عزت ملی مگر یہ اپنی عزت بچا نہ سکے۔ ایسے ’’جاتی امرا‘‘ اور لندن کی جائدادوں کا کیا کہ جہاں عزت نام کی کوئی چیز ہی نہ رہی سوائے دولت کی چمک کے۔ اب بد دیانت اور چوری کے ٹھپے اس خاندان پر لگ چکے، میاں شہباز شریف اور ان کے ولی عہد حمزہ شہباز آئندہ الیکشن میں کوئی سیٹ جیت بھی جاتے ہیں تو پھر وہ کس طرح امانت، دیانت اور شرافت کا ٹھپا لگوائیں گے۔ کرپشن کے خلاف جدوجہد کرنے والی بین الاقوامی تنظیم ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے برطانوی حکومت سے شریف خاندان کے اثاثوں کے خلاف تحقیقات کا مطالبہ کردیا ہے اس مطالبے میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ یقینی بنائے کہ شریف خاندان لندن میں کرپشن سے بنائی گئی جائداد کو استعمال نہ کرسکے، برطانوی حکومت کے لیے یہ ٹیسٹ کیس ہے کہ کرپشن کے پیسے کے خلاف کریک ڈاؤن میں کتنی سنجیدہ ہے اور اب یہ بھی مطالبہ مقامی طور پر پاکستان کی کمیونٹی میں زور پکڑ رہا ہے کہ یہاں برطانیہ میں شریف خاندان کو اب محفوظ پناہ گاہ فراہم نہ کی جائے۔ دوسری جانب لندن کی مختلف یونیورسٹیوں کے علاوہ آکسفورڈ اور کیمبرج یونیورسٹی میں زیر تعلیم پاکستانی طالب علموں نے مشترکہ طور پر ایک یادداشت برطانوی وزیراعظم تھریسامے اور برطانوی پارلیمنٹ کے ارکان کو پیش کی ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ برطانیہ میں میاں نواز شریف کے تمام اثاثے اور جائدادیں ضبط کرکے نیلام کردیے جائیں اور پھر تمام پیسہ حکومت پاکستان کو دیا جائے۔ اس کے علاوہ اس یادداشت میں آصف علی زرداری کے اثاثوں اور جائدادوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے اور لندن میں ہاؤس آف شریف اور ہاؤس آف زرداری کے اثاثوں اور جائدادوں کی تفصیل بھی دی گئی ہے، یہ پہلا موقع ہے کہ برطانیہ کے مختلف تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم پاکستانی طلبہ نے مشترکہ طور پر پاکستان میں ہونے والی کرپشن کے حوالے سے آواز بلند کی ہے، اس کے ساتھ ہی پاکستانی کمیونٹی کے مختلف گروپس لندن، مانچسٹر، برمنگھم اور بریڈ فورڈ میں دستخطی مہم کا آغاز بھی کرچکے ہیں جو برطانیہ میں شریف خاندان کے اثاثوں اور جائدادوں کو ضبط کرنے کے حوالے سے ہے، اس دستخطی مہم میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ اس خاندان کے تمام اثاثے اور جائدادوں کے علاوہ ان کے تمام بینک اکاؤنٹس منجمد کردیے جائیں اور اس خاندان کی یہ دولت حکومت پاکستان کو واپس لوٹائی جائے کیوں کہ احتساب عدالت کے فیصلے سے ثابت ہوگیا ہے کہ پاکستان کا قومی سرمایہ لوٹ کر برطانیہ لایا گیا تھا۔
احتساب عدالت کی سماعت کے دوران میاں نواز شریف اور مریم نواز سرکاری پروٹوکول میں آتے رہے، حتیٰ کہ جے آئی ٹی میں اپنے بیانات ریکارڈ کرانے کے لیے جس طرح میاں نواز شریف، میاں شہباز شریف، مریم نواز، کیپٹن (ر) صفدر، حسن نواز، حسین نواز اور سمدھی اسحاق ڈار آئے ان تمام مناظر کو قوم نے اپنی ٹیلی ویژن اسکرینوں پر دیکھا۔ عدالت کے باہر آکر بیانات جس انداز میں دیے گئے اور جس طرح قومی اداروں کو تنقید کا نشانہ بنایا یہ ساری قوم نے دیکھا بھی اور سنا بھی۔ تکبر اور غرور اِس پورے خاندان پر نمایاں تھا اور ساتھ سرکاری پروٹوکول اور پھر ہٹ دھرمی، یہ سب کچھ ہاؤس آف شریف کے زوال کا باعث بنا، اگر اس خاندان کے دل میں رَتی برابر بھی محبت اپنی سرزمین سے ہوتی تو اپنی دولت کا کچھ حصہ ضرور قومی خزانے میں جمع کروادیتے اور ڈیمز بنانے میں اپنا عملی کردار ادا کرتے ہوئے اپنی دولت ڈیمز فنڈ میں جمع کراکر اس سرزمین سے اپنی محبت کا اظہار کرتے۔ یہ خاندان کم از کم غیر ملکی قرضوں کا بوجھ کم کرنے کی غرض سے اپنے اخراجات کم کرتا، مگرا ایسا ہرگز نہ ہوا۔ اب ہاؤس آف شریف کسی قانون نہیں قدرت کی پکڑ میں آچکا ہے، برطانیہ سے واپس پاکستان لوٹ رہے ہیں، مجرم کی حیثیت سے ان کی واپسی ہورہی ہے، سوال یہ ہے کہ کیا مجرموں کا بھی استقبال کیا جاتا ہے؟ دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے، اور پھر خاص طور پر نوجوان سیاسی کارکنوں سے بھی سوال ہے کہ کیا وہ میاں نواز شریف کا لاہور ائر پورٹ پر استقبال کرتے وقت یہ پوچھیں گے کہ آخر آپ کے اپنے نوجوان صاحبزادے حسن اور حسین کیوں نہیں آرہے؟۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ