ٹرمپ نے جرمنی کو روس کے ہاتھوں یر غمال قرار دیدیا

110
برسلز: نیٹو سربراہ اجلاس کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مختلف اوقات میں منہ بسور کر ناگواری کا اظہار کررہے ہیں 
برسلز: نیٹو سربراہ اجلاس کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مختلف اوقات میں منہ بسور کر ناگواری کا اظہار کررہے ہیں 

برسلز (انٹرنیشنل ڈیسک) نیٹو کا 2روزہ سربراہ اجلاس برسلز میں جاری ہے۔ آج اس اجلاس کا دوسرا اور آخری روز ہے۔ اس اجلاس کے ایجنڈے میں سرفہرست دفاعی اتحاد کا بجٹ ہے اور اسی تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بالٹک خطے میں روسی پائپ لائن کے لیے جرمن حمایت پر برلن حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنا ڈالا ہے۔ ٹرمپ اس سے پہلے بھی جرمنی پر کئی امور کے حوالے سے تنقید کر چکے ہیں۔ امریکی صدر نے کہا کہ جرمنی روس کے ہاتھوں یرغمال بن چکا ہے اور برلن حکومت دفاعی بجٹ میں اضافے میں ناکام رہی ہے۔ ٹرمپ نے بدھ کے روز برسلز میں مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے سربراہ اجلاس میں شرکت سے قبل نیٹو کے سیکرٹری جنرل ژینس اسٹولٹن برگ کے ساتھ صحافیوں سے بات چیت میں کہا کہ یہ نہایت نامناسب بات ہے کہ امریکا یورپ کو روس سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے بھاری سرمایہ خرچ کر رہا ہے، جب کہ یورپ کی سب سے بڑی معیشت جرمنی ماسکو کے ساتھ گیس معاہدوں کی حمایت کر رہی ہے۔ ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ ہم جرمنی کا دفاع کر رہے ہیں۔ ہم فرانس کا دفاع کر رہے ہیں۔ ہم ان تمام ممالک کا دفاع کر رہے ہیں اور پھر ان میں سے کئی ملک نکلتے ہیں اور روس کے ساتھ پائپ لائن کے منصوبے بنا کر روس کو اربوں ڈالر ادا کرنے لگتے ہیں۔ یعنی آپ چاہتے ہیں کہ ہم آپ کو روس سے تحفظ فراہم کریں اور آپ اربوں ڈالر روس کو ادا کر دیں۔ میرے خیال میں یہ نہایت نامناسب بات ہے۔ جب کہ ژینس اسٹولٹن برگ نے کہا کہ نیٹو کے رکن ممالک میں کئی امور پر اختلافات پائے جاتے ہیں، لیکن اتحاد ایک مضبوط بلاک ہے۔ واضح رہے کہ جرمنی نے بالٹک خطے میں 11 ارب ڈالر لاگت سے بچھائی جانے والی نئی گیس پائپ لائن کی تنصیب کے لیے سیاسی معاونت فراہم کی ہے۔ نورڈ اسٹیم ٹو نامی روسی پائپ لائن کی تنصیب پر جرمن حمایت کے مقابلے میں کئی یورپی ریاستوں کو تحفظات ہیں۔ اس سے مشرقی یورپ کے ممالک پولینڈ اور یوکرائن وغیرہ کو بائی پاس کردیا گیا ہے، اور روس براہِ راست جرمنی کو دگنی مقدار میں گیس مہیا کرسکے گا۔ یورپی ممالک کو خدشہ ہے کہ اس سے ماسکو کو مغربی یورپ کے ممالک پر زیادہ اثر ورسوخ حاصل ہوجائے گا۔ تاہم مرکل یہ بھی کہہ چکی ہیں کہ یہ منصوبہ نجی تجارتی اشتراک عمل کا نتیجہ ہے اور اس کے لیے جرمن ٹیکس دہندگان کا پیسہ استعمال نہیں کیا جا رہا۔ ٹرمپ نے سربراہ اجلاس کے موقع پر بدھ کی شام جرمن چانسلر انجیلا مرکل سے ملاقات بھی کی، جب کہ وہ پیر کو فن لینڈ کے دارالحکومت ہلسنکی میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے بھی ملاقات کریں گے۔ دوسری جانب نیٹو کے سربراہ اجلاس میں دیگر رکن ممالک کے ساتھ ترکی کے صدر رجب طیب اردوان بھی شریک ہیں۔ اردوان نے 3روز قبل ہی منتخب صدر کے طور پر حلف اٹھایا ہے۔ تارکین وطن سمیت کئی امور پر ترکی اور یورپی ممالک کے تعلقات کشیدہ ہیں، جن میں جرمنی سرفہرست ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ