احتساب اب اوپر سے شروع ہوگا،چئیرمین نیب 

260

کوئٹہ(نمائندہ جسارت) قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ احتساب اب اوپر سے شروع ہوگا،ملکی وسائل بیدردی سے لوٹے گئے،ارباب اقتدار کوسمجھا دیا مغلیہ دور گزر چکا، اب ان کا فرمان نہیں چل سکتا، اربوں ڈالر کی کرپشن کرنے والے مجرموں پر پھول نچاور کرنا ملک کی توہین ہے۔وہ کوئٹہ میں نیب بلوچستان کے زیر اہتمام ایک تقریب سے خطاب کررہے تھے۔تقریب میں مشتاق رئیسانی کرپشن کیس میں برآمد کی گئیں ایک ارب25کروڑ روپے کی جائداد اور اثاثوں کی ملکیتی دستاویزات بلوچستان حکومت کے حوالے کی گئیں۔ جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا کہ اب احتساب پٹواری سے نہیں اوپر سے شروع ہوگا، نیب جو کچھ کررہا ہے وہ کسی انتقامی کارروائی کا حصہ نہیں اور نیب کو الیکشن میں دخل اندازی دینے کی بھی کوئی ضروت نہیں، یہ جمہور پر ہے کہ وہ کسے برسراقتدار لاتے ہیں، اس کا نیب سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی نے کچھ کیا ہے، چاہے وہ سیاستدان ہو یا کوئی بھی ہو، اس سے پوچھا جائے گا، اسے سیاست نہ کہا جائے، نیب کی سرگرمیاں جہاد اور عبادت کے زمرے میں آتی ہیں۔ چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ اقتدار میں رہنے والے بعض لوگوں کو پہلی دفعہ پوچھ گچھ کا سامنا ہے، ہمارے ہاں بہت سے ارباب اختیار ایسے تھے جو خواب میں بھی نہیں سوچ سکتے تھے کہ ان سے رقوم سے متعلق پوچھا جائیگا اور جب پوچھا گیا تو کسی نے کہا کہ وہ وزیراعلیٰ تھے اور کسی نے کہا وہ وزیر خزانہ تھے، انہیں بڑے آرام سے سمجھا گیا کہ اب مغلیہ دور گزر چکا ہے، اب ان کا فرمان نہیں چل سکتا، اب آپ کا ہر حکم لوگوں کی بہتری کیلیے ہونا چاہیے۔جاوید اقبال نے کہا کہ آخر کب تک ہم جانوروں کی طرح زندگی گزاریں گے، کرپشن دیمک نہیں کینسر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نیب کسی قسم کی سیاست میں ملوث تھا اور نہ ہوگا، ان لوگوں کی طرف سے من گھڑت الزامات لگائے گئے جنہیں یہ پسند نہیں کہ نیب اتنا با اختیار بھی ہوسکتا ہے اور ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھ سکتا ہے، ملک میں ان لوگوں کے لیے اب کوئی جگہ نہیں۔جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا کہ باہر موجود کروڑوں اربوں ڈالر صاحب اختیار اور کچھ اور طبقات کے ہیں، انہیں جواب دینا ہوگا کہ پاکستان کے لیے جو پیسہ تھا وہ باہر کیسے گیا، اس پیسے کی واپسی میں تاخیر ہے کیونکہ طریقہ کار کچھ پیچیدہ ہے۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ کرپشن میں سارے صوبے برابر کے شریک ہیں، کوئی کسی سے پیچھے نہیں، وسائل بے دردی سے لوٹے گئے، نیب کی کوشش ہے کہ لوٹے وسائل اور رقومات کو واپس لایا جائے تاکہ عوام پر خرچ کی جاسکے۔انہوں نے سابق سیکرٹری خزانہ بلوچستان مشتاق رئیسانی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی گرفتاری اس سلسلے کی پہلی کڑی ہے، یہ وہ دولت ہے جو چوری نہیں کی گئی بلکہ بلوچستان کے وسائل اور خزانے پر ڈاکا ڈالا گیا اسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ