لوگ وائٹ کا لر کرائم کر کے دولت لوٹ کر لے گئے ،سوئس بینکوں میں بے انتہا پیسہ پڑا ہے،چیف جسٹس 

130

اسلام آباد(آئی این پی ) چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے بیرون ملک پاکستانیوں کے بینک اکاؤنٹس سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ لوگ وائٹ کالر کرائم کرکے دولت لوٹ کر چلے گئے۔ سوئزرلینڈ میں بے انتہا پیسہ پڑا ہوا ہے۔ پیسہ 1992 ایکٹ کے تحت باہر گیا۔پیسے کی بیرون ملک منتقلی روکنا اصل مقصد ہے ۔وائٹ کالر کرائم ختم کرنے کے لیے کچھ ہونا چاہیے۔ قانونی رکاوٹ کو دور کرنے کا راستہ نکالنا پڑے گا۔ یہی میکنزم بنانا ہے کہ پیسے کو باہر جانے سے روکا جائے۔ یہ ضروری نہیں کہ باہر جانے والے 200 ڈالرز بھی ظاہر کریں، ایسی غیر مناسب پابندی بھی نہیں لگا سکتے۔ بدھ کو عدالت عظمیٰ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے غیر ملکی اکا ؤ نٹس اثاثہ کیس کی سماعت کی ۔ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل بشیر میمن اور ڈپٹی اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے۔سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ہم نے حکم دیا تھا بتائیں کتنے لوگوں کے غیر ملکی اکاوئنٹس ہیں؟ اس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ وفاقی حکومت کو رپورٹ فائل کرنے کے لیے وقت دے دیں۔جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ پیسہ لوٹ کر لوگ باہر چلے گئے جن لوگوں نے غیر ملکی اکا ؤ نٹس ظاہر نہیں کیے ان کا پتہ چلنا چاہیے۔ اربوں روپے سوئٹزرلینڈ اور دبئی میں پڑے ہیں۔ ایف آئی اے بتائے متحدہ عرب امارات میں کتنے پاکستانیوں کے اثاثے ہیں۔ڈی جی ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ متحدہ عرب امارات میں 4221 لوگوں کے اثاثے اور اکا ؤنٹس ہیں۔ 1992 کے قانون کے تحت وہ پیسہ بیرون ملک لے کر گئے۔بشیر میمن نے بتایا کہ کچھ لوگ قانونی طریقے سے پیسہ باہر لے کر گئے ایسے لوگ بھی ہیں جو کرپشن اور ٹیکس چوری کا پیسہ باہر لے کر گئے۔ یہ پیسہ یورپ، امریکا اور کینیڈا لے جایا گیا اسے واپس لانے کے لیے کوئی راستہ نکالنا ہوگا۔ہمارے پاس میوچل لیگل معاونت کا اختیار نہیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ وائٹ کالر کرائم ختم کرنے کے لیے کچھ ہونا چاہیے، قانونی رکاوٹ کو دور کرنے کا راستہ نکالنا پڑے گا، یہی میکنزم بنانا ہے کہ پیسے کو باہر جانے سے روکا جائے۔ یہ ضروری نہیں کہ باہر جانے والے 200 ڈالرز بھی ظاہر کریں، ایسی غیر مناسب پابندی بھی نہیں لگا سکتے اصل مقصد پیسے کی بیرون ملک منتقلی روکنا ہے۔عدالت نے وکیل احمر بلال صوفی کو طلب کیا اور چیف جسٹس نے کہا کہ اگر احمر بلال صوفی دستیاب نہیں تو کیس ملتوی کر دیتے ہیں۔بعدا زاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت یکم اگست تک ملتوی کردی۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ