زرداری،فریال تالپور ایف آئی اے کے سامنے پیش نہیں ہوئے،حسین لورائی کے ریمانڈ میں توسیع ،اسلام آباد منتقل 

105

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سابق صدر پاکستان اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور بدھ کو ایف آئی اے کے سامنے پیش نہیں ہوئے‘ وکلا کے توسط سے31جولائی تک کا وقت طلب کرلیا۔ ان کی جانب سے فاروق ایچ نائیک لا فرم سے تعلق رکھنے والے وکلا نے تحریری بیان جمع کرایا جس میں آصف زرداری اور فریال تالپور نے31جولائی تک پیش ہونے کی مہلت مانگی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ آصف زرداری پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین کے صدر ہیں‘ منی لانڈرنگ کیس2014ء کا ہے ‘ اس پر ہمارے کلائنٹ سے 11جولائی2018ء کو طلب کیا گیا ہے، 2014ء کے معاملے پر ایک دن میں جواب دینا ممکن نہیں‘ آصف زرداری این اے 213 سے الیکشن لڑ رہے ہیں‘ وہ انتخابی سرگرمیوں کی وجہ سے مصروف ہیں‘ زرداری کو اس وقت طلب کیا جا رہا ہے جب 2 ہفتے بعد انتخابات ہیں‘ ہمارے کلائنٹ کو مقدمات میں مصروف رکھنے سے الیکشن مہم متاثر ہوسکتی ہے‘ اس لیے وہ الیکشن کے بعد ایف آئی اے کے تمام سوالوں کے جواب دے دیں گے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ فریال تالپور پیپلز پارٹی خواتین ونگ کی سربراہ ہیں‘جو پی ایس 10 لاڑکانہ سے انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں اور وہ بھی آج کل الیکشن مہم میں مصروف ہیں‘ الیکشن کی مصروفیت کی وجہ سے جواب دینا ممکن نہیں ہے‘ جواب داخل کرانے کے لیے 31جولائی تک مہلت دی جائے ۔ دریں اثنامنی لانڈرنگ کیس میں پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری کی جگہ ان کے وکلا آج (جمعرات کو) عدالت عظمیٰ میں پیش ہوں گے۔ عدالت عظمیٰ نے آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کوآج طلب کر رکھا ہے۔ ذرائع کے مطابق آصف زرداری نے بلاول ہاؤس لاہور میں منی لانڈرنگ کیس سے متعلق اپنی وکلا ٹیم سے مشاورت کی جس میں اعتزاز احسن، فاروق ایچ نائیک اور لطیف کھوسہ شامل تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آصف زرداری ذاتی طور پر عدالت عظمیٰ میں پیش ہونے کے لیے آمادہ ہوگئے تھے لیکن وکلا نے انہیں پیش ہونے سے روک دیا۔ پیپلزپارٹی کے رہنما نیئر بخاری کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ عدالت عظمیٰ نے آئی جی سندھ کو نوٹس بھیجا ہے کہ آصف زرداری اور فریال تالپور کو پیش کیا جائے‘جب عدالت عظمیٰ آصف زرداری کو ذاتی حیثیت میں طلب کرے گی تو پیش ہوں گے۔علاوہ ازیں کراچی میں مقامی عدالت نے منی لانڈرنگ کیس میں گرفتار نجی بینک کے صدرحسین لوائی اور ان کے ساتھی طحہٰ رضا کے ریمانڈ میں14 جولائی تک توسیع کردی‘ ایف آئی اے نے حسین لوائی اور اس کے ساتھی طحہٰ رضا کو جوڈیشل مجسٹریٹ ساؤتھ کی عدالت میں پیش کیا عدالت میں ایف آئی اے حکام نے ملزمان کے ریمانڈ میں 14 دن کی توسیع کی درخواست دائر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ عدالت عظمیٰ کے سوموٹو ایکشن کی وجہ سے ہمیں اب ریکارڈ ملنا شروع ہوا ہے لہٰذا ملزمان کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی جائے‘ بوگس اکاؤنٹس سے متعلق تحقیقات کر رہے ہیں‘یہ پیسہ حسین لوائی کا پیسہ نہیں لیکن یہ جس صاحب کا پیسہ ہے وہ بوگس اکاؤنٹس کے ذریعے گھمایا گیا‘ ملزم حسین لوائی کو نجی بینک کے صدر ہونے کے سبب اس معاملے کا علم تھا‘ ملزمان کے بیانات ریکارڈ کیے گئے ہیں‘ مزید ریمانڈ درکار ہے۔ وکلائے صفائی کا کہنا تھا کہ عدالت سے درخواست ہے کہ ہتھکڑیاں کھلوائی جائیں۔ عدالت نے ملزمان کی ہتھکڑیاں کھولنے کی ہدایت کرتے ہوئے حسین لوائی اور طحہٰ کو 14جولائی تک جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کردیا۔ بعدازاں وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے ملزم حسین لوائی کوکراچی سے اسلام آباد منتقل کردیا‘ جہاں ان سے اعلیٰ حکام مزید تفتیش کریں گے۔ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ حسین لوائی کو جمعرات کو عدالت عظمیٰ میں پیش کیا جائے گا اور اب تک کی تفتیش سے عدالت کو آگاہ کیا جائے گا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ