پہلا روبوٹ خلانورد انسان کی مدد کو تیار

74

پہلی مرتبہ ایک روبورٹ خلانورد بین الاقوامی خلائی اسٹیشن روانہ کیا گیا ہے، جو وہاں موجود خلابازوں کی مدد کرے گا۔ اس سے قبل مصنوعی دانش کا حامل انسان نما روبوٹ صرف سائنس فکشن فلموں میں دکھائی دیتا تھا۔
کریو انٹرایکٹیو موبائل کمپینیئن (سیمن) یعنی ’عملے سے بات چیت کرنے والا چلتا پھرتاساتھی‘ نامی یہ ربورٹ مصنوعی ذہانت کا حامل ہے۔ یہ روبوٹ انگریزی زبان میں بات کرتا ہے اور یہ باسکٹ بال کے حجم کا روبوٹ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر موجود جرمن خلانورد الیگزانڈر گیرسٹ کو تجربات میں مدد فراہم کرے گا۔
چپ میکر ادارے آئی بی ایم سے وابستہ انجینئر اور (سیمن) کی مصنوعی ذہانت کے اہم تخلیق کار ماتھیاس بینیوک کے مطابق ’ہم سی مون کے ذریعے خلانوردوں کی کارکردگی میں اضافہ چاہتے ہیں۔‘
سی مَون روبوٹ جرمن خلانورد گیرسٹ کو باتیں کرتے ہوئے تین طے شدہ سائنسی تجربات کو مرحلہ بہ مرحلہ کروانے میں مدد فراہم کرے گا۔ اس وقت ایسے تجربات کے لیے خلانوردوں کو لیپ ٹاپ کے ذریعے ہدایات کو پڑھ کر عمل کرنا پڑتا ہے۔ اس روبوٹ کے ذریعے اب یہ خلانورد زیادہ آسانی اور آزادی کے ساتھ اپنے تجربات کر پائیں گے۔
بینیوک کے مطابق ’اس وقت ہمارا اہم ترین مشن یہ ہے کہ ہم خلا میں موجود خلابازوں کو ان کے روزمرہ کے معمولات میں وقت بچانے میں مدد دیں۔ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن میں موجود لوگوں کا ایک ایک لمحہ قیمتی ہے۔‘
جرمن ایروسپیس سینٹر نے سی مَون کی کارکردگی جانچنے کے لیے ایک ایک گھنٹے کی تین مرحلوں میں جانچ کا منصوبہ بنایا ہے۔ اس کے ذریعے یہ طے کیا جائے گا کہ یہ ربورٹ کس طرح تجربات میں مدد فراہم کر سکتا ہے۔ اس روبوٹ میں 8 کیمرے بھی نصب ہیں۔ اسی طرح یہ دیگر مختلف معموں کو حل کرنے کی صلاحیت کا حامل بھی ہے۔
بینیوک کے مطابق سی مَون روبوٹ کی تخلیق کا خیال 1940ء کی اس سائنس فکشن کامیڈی فلم سے مستعار لیا گیا، جس میں دماغ کی شکل کا پروفیسر سی مَون نامی روبوٹ ایک خلائی جہاز میں کیپٹن فیوچر کی مدد کرتا تھا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ