پبلک ٹرانسپورٹ میں مسافروں سے لوٹ مار

68

پبلک ٹرانسپورٹ خاص طور پر اسکول وین میں گیس سلنڈر پھٹنے سے 5 بچے ہلاک اور 10 زخمی ہوگئے۔ اعلیٰ حکام نے نوٹس لے لیا۔ ایک یا دو دن مزید خبریں آئیں گی۔ پھر اعلیٰ حکام کمشنر، وزیراعلیٰ وغیرہ دوسرے کاموں میں مصروف ہوجائیں گے۔ گیس سلنڈر غلط طریقوں سے آج بھی گاڑیوں میں نصب ہیں۔ آج پبلک ٹرانسپورٹ نے یک طرفہ طور پر کرایے بڑھادیے ہیں جس سے مزدور برادری پریشان ہے۔ زیادہ کرایہ لینے پر غریب مزدور احتجاج کرتے ہیں لیکن کنڈیکٹر کی بد زبانی کی وجہ اور کام پر جانے کی وجہ سے زیادہ کرایہ دینے پر مجبور ہیں۔ بس 4Q اور 4L نے زیادہ کرایہ 15 روپے سے بڑھا کر 20 روپے کردیا ہے۔ منی بسوں کا کرایہ زیادہ سے زیادہ 17 روپے مقرر ہے لیکن وہ 20 روپے وصول کرتے ہیں۔ منی بس D-7 سے سفر کرنے والے مزدور پہلے اڈے سے دوسرے اڈے کی طرف سفر کریں تو 30 روپے کرایہ وصول کیا جاتا ہے۔ ویگن A-25 والے بھی 30 روپے کرایہ وصول کرتے ہیں۔ W-11 والوں نے بھی کرایہ 20 روپے بڑھا کر 25 روپے اور اس سے زیادہ کردیا ہے۔ کوچ والوں نے بھی کرایہ 30 روپے کردیا ہے۔ جس دن CNG بند ہوتی ہے اس دن کوچ والے 20 روپے والا کرایہ 30 روپے کردیتے ہیں۔ 24 مئی کو مسعود کوچ نمبر PE-2342 میں 3 بجے دن ملیر ہالٹ سے موسمیات کا سفر کیا۔ کنڈیکٹر نے آواز لگائی کہ چیک پوسٹ 6 نمبر کا کرایہ 20 روپے اور آگے جانے والوں سے 30 روپے کرایہ وصول کروں گا۔ مسافروں نے بہت بحث کی لیکن کوئی نتیجہ نہیں آیا۔ ایک مسافر نے پوچھا کس نے کرایہ بڑھایا تو کنڈیکٹر نے جواب دیا میں کہہ رہا ہوں کرایہ بڑھادیا۔ اس شور شرابہ میں ایک خاتون نے بھی احتجاج کیا جس پر ڈرائیور نے گاڑی روک کر ذلیل کرتے ہوئے اس کو اتار دیا۔ اس طرح کے واقعات کا نوٹس لینے کا کون ذمے دار ہے۔ زیادہ کرایہ وصول کرنے والوں کی میں خود شکایت ٹریفک پولیس کے سارجنٹ کو کی ہیں لیکن کوئی نتیجہ سامنے نہیں آتا۔ ویگن G-3 کا روٹ بلدیہ سے صفورا گوٹھ سے آگے تک ہے۔
مرسلہ: قاضی سراج ، کراچی

Print Friendly, PDF & Email
حصہ