پارکس اور کھیل کے میدانوں پر قبضے میں معاون افسران کیخلاف کاروائی کا حکم

51

کراچی (اسٹاف رپورٹر)عدالت عظمیٰ نے شہر کے پارکوں اور کھیل کے میدانوں پر قبضے کے خلاف سابق سٹی ناظم نعمت اللہ خان کی توہین عدالت کی درخواست پر چیف سیکرٹری اور ایڈووکیٹ جنرل سندھ کو قبضوں میں معاونت کے ذمے دار سرکاری افسران کیخلاف تحقیقات کی ہدایت کرتے ہوئے ایک ماہ میں رپورٹ طلب کر لی۔ جمعرات کو جسٹس گلزار احمد ،جسٹس مقبول باقر اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل لارجر بینچ نے توہین عدالت درخواست کی کراچی رجسٹری میں سماعت کی ،عدالت نے اپنے حکم میں قرار دیا ہے کہ ایک رفاہی پلاٹ کا جائزہ لے کر رپورٹ پیش کی جائے۔اس موقع پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے رپورٹ پیش کی جس میں کہا گیا کہ کشمیر روڈ پر تمام تجاوزات کا خاتمہ کر دیا گیا ہے ، جس پر عدالت نے کے ڈی اے حکام سے نوخیز پارک پر قائم تجاوزات کے حوالے سے استفسار کیا جس پر کے ڈی اے حکام نے کہا کہ انہیں نوخیز پارک کے بارے میں علم نہیں ہے، جس پر جسٹس گلزار نے ریمارکس دیے کہ پورا کراچی کچی آبادی کا منظر پیش کررہا ہے، 90 فیصد کراچی کو تباہ کردیا گیا۔ آپ لوگوں کو نوخیز پارک کا علم نہیں کیا کام کرتے ہوں گے ،سماعت کے دوران عدالت نے پارکوں پر قائم قبضے ختم نہ کرانے پر عدالت شدید برہمی کا اظہار کیا ۔یہ ملک صرف دعاؤں سے نہیں چل سکتا، کچھ کرنا ہوگا اور ا گر صرف دعاؤں سے چلنا ہوتا تو افغانستان ،عراق اور شام کا یہ حال نہ ہوتا۔سماعت کے موقع پر عدالت کا ایڈووکیٹ جنرل سے مکالمے میں کہنا تھا کہ کراچی پر ڈھائی سو ارب خرچ کیے، کہاں خرچ ہوئے اور 10 سال آپ کی حکومت نے کیا کیا؟۔سماعت کے دوران جسٹس گلزار احمد کے اپنے ریمارکس میں کہنا تھا کہ خدا کے لیے قدرت سے مت چھیڑ چھاڑ کریں اوردنیا دیکھ رہی ہے کراچی والے کیسے زندگی گزار رہے ہیں جبکہ ایک وقت تھا ایک انچ زمین پر قبضے ہوتا تو فوری کارروائی ہوتی تھی، جس کا دل چاہتا ہے وہاں مال دے کر بلڈنگ بنا دیتا ہے‘ اس شہر میں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ، باتھ آئی لینڈ پر مائی کلاچی روڑ بنا کر تباہ کردیا، کچھ سمجھ نہیں آرہا اسے ٹھیک کون کرے گا،2010 سے کیس چل رہا ہے ایک فیصد بھی پیش رفت نہیں ہے اور یورپ جائیں دیکھیں لوگ کیسے اپنے آثار قدیمہ کا تحفظ کرتے ہیں، شہر کی بڑی شاہراہوں پر کوئی ایک پارک نہیں ہے ،دنیا کے اتنے بڑے شہر کے ساتھ کیا سلوک کر رہے ہیں،کیا اپنے شہریوں کے لیے کچھ کرنا نہیں چاہتے،شارع فیصل پر ہر طرف دیواریں کھڑی ہو رہی ہیں‘ کون دیواریں بنا رہا ہے؟آثار قدیمہ کے پاس اربوں روپے پڑے ہیں، ایک ایک رفاعی پلاٹ کی نشاندہی کرکے آپریشن کرنا ہوگا بعد ازاں عدالت نے چیف سیکرٹری سندھ اور ایڈووکیٹ جنرل سندھ کو قبضوں میں معاونت کے ذمہ دار سرکاری افسران کے خلاف تحقیقات کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ