سندھ میں کینالوں او ر نہروں پر رینجرز تعینات کرنیکا فیصلہ

33

کراچی (اسٹاف رپورٹر) نگراں وزیراعلیٰ سندھ فضل الرحمان نے مختلف کینالوں، نہروں اور چینلز پر پاکستان رینجرز کو تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ پانی کی چوری کو روکا جاسکے اور آخری سرے تک پانی فراہم کیا جاسکے۔ انہوں نے یہ فیصلہ اور ہدایات جمعرات کو وزیراعلیٰ ہاؤس میں محکمہ آبپاشی سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دیں۔ نگراں وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ میرا مقصد ہے کہ آخری سرے تک تمام آبادگاروں کو پانی فراہم کیا جاسکے۔ لہٰذا میں رینجرز تعینات کرنے جا رہا ہوں اور
پانی کی چوری کا کیس براہ راست زمینداروں کے خلاف درج ہوگا، نہ کہ ان کے کم داروں(منیجرز) کے خلاف۔ نگراں وزیراعلیٰ سندھ نے سیکرٹری آبپاشی کو ہدایت کی کہ وہ کینالوں اور ڈسٹریبیوٹریز اور برانچوں جہاں سے پانی چوری ہو رہا ہے ان مقامات کی نشاندہی کریں اور اس کی فہرست سیکرٹری داخلہ کو دیں۔ سیکرٹری داخلہ رینجرز کے ساتھ رابطہ کرکے انہیں تعینات کریں گے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کینالز کے ساتھ رینجرز کی تعیناتی کے لیے ڈی جی رینجرز کے ساتھ بات بھی کی۔ اجلاس میں وزیر آبپاشی مشتاق شاہ، پرنسپل سیکرٹری سہیل راجپوت و سیکرٹری آبپاشی جمال شاہ نے شرکت کی۔ سیکرٹری آبپاشی جمال شاہ نے اجلاس کو بتایا کہ پانی کی صورتحال بتدریج بہتر ہورہی ہے اور گڈو بیراج پر 81 ہزار 328 کیوسک پانی ریکارڈ کیاگیا ہے۔ گڈو بیراج اپ اسٹریم پر 81 ہزار 328 کیوسک اور ڈاؤن اسٹریم پر 63 ہزار 948 کیوسک ہے۔ سکھر بیراج اپ اسٹریم 48401 کیوسک اور ڈاؤن اسٹریم 15 ہزار 831 کیوسک ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ نارا کینال کی گنجائش 13 ہزار 649 کیوسک ہے، اس کے مقابلے میں پانی کا اخراج 10 ہزار 500 کیوسک ہے۔ یہ کوئی خراب صورتحال نہیں ہے مگر اس کے باوجود نارا کینال کے آخر میں پانی کی شدید قلت ہے۔ اس پر سیکرٹری آبپاشی نے کہا کہ مختلف ڈسٹریبیوٹریز پر پانی چوری ہو رہا تھا اور اب تک 50 ایف آئی آر درج کی جاچکی ہیں۔ نگراں وزیراعلیٰ سندھ نے پولیس کی مدد کے لیے رینجرز تعینات کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ پانی کی چوری کو روکا جاسکے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ