لاہور ہائیکورٹ: سیاسی شخصیات پر بے بنیاد مقدمات پر جرمانہ عاید کرنے کا انتباہ

41

لاہور (نمائندہ جسارت) لاہور ہائی کورٹ نے سیاسی شخصیات سے سرکاری اراضی واپس لینے کے لیے درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دی۔ عدالت نے ہدایت کی ہے کہ ریکارڈ لگا کر دوبارہ درخواست دائر کریں، اراضی الاٹمنٹ کا ریکارڈ بھی پیش کریں ورنہ بے بنیاد درخواست دائر کرنے پر جرمانہ کیا جائے گا۔ جسٹس عابد عزیز شیخ نے مقامی وکیل رانا علم الدین غازی ایڈووکیٹ کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست میں صوبائی حکومت، بورڈ آف ریونیو سمیت دیگر شخصیات کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پاکستان میں ایک طرف کرپشن عام ہے، دوسری طرف سرکاری اراضی پر سیاسی لوگوں نے قبضے کر رکھے ہیں جبکہ حکومت پنجاب ان شخصیات سے اراضی واگزار کرانے میں ناکام رہی۔ ڈیرہ غازی خان میں مریم نواز اور کیپٹن(ر) صفدر نے 5000 سرکاری اراضی پر قبضہ کر رکھا ہے۔ سابق ڈپٹی اسپیکر علی شیر گورچانی نے 14000 ہزار سرکاری اراضی پر قبضہ کر رکھا ہے۔ عاطف مزاری نے 17ہزار 900 ایکڑ اراضی پر قبضہ کر لیا ہے۔ حفیظ الرحمن دریشک نے 6 ہزار 200 ایکڑ اراضی پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت اس سرکاری اراضی کو واگزار کرانے اور بعد ازاں اس اراضی کو غریبوں میں تقسیم کرنے کا حکم دے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ