عید: مزدوری وصول کرنے کا دن

72

محمد یوسف اصلاحی

رمضان کے مبارک شب وروز رخصت ہوگئے۔ عید کی صبح نمودار ہوگئی۔ مسلمان عید کی خوشیوں سے سرشار، عید کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ آج اظہارِ مسرت کا دن ہے، جشن منانے کا دن ہے، ایک دوسرے سے ملنے اور مبارک باد لینے دینے کا دن ہے، خدا کی حمد وثنا اور تکبیر وتہلیل کا دن ہے، خدا کے حضور سجدہ شکر بجا لانے کا دن ہے۔ عید خدا کا مقرر کیا ہوا تہوار ہے۔ آج کے دن نہانا دھونا، صاف ستھرے کپڑے پہننا، خوشبو لگانا، تکبیر وتہلیل کہتے ہوئے عیدگاہ جانا، عیدگاہ جانے سے پہلے کچھ میٹھا کھانا، ایک راستے سے جانا اور دوسرے راستے سے آنا اور سب کے ساتھ مل کر شوکتِ اسلام کا مظاہرہ کرنا خدا کے نزدیک پسندیدہ اور مطلوب اعمال ہیں۔
سیدنا انسؓ کا بیان ہے کہ نبیؐ جب مکے سے مدینہ تشریف لائے تو آپ نے دیکھا کہ مدینے کے لوگ دو مخصوص دنوں میں کھیل وتفریح کرتے اور خوشیاں مناتے ہیں۔ آپ نے پوچھا: یہ دو دن کیسے ہیں؟ لوگوں نے بتایا: یہ ہمارے تہوار ہیں، ہم دورِ جاہلیت سے ان دو دنوں میں اسی طرح خوشی مناتے رہے ہیں۔ نبیؐ نے فرمایا: خدا نے تمھیں ان دو دنوں کے بدلے زیادہ بہتر دو دن عطا فرمائے ہیں، ایک عیدالفطر اور دوسرا عیدالاضحی۔ (سنن ابوداود)
اس مختصر سی روایت سے ایک نہایت اہم حقیقت پر روشنی پڑتی ہے، وہ یہ کہ ایک بامقصد ملّت کے تہوار بھی بامقصد ہوتے ہیں۔ اسلامی تہواروں کا مقصد صرف اتنا ہی نہیں ہے کہ دوسری قوموں کی طرح مسلمان ملّت بھی سال بھر میں دو دن جشنِ مسرت منالیا کرے، اور تہوار منانے کے فطری جذبے کو تسکین دے۔ اگر بات صرف اتنی ہی ہوتی، تو ان دو دنوں کے بدلے دوسرے دو دن مقرر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ مسلمان انہی دو دنوں میں جشنِ مسرت مناتے رہتے، جیسا کہ مدینے والے ایک زمانے سے مناتے چلے آرہے تھے، لیکن خدا کے رسولؐ نے فرمایا: ’’ان دو دنوں سے بہتر دو دن خدا نے تمھیں اظہارِ مسرت کے لیے عطا فرمائے ہیں، ایک عیدالفطر اور دوسرا عیدالاضحی‘‘۔
عیدالفطر شوال کی پہلی تاریخ کو منائی جاتی ہے اور عیدالاضحی ذوالحجہ کی 10 تاریخ کو۔ یکم شوال کو عیدالفطر منانے کا بھی ایک اہم مقصد ہے اور 10ذوالحجہ کو اظہارِ مسرت کا بھی ایک خاص پس منظر ہے۔ وقت کی مناسبت سے ان سطروں میں صرف عیدالفطر کے مقصد پر اظہارِ خیال کرنا ہے۔
رمضان کے شب وروز کی عبادتوں سے فارغ ہوتے ہی خوشی منانا اور دوگانہ شکر ادا کرنا دراصل اس حقیقت کا اظہار ہے کہ خدا ہی کے فضل وکرم سے ہمیں رمضان کی یہ مبارک ساعتیں حاصل ہوئیں اور اسی کی توفیق سے ہم قیام وصیام، تلاوت وتسبیح، صدقہ وخیرات اور دوسری عبادتیں بجا لاسکے۔ اگر خدا کی توفیق واطاعت نہ ہوتی تو ہم کچھ بھی نہ کرسکتے۔
عید منانے کی اس حقیقت کو سامنے رکھیے تو اس بات کو دہرانے کی ضرورت ہی نہیں محسوس ہوتی کہ عید کی خوشی میں اس بدنصیب کا کوئی حصہ نہیں ہے، جو رمضان کی برکتوں سے محروم رہا اور رمضان کے بابرکت شب وروز پانے کے باوجود اس نے اپنی مغفرت کا سامان نہیں کیا۔ لیل ونہار کی گردش جب تک باقی ہے، یکم شوال کی تاریخ آتی رہے گی، مگر محض اس صبح کا طلوع ہونا ہی پیغامِ مسرت نہیں ہے۔ یہ صبح تو ہر ایک پر طلوع ہوتی ہے، لیکن اس جشن میں حقیقی مسرت صرف اسی کا حصہ ہے جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہوکر یہ کہہ سکے کہ پروردگار تو نے جو مبارک مہینہ مجھے عطا فرمایا تھا، میں نے اسے ضائع نہیں کیا، میں دن میں بھی تیری خوشی کے کام کرتا رہا اور شب میں بھی تیری عبادت میں لگا رہا۔
عید کا دن عید بھی ہے اور وعید بھی، یہ مبارک باد کا دن بھی ہے اور تعزیت کا دن بھی۔ مبارک باد کا دن ان خوش نصیبوں کے لیے ہے جن کا رمضان شکرگزاری کی حالت میں گزرا اور تعزیت کا دن ان کم نصیبوں کے لیے ہے جن کا رمضان اس طرح گزرا کہ وہ اس کی برکتوں سے محروم ہی رہے۔ بے شک ایسے لوگوں کے لیے عید، وعید کا دن ہے، یہ مبارک باد کے نہیں تعزیت کے مستحق ہیں۔
یہ مبارک باد کا دن بھی ہے اور تعزیت کا دن بھی۔ مبارک باد اس کے لیے جس سے رمضان خوش خوش رخصت ہوا اور تعزیت کا دن ہے، اس کے لیے جس سے رمضان رخصت ہوگیا اور وہ اس سے محروم ہی رہا۔
عیدالفطر یقیناً مسلمانوں کے لیے اظہارِ مسرت کا دن ہے، یہ خدا کا دیا ہوا تہوار ہے مگر یہ ضرور سوچنے کی بات ہے کہ خوشی کس بات کی؟ رمضان اپنی تمام برکتوں اور رحمتوں کے ساتھ آپ پر سایہ فگن ہوا۔ آپ نے اس کو خدا کا انعام سمجھ کر اگر اپنی عاقبت بنانے، اور مغفرت ونجات کا سامان کرنے کی فکر کی ہے تو بے شک یہ خوشی کی بات ہے، اور آپ عیدالفطر کا تہوار منانے کے مستحق ہیں، مگر جس کم نصیب نے رمضان کی مبارک ساعتوں میں ذرا بھی اپنی مغفرت ونجات کی فکر نہیں کی، رمضان کا سارا مہینہ اس نے یوں ہی غفلت اور محرومی میں گزار دیا، خدا کو خوش کرنے کے بجائے اس نے خدا کا غضب اور بھڑکایا، اس کو بھلا کیا حق ہے کہ وہ عید کا تہوار منائے اور خوشی کا اظہار کرے۔ وہ آخر کس بات کی خوشی منائے اور کس منہ سے خدا کی بڑائی ظاہر کرنے کے لیے تکبیر کہے۔
اس شخص کی ہلاکت اور محرومی میں کس کو شک ہوسکتا ہے، جس کی تباہی اور ہلاکت کے لیے جبرئیل امین بددعا کریں اور بددعا پر رسول مقبولؐ آمین کہیں۔
جو خوش نصیب عید کی مبارک باد اور خوشی کے واقعی حق دار ہیں، ان کا ایمان افروز حال خود نبی کریمؐ کی زبان سے سُنیے اور اس آرزو کو پورا کرنے میں لگ جائیے کہ آپ کا شمار بھی انہی لوگوں میں ہو۔ نبیؐ نے فرمایا: جب عید کی صبح نمودار ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں کو ہرشہر اور ہر بستی کی طرف روانہ کردیتا ہے، فرشتے زمین میں اتر کر ہرگلی اور ہر راستے کے موڑ پر کھڑے ہوجاتے ہیں اور پکارتے ہیں۔ ان کی پکار ساری مخلوق سنتی ہے، مگر انسان اور جِن نہیں سن پاتے۔۔۔ وہ پکارتے ہیں:
اے محمدؐ کی امت کے لوگو! نکلو اپنے گھروں سے اور چلو اپنے پروردگار کی طرف! تمھارا پروردگار بہت ہی زیادہ دینے والا اور بڑے سے بڑے قصور کو معاف کرنے والا ہے۔ اور جب مسلمان عیدگاہ کی طرف جانے لگتے ہیں تو خدائے عزوجل اپنے فرشتوں سے مخاطب ہوکر پوچھتا ہے: میرے فرشتو! اس مزدور کا صلہ کیا ہے جس نے اپنے رب کا کام پورا کیا؟ فرشتے کہتے ہیں: اے ہمارے معبود! اے ہمارے آقا! اس مزدور کا صلہ یہ ہے کہ اسے بھرپور مزدوری دی جائے۔ اس پر خدا کا ارشاد ہوتا ہے: فرشتو! تم سب گواہ ہوجاؤ کہ میں نے اپنے بندوں کو جو رمضان بھر روزے رکھتے رہے اور تراویح پڑھتے رہے، اس کے صلے میں اپنی خوشنودی سے نواز دیا اور ان کی مغفرت فرمادی۔
پھر خدا اپنے بندوں سے کہتا ہے: میرے پیارے بندو! مانگو مجھ سے جو کچھ مانگتے ہو۔ مجھے میری عزت کی قسم! مجھے میرے جلال کی قسم! آج عید کے اس اجتماع میں تم اپنی آخرت بنانے کے لیے مجھ سے جو مانگو گے، عطا کروں گا اور اپنی دنیا بنانے کے لیے جو چاہو گے، اس میں بھی تمھاری بھلائی کو پیش نظر رکھوں گا۔۔۔ جب تک تم میرا دھیان رکھو گے، میں تمھارے قصوروں پر پردہ ڈالتا رہوں گا۔ مجھے میری عزت کی قسم! مجھے میرے جلال کی قسم! میں تمھیں مجرموں کے سامنے ہرگز ذلیل اور رسوا نہ کروں گا۔ جاؤ تم اپنے گھروں کو بخشے بخشائے لوٹ جاؤ، تم مجھے راضی کرنے میں لگے رہے ہو، میں تم سے راضی ہوگیا۔
فرشتے اس بشارت پر خوشی سے جھوم اٹھتے ہیں اور خدا کی اس بخشش اور نوازش پر خوشیاں مناتے ہیں، جو وہ اپنے بندوں پر فرماتا ہے، جو رمضان بھر کے روزے رکھ کر آج اپنا روزہ کھولتے ہیں۔ (الترغیب)

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں