شوال کے روزے

137

عابد علی جوکھیو

رمضان المبارک کے روزوں کے بعد شوال کے چھ روزے رکھنا مستحب ہیں، احادیث میں شوال کے ان چھ روزوں کی بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ حدیث میں ہے کہ جو شخص رمضان المبارک کے روزوں کے بعد شوال میں چھ روزے بھی رکھے تو اس کے لیے پورے سال کے روزوں کا اجر وثواب لکھ دیا جاتا ہے۔
ابوایوب انصاریؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرمؐ نے فرمایا: ’’جس نے رمضان المبارک کے روزے رکھنے کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تو گویا اس نے پورے سال کے روزے رکھے ہوں‘‘۔ (مسلم)
رسول اللہؐ کے غلام سیدنا ثوبانؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے جس نے عیدالفطر کے بعد چھ روزے رکھے، گویا اس نے پورے سال روزے رکھے کیونکہ جو ایک نیکی لے کرآئے گا اس کو دس گنا اجر ملے گا۔ (ابن ماجہ)
طبرانی کی ایک روایت میں ہے کہ سیدنا عبداللہ ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ حضورؐ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے رمضان کے روزے رکھے اور اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تو وہ گناہوں سے ایسا پاک ہوگیا جیسا کہ اپنی ماں کی پیٹ سے پیدا ہونے کے بعد تھا۔
قاعدہ ہے کہ ایک نیکی کا اجر کم از کم دس گناہ ہے۔ اس کے مطابق ایک مہینے (رمضان) کے روزے دس مہینوں کے برابر ہیں، اور اس کے بعد شوال کے چھ روزے بھی رکھ لیے جائیں تو یہ دو مہینے کے برابر ہوگئے یوں گویا یہ چھ روزے رکھنے والا پورے سال کے روزے رکھنے والے کے مترادف ہوگیا۔ دوسرے لفظوں میں اس نے پورے سال کے روزے رکھے اور جس کا یہ مستقل معمول ہوجائے تو وہ گویا اس نے پوری زندگی روزوں کے ساتھ گزاری اور وہ اللہ کے ہاں ہمیشہ روزہ رکھنے والا شمار ہوگا۔ اس اعتبار سے یہ روزے بڑی اہمیت رکھتے ہیں گو ان کی حیثیت نفلی روزوں کی ہے۔ یہ روزے اکٹھے بھی رکھے جاسکتے ہیں اور وقفے وقفے کے سے بھی۔ تاہم شوال کے مہینے میں رکھنے ضروری ہیں۔ اسی طرح جن کے رمضان کے فرضی روزے بیماری یا سفر کی وجہ سے رہ گئے ہوں، ان کے لیے ضروری ہے کہ پہلے وہ فرضی روزوں کی قضا دیں اور اس کے بعد شوال کے چھ نفلی روزے رکھیں۔
ابن خزیمہ نے روایت کیا ہے کہ ’’رمضان المبارک کے روزے دس گنا اورشوال کے چھ روزے دو ماہ کے برابر ہیں تواس طرح کہ پورے سال کے روزے ہوئے‘‘۔
فقہاء کرام نے تصریح کی ہے کہ رمضان المبارک کے بعد شوال کے چھ روزے رکھنا پورے ایک سال کے فرضی روزوں کے برابر ہے، ویسے تو عمومی طور پر نفلی روزوں کا اجر وثواب بھی زیادہ ہونا ثابت ہے، کیونکہ ایک نیکی دس کے برابر ہے۔ پھر شوال کے چھ روزے رکھنے کے اہم فوائد میں یہ بھی شامل ہے کہ یہ روزے رمضان المبارک میں رکھے گئے روزوں کی کمی بیشی اور نقص کو پورا کرتے ہیں، کیونکہ روزے دار سے کمی بیشی ہوجاتی ہے اورگناہ بھی سرزد ہوجاتا ہے اس لیے یہ روزے ان روزوں میں ہونے والی کمی پیشی کو دور کرتے ہیں۔ ایک بات یہ بھی ہے کہ جس طرح بندے کے فرائض میں کمی کی صورت میں اس کی نفلی عبادتوں سے اس کی تلافی کی جاتی ہے اسی طرح یہاں بھی ان نفلی روزوں سے قضا شدہ فرضی روزوں کی تلافی ممکن ہے۔ نبیؐ نے فرمایا ہے: ’’روزِ قیامت بندے کے اعمال میں سب سے پہلے نماز کا حساب ہوگا۔ رب عزوجل اپنے فرشتوں سے فرمائے گا حالانکہ وہ زیادہ علم رکھنے والا ہے، میرے بندے کی نمازوں کو دیکھو کہ اس نے پوری کی ہیں کہ اس میں نقص ہے، اگر مکمل ہوں گی تو مکمل لکھی جائیں گی، اور اگر اس میں کچھ کمی ہوئی تو اللہ تعالی فرمائے گا دیکھو میرے بندے کے نوافل ہیں، اگر اس کے نوافل ہوں گے تو اللہ تعالی فرمائے گا میرے بندے کے فرائض اس کے نوافل سے پورے کرلو، پھر باقی اعمال بھی اسی طرح لیے جائیں گے‘‘۔ (سنن ابوداؤد)

Print Friendly, PDF & Email
حصہ