افکار سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ 

83
سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ
سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ

مبارکباد
عید کی مبارک باد کے حقیقی مستحق وہ لوگ ہیں جنھوں نے رمضان المبارک میں روزے رکھے۔ قرآنِ مجید کی ہدایت سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اْٹھانے کی فکر کی، اِس کو پڑھا، سمجھا، اْس سے رہنمائی حاصل کرنے کی کوشش کی اور تقویٰ کی اْس تربیت کا فائدہ اْٹھایا جو رمضان المبارک ایک مومن کو دیتا ہے۔
قرآنِ مجید میں رمضان کے روزوں کی دو ہی مصلحتیں بیان کی گئی ہیں۔ ایک یہ کہ ان سے مسلمانوں میں تقویٰ پیدا ہو۔ ترجمہ: ’’تم پر روزے فرض کیے گئے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم میں تقویٰ پیدا ہو‘‘۔ (البقرہ 183)
دوسری یہ کہ مسلمان اْس نعمت کا شکر ادا کریں جو اللہ تعالیٰ نے رمضان میں قرآنِ مجید نازل کرکے ان کو عطا کی ہے۔ ترجمہ: ’’تاکہ تم اللہ کی تکبیر کرو اور اس کا شکر ادا کرو، اْس ہدایت پر جو اْس نے تمھیں دی ہے‘‘۔ (البقرہ 185)
(تفہیمات، چہارم، ص 166)
*۔۔۔*۔۔۔*
نفس پر قابو
ایک مہینے تک روزانہ یہ باندھنے اور کھولنے کا عمل اسی لیے کیا جاتا ہے کہ (بندے) آپ اللہ تعالیٰ کی پوری پوری بندگی و اطاعت کے لیے تیار ہوجائیں۔ جس جس چیز سے وہ آپ کو روکتا ہے اْس سے رْکنے کی، اور جس جس چیز کا وہ آپ کو حکم دیتا ہے اس کو بجالانے کی آپ کو عادت ہوجائے۔ آپ اپنے نفس پر اتنا قابو پالیں کہ وہ اپنے بے جا مطالبات اللہ کے قانون کے خلاف آپ سے نہ منوا سکے۔ یہ غرض ہے جس کے لیے روزے آپ پر فرض کیے گئے ہیں۔
اگر کسی شخص نے رمضان کے زمانے میں روزے کی اس کیفیت کو اپنے اندر جذب کیا ہے تو وہ حقیقت میں مبارک باد کا مستحق ہے، اور اس سے زیادہ مبارک باد کا مستحق وہ شخص ہے جو مہینے بھر کی اس تربیت کے بعد عید کی پہلی ساعت ہی میں اسے اپنے اندر سے اْگل کر پھینک نہ دے بلکہ باقی 11 مہینے اس کے اثرات سے فائدہ اْٹھاتا رہے۔ (تفہیمات، چہارم، ص 169)
*۔۔۔*۔۔۔*
بہترین غذا
آپ غور کیجیے! اگر ایک شخص اچھی سے اچھی غذا کھائے جو انسان کے لیے نہایت قوت بخش ہو، مگر کھانے سے فارغ ہوتے ہی حلق میں انگلی ڈال کر اس کو فوراً اْگل دے تو اس غذا کا کوئی فائدہ اْسے حاصل نہ ہوگا، کیونکہ اْس نے ہضم ہونے اور خون بنانے کا اسے کوئی موقع ہی نہ دیا۔ اس کے برعکس اگر ایک شخص غذا کھا کر اْسے ہضم کرے اور اْس سے خون بن کر اْس کے جسم میں دوڑے، تو یہ کھانے کا اصل فائدہ ہے جو اْس نے حاصل کیا۔ کم درجے کی مقوی غذا کھاکر اْسے جزوِ بدن بنانا اس سے بہتر ہے کہ بہترین غذا کھانے کے بعد استفراغ (قے) کردیا جائے۔ ایسا ہی معاملہ رمضان کے روزوں کا بھی ہے۔ ان کا حقیقی فائدہ آپ اسی طرح اْٹھا سکتے ہیں کہ ایک مہینے تک جو اخلاقی تربیت اِن روزوں نے آپ کو دی ہے، عید کے بعد آپ اس کو نکال کر اپنے اندر سے پھینک نہ دیں، بلکہ باقی 11 مہینے اس کے اثرات کو اپنی زندگی میں کام کرنے کا موقع دیں۔ یہ فائدہ اگر کسی شخص نے اِس رمضان سے حاصل کرلیا تو وہ واقعی پوری پوری مبارک باد کا مستحق ہے کہ اْس نے اللہ کی ایک بہت بڑی نعمت پالی۔ (تفہیمات، چہارم، ص 170)
*۔۔۔*۔۔۔*

Print Friendly, PDF & Email
حصہ