آپ کے مسائل اور ان کا حل

40

س: اگر عید کی جماعت میں تاخیر ہو اور پہلی رکعت نکل جائے تو امام کے پیچھے دوسری رکعت پڑھنے کے بعد پہلی رکعت کو دہرانے کا کیا طریقہ ہوگا؟
ج: اگر عید کی نماز میں ایک رکعت چھوٹ جائے تو امام کے سلام پھیرنے کے بعد چُھوٹی ہوئی رکعت اس طرح ادا کرے کہ پہلے ثنا، تعوذ، تسمیہ، سورہ فاتحہ اور کوئی سورت پڑھے، اس کے بعد رکوع سے پہلے تین تکبیرات زوائد کہے گا اور عام نمازوں کی طرح بقیہ نماز مکمل کرے گا۔
(فتوی:690۔568/N2367/1439)
*۔۔۔*۔۔۔*
س: عید کے دن دکان کھولنا اور تجارت کرنا کیسا ہے؟ سنا ہے کہ عید کے دن دکان کھولنا مکروہ ہے؟
ج: دیگر ایام کی طرح عید کے دن بھی دکان کھولنا اور تجارت کرنا جائز ہے، کراہت کی کوئی وجہ نہیں۔ جو صاحب عید کے دن دکان کھولنے کو مکروہ کہتے ہیں، ان سے اس کا حوالہ اور وجہ دریافت کیجیے۔
(فتوی: 1229۔1229/M23611/1434۔U)
*۔۔۔*۔۔۔*
س: عید کی نماز کے لیے کوئی جگہ مختص نہیں ہے۔ شہر کی آبادی میں مسجد موجود ہے۔ کیا محلے کے افراد جمع ہوکر عید کی نماز پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟ برائی مہربانی تفصیل سے جواب دیں۔
ج: عید کی نماز عیدگاہ، مسجد یا مملوکہ ہال وغیرہ کہیں بھی ادا کی جاسکتی ہے، بشرطیکہ وہاں شرائط جمعہ پائے جاتے ہوں۔ البتہ مسنون یہ ہے کہ عید کی نماز آبادی سے باہر عیدگاہ یا کسی میدان میں ادا کی جائے، اور اگر آپ کے یہاں کوئی عیدگاہ نہ ہو تو آپ سب لوگ مل کر عیدگاہ کا انتظام کریں اور جب تک انتظام نہ ہو سب لوگ کسی بڑی مسجد میں نماز عید ادا کریں، یہ اس سے بہتر ہے کہ ہر محلے کے لوگ اپنے اپنے محلے میں الگ الگ ادا کریں کیونکہ اس میں وہ اجتماعیت نہ ہوگی جو کسی ایک اور بڑی مسجد میں ادا کرنے میں ہوسکتی ہے، جب کہ جمعے اور عیدین کی نمازوں میں زیادہ سے زیادہ اجتماعیت شرعاً مطلوب ہے۔
(فتوی: 55۔43/N2362/1434)
*۔۔۔*۔۔۔*
س: مسجد کے ذمے داروں نے اپنے علاقے کے تمام افراد سے فطرے کی رقم جمع کی ہے تاکہ ضرورت مندوں کو دی جاسکے۔ مگر اب تک رقم مسجد کے ذمے داروں کے پا س ہی ہے۔ ادائیگی کا طریقہ کیا ہے؟ کس کس کو دے سکتے ہیں؟ دینے میں تاخیر کرسکتے ہیں یا جلد ادا کرنا چاہیے؟
ج: جو لوگ آپ کی بستی میں غریب ومحتاج ہیں ان کی تحقیق کرکے انہیں جلد از جلد پہنچائیں۔ اتنے دنوں تک فطرے کی رقم کو روکنا مکروہ ہے۔ وہ تو عید ہی کے دن پہنچا دینی چاہیے تھی تاکہ ان کی عید بھی اچھی ہو۔
(فتوی: 1013۔968/B23612/1437)
*۔۔۔*۔۔۔*
س: میں نے کسی کتاب میں عید کے مہینے (شوال) کے چھ روزوں کے بارے میں پڑھا تھا۔ سوال یہ ہے کہ:
(۱) ان روزوں کی کیا حقیقت ہے؟
(۲) ان روزوں کو مستقل طور پر رکھنا کیسا ہے؟
(۳) ان روزوں کو کس حالت میں رکھ سکتے ہیں؟
(۴) اگر رمضان کے روزے کسی بیماری یا سفر کی وجہ سے رہ گئے ہیں تو ان روزوں کی تلافی کے لیے میں نے شوال کے مہینے میں روزے رکھے، کیا ان روزوں کا شمار شوال کے نفل روزوں میں بھی ہوگا یا الگ رکھنے کی ضرورت ہے؟
ج: (۱) شوال کے چھ روزوں کی فضیلت حدیث شریف میں مذکور ہے، رسول اللہؐ کا ارشاد ہے: ’’جس نے رمضان کے روزے رکھے اور عید کے بعد مزید چھ روزے رکھے تو اس نے گویا پورے سال کے روزے رکھے‘‘۔ (مشکوٰۃ)
(۲) درست ہے اور بہتر یہ ہے کہ تسلسل کے ساتھ روزہ رکھنے کے بجائے متفرق طور پر رکھا جائے۔
(۳) ہرحال میں رکھ سکتے ہیں سوائے عورت کے کہ وہ ماہواری کے ایام میں نہیں رکھ سکتی۔
(۴) آپ جس نیت سے روزہ رکھیں گے اسی کا اعتبار ہوگا، اگر قضا کی نیت سے روزہ رکھتے ہیں تو قضا ادا ہوں گے، شوال کے نفل روزے ادا نہ ہوں گے۔
(فتوی:1147۔1162/L2369/1436۔U)
*۔۔۔*۔۔۔*
س: رمضان کے مہینے کے قضا روزوں کو سال کے نفلی روزں میں ترتیب دے سکتے ہیں یا نہیں؟
ج: قضا روزے رکھنا پہلے ضروری ہے، اس لیے اولاً قضا روزے کی ادائیگی کرلیں، پھر نفلی روزے رکھیں۔ ایک ہی دن میں نفل اور قضا دونوں کی نیت سے روزہ نہ رکھیں۔
(فتوی: 2423624/ د)
*۔۔۔*۔۔۔*
س: بد قسمتی سے میرے بہت سے روزے قضا ہوگئے ہیں، میں نے قضا روزے نہیں رکھے اور فدیے کی رقم ادا کردی ہے، بہت سارے روزے چھوٹ گئے ہیں، و مجھے کیا کرنا چاہیے؟ کیا مجھے ان کی قضا رکھنا ہوگی؟
ج: جی ہاں آپ کو قضا شدہ روزے رکھنے ہوں گے، فدیہ دینا کافی نہیں، فدیے کا حکم اس شخص کے لیے ہے جس کے اندر فی الحال روزہ رکھنے کی قوت نہ ہو اور نہ فی المآل (آئندہ) اس کی امید ہو کہ وہ روزہ رکھ لے گا۔
(فتویٰ: 106۔111/L2361/1436۔U)
*۔۔۔*۔۔۔*
س: مجھے عمری قضا نماز ادا کرنی ہے، اس کا طریقہ کیا ہے، اور مجھے ایک دن کی کتنی نماز ادا کرنی ہوگی ؟ اس کا طریقہ بتائیے۔
س: ہر نماز قضا کرتے وقت یہ نیت کرلیں کہ اِس وقت (مثلاً ظہر) کی جتنی نمازیں میرے ذمے ہیں ان میں سے پہلی کی قضا کرتا ہوں، اسی طریقے پر عصر، مغرب وغیرہ کی نمازیں پڑھیں۔ قضا نماز پڑھنے کا وہی طریقہ ہے جو ادا کا ہے البتہ قضا صرف فرض اور واجب کی کرنی ہے، فجر کی دو، ظہر کی چار، عصر کی چار، مغرب کی تین اور عشا کی چار فرض اور تین وتر کی قضا کریں گویا ایک دن رات میں کل چھ نمازوں کی قضا کرنی ہوگی۔
(فتوی: 387۔387/M2363/1434)
(بشکریہ دارالعلوم دیوبند، ہند)

Print Friendly, PDF & Email
حصہ