آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے تنخواہ دار عوام کو ریلیف نہیں دے سکتے

52

ٹنڈو جام (نمائندہ جسارت) جماعت اسلامی صوبہ سندھ کے نائب امیر اور پی ایس 45 سے متحدہ مجلس کے نامزد اُمیدوار عظیم بلوچ نے کہا ہے کہ زلفی بخاری کے معاملے نے نگران حکومت کی کار کردگی پر بہت سے سوال اُٹھا دیے ہیں، شفاف الیکشن نہیں ہوئے تو اس کے اثرات نہایت خراب نکلیں گے۔ پیٹرول کی منصوعات پر اضافے سے ثابت ہوگیا کہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے تنخواہ دار عوام کو کبھی بھی ریلیف نہیں دے سکتے۔ یہ بات انہوں نے جماعت اسلامی ٹنڈوجام کی افطارپارٹی سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ زلفی بخاری کو نگران حکومت نے جس طرح صرف26 منٹ میں بلیک لسٹ سے نکال کر باہر بھیجا اس نے بہت سے سوال اُٹھا دیے ہیں اگر نگران حکومت ایک چھوٹا سا دباؤ برداشت نہیں کر سکی تو پھر شفاف الیکشن کیسے کرائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اعظم کو وزیراعظم نے یا تو فارغ کر دینا چاہیے تھا یا انہیں خود اس حرکت پر مستفی ہو جانا چاہیے تھا لیکن ابھی تک ان کا اپنی جگہ پر موجود ہونا شفاف الیکشن کے عمل کو مشکوک بنا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر شفاف الیکشن نہیں ہوئے تو اس کے نتائج ملک و قوم کے لیے نہایت خراب نکلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پیٹرول کی مصنو عات بہت زیادہ اضافے نے غریب آدمی کی کمر توڑ دی ہے اور عید کے قریب اضافے سے ثابت ہو گیا کہ ورلڈبینک اور آئی ایم ایف کے تنخواہ داروں کو عوام کے مسائل اور ان کی مشکلات کی کوئی پروا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ مجلس عمل آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے ملازموں سے ملک کو آزاد کر وانے کے لیے میدان عمل میں آئی ہے مجلس عمل نے جو قیادت عوام کے سامنے پیش کی ہے وہ 62 اور63 پر پوری اترتی ہے اگر عوام نے اپنے ووٹ کا صیح استعمال کیا اور ووٹ مجلس عمل کے اُمیداروں کو دیا تو پھر پاکستان کو خوش حال اور اسلامی اور فلاحی ریاست بننے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں