ایمنسٹی اسکیم کا نفاذ تباہ کن ہوگا،نگراں حکومت عدالت کو حقائق بتائے ،ڈاکٹر شاہد 

91

کراچی ( اسٹاف رپورٹر)چیئرمین ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک بینکنگ اینڈ فنانس کراچی ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی نے کہا ہے کہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم قومی مفاد سے متصادم ہے ، اس اسکیم کا اجرا تباہ کن ہوگا‘ نگراں حکومت عدالت عظمیٰ کو حقائق سے آگاہ کرے۔روزنامہ جسارت سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قوانین میں تبدیلیوں اور سرمائے کے فرار کو روکنے کے اقدامات سے پہلے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کا اجرا تباہ کن ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ جس ملک میں معیشت دستاویزی نہ ہو‘ کالے دھن کو سفید کرنا اور جائز و ناجائز رقوم کو ملک سے باہر منتقل کرنا ممکن ہو وہاں ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کا اجرا تباہی کا نسخہ ہوتا ہے۔ ڈاکٹر شاہد حسن نے کہا کہ عدالت عظمیٰ کو ایمنسٹی اسکیم کے تباہ کن مضمرات سے آگاہ ہی نہ کیا گیا چنانچہ عدالت عظمیٰ نے قرار دیا کہ اسے اس ٹیکس ایمنسٹی اسکیم پر اعتراض نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نگراں حکومت اور اس کی وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر کو اچھی طرح معلوم تھا کہ یہ اسکیم انصاف‘ قانون اور اسلامی تعلیمات کے منافی ہے اور اس کے اجرا سے قومی سلامتی اور قومی مفادات کو زبردست نقصان پہنچے گا لیکن نگراں حکومت نے عدالت عظمیٰ کے سامنے اس اسکیم کے تباہ کن اثرات بتانا ہی ضروری نہ سمجھا۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر عدالت عظمیٰ کو آگاہ کیا جاتا تو وہ اس اسکیم کو مسترد کر دیتی۔یہ قومی المیہ ہے کہ نگراں حکومت نے اپنی یہ ذمے داری پوری نہیں کی۔ ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی نے کہا کہ قومی مفادات کے تحفظ کے لیے اشد ضروری ہے کہ نگراں وزیر خزانہ عدالت عظمیٰ کو مندرجہ ذیل حقائق سے مطلع کریں۔-1 ملک میں جائداد‘ بینکوں کے ڈپازٹس‘ قومی بچت اسکیموں میں لگائی گئی رقوم‘ حصص اور گاڑیوں وغیرہ میں لوٹی ہوئی اور ٹیکس چوری کی دولت سے بنائے ہوئے کئی ہزار ارب روپے کے اثاثے موجود ہیں جن کی تفصیلات ریکارڈ میں موجود ہیں۔ یہ اثاثے مکمل طور پر حکومت کی دسترس میں ہیں، اگر ان اثاثوں پر ٹیکس اور حکومتی واجبات وصول کیے جائیں اور جائداد کے ڈی سی ریٹ کو مارکیٹ کے نرخ کے برابر لایا جائے تو چند ماہ میں حکومت کو 2 ہزار ارب روپے کی اضافی آمدنی ہو سکتی ہے جسے عوام کی فلاح و بہبود اور بجٹ خسارے کو کم کرنے بشمول پیٹرولیم کی مصنوعات کی قیمتیں کم کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے، سابقہ حکومت کو یہ قدم اٹھانا چاہیے تھا جو طاقت ور طبقوں کے ناجائز مفادات کے تحفظ کے لیے اس نے نہیں اٹھایا چنانچہ نگراں حکومت کو عدالت عظمیٰ سے درخواست کرنی چاہیے کہ اس ضمن میں احکامات فوری طور پر جاری کیے جائیں۔-2 بھارت میں ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کے تحت 45 فیصد ٹیکس طلب کیا گیا تھا لیکن پاکستان میں صرف 2 سے 5 فیصد ٹیکس کا مطالبہ کیا گیا ہے جو کہ ناقابل فہم اور ناقابل قبول ہے۔ -3 ملک کے اندر موجود اثاثوں پر کسی قسم کی ایمنسٹی دینے کا قطعاً کوئی جواز نہیں ہے کیونکہ یہ اثاثے مکمل طور پر حکومت کی دسترس میں ہیں۔-4 اس اسکیم کے تحت ایک شخص 5 ملین روپے کی نقد رقم ظاہر کرسکتا ہے جو اس کے پاس موجود ہی نہیں ہے۔ اس طرح وہ صرف ڈھائی لاکھ روپے ٹیکس دے گا، چنانچہ آئندہ برسوں میں ہونے والی 5 ملین کی آمدنی پر وہ ٹیکس ادا ہی نہیں کرے گا جس سے قومی خزانے کو 10 لاکھ روپے کا نقصان ہوگا۔ متعدد افراد ایسا کریں گے۔-5 اس اسکیم کے تحت ایک شخص باہر سے 2 لاکھ ڈالر منگوا کر تقریباً 2و کروڑ 40لاکھ روپے وصول کرے گا جس پر اسے صرف 2 فیصد ٹیکس دینا ہوگا۔ وہ یہ رقم ہنڈی یا دوسرے متعدد طریقوں سے باہر بھیج سکتا ہے۔ چنانچہ اس کے پاس کتابوں میں تو رقم موجود ہوگی مگر دراصل نقد رقم ہوگی ہی نہیں۔ اس طرح آئندہ برسوں میں ہونے والی آمدنی پر ٹیکس بچا کر وہ قومی خزانے کو 40 لاکھ روپے سے زائد کا نقصان پہنچا سکتا ہے۔-6 ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل اور فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے اس اسکیم پر اعتراضات اٹھائے ہیں جن سے عدالت عظمیٰ کو آگاہ نہیں کیا گیا۔اب بھی وقت ہے کہ نگراں حکومت فوری طور پر مندرجہ ذیل اقدامات اٹھائے:-1 عدالت عظمیٰ کو ٹیکس ایمنسٹی کے ضمن میں مندرجہ بالا مضمرات سے آگاہ کرنے کے بعد یہ درخواست کرے کہ چونکہ عدالت عظمیٰ کی قائم کردہ کمیٹی کی سفارشات آنے میں وقت لگے گا اور ان پر عمل درآمد اگلی منتخب حکومت کے دور میں ہی ممکن ہوگا اس لیے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کو فی الحال معطل کر دیا جائے اور اگلی حکومت کو موقع دیا جائے کہ وہ نئے قوانین اور نئی صورت حال کی روشنی میں اگر ضروری سمجھے تو ایک نئی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم وضع کرے۔-2 ایف بی آر اب بھی لوٹی ہوئی دولت اور ٹیکس چوری کی دولت سے بنائے ہوئے اثاثوں کا انفارمیشن ٹیکنالوجی کی مدد سے تعین کرکے مروجہ قوانین کے تحت ان اثاثوں پر ٹیکس اور واجبات وصول کر سکتا ہے جس سے قومی خزانے کو 2 ہزار ارب روپے کی اضافی آمدنی ہوگی۔ اگر مندرجہ بالا اقدامات اٹھائے جائیں اور کچھ دانش مندانہ پالیسیاں وضع کی جائیں جو نگراں حکومت کے اختیار میں ہے تو معیشت تیزی سے ترقی کرے گی‘ موجودہ بیرونی شعبے کا بحران بغیر آئی ایم ایف سے قرضہ لیے حل ہو جائے گا اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے خطیر رقوم دستیاب ہوں گی، اگر ایسا نہ کیا گیا تو پاکستان کو اگلے چند ماہ میں تباہ کن معاشی شرائط اور امریکا کی ’’مزید اور کرو‘‘ کے مطالبات منظور کرنا پڑیں گے جس سے قومی مفادات اور قومی سلامتی بری طرح متاثر ہوگی۔ یہ بھی ضروری ہے کہ مندرجہ بالا نکات پر قومی سلامتی کمیٹی بھی غور کرے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ