’’ مشرق سے اُبھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ‘‘

153

دنیا میں ایک نئے عالمی نظام کی بنا پڑنے کو ہے۔ ڈائی پولر کی ٹوٹ پھوٹ سے قائم ہونے والا یونی پولر عالمی نظام اپنی آخری ہچکیاں لے رہا ہے اور تاریخ اپنا چکر بدستور کاٹ رہی ہے اور یونی پولر نظام کی راکھ پر ملٹی پولر نظام کی ایک پرشکوہ عمارت کھڑی ہو رہی ہے۔ کہن زدہ ،مغربی نظام اور طاقتیں عشروں تک بے مثال اتحاد ویکجہتی کا مظاہرہ کرنے کے بعد اب سوتنوں اور حاسد پڑوسنوں کی طرح ایک دوسرے کو کوسنے دے رہی ہیں ۔اس بار کینیڈا میں طاقتور جی سیون ملکوں کی کانفرنس کچھ اسی انجام سے دوچار ہوئی ۔رکھ رکھاؤ، نظم وضبط اورا ختلافات کی پردہ پوشی کے لیے مشہور جدید مغرب کے حکمران ایک دوسرے کو برسرعام بے نقط سناتے پائے گئے ۔جی سیون کی بارات کے دولہا ڈونلڈ ٹرمپ کو اجلاس میں شریک ہو کر احساس ہوا کہ وہ غلط مقام پر آپھنسے ہیں۔وہ میزبان ملک کینیڈا کے وزیر اعظم پر گرجتے برستے رہے ایک تصویر میں ٹرمپ ضدی بچے اور انوکھے لاڈلے کی طرح روٹھ کر ایک کرسی پر جابیٹھے ہیں اور برطانوی وزیر اعظم تھریسامے سمیت دوسرے یورپی ملکوں کے سربراہ ان کی کرسی اور میز کے گرد جمع ہو کر ضدی بچے کو کھلونوں کا لالچ دے کر ’’کُٹی‘‘ ختم کر نے پر آمادہ کررہے ہیں ۔بات یہیں نہیں رکی ٹرمپ مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کئے بغیر کانفرنس سے نکل کھڑے ہوئے اور جہاز سے ٹویٹ کرکے اپنے نمائندوں کو اعلامیہ پر دستخط نہ کرنے کے احکامات دیتے رہے۔ یہ کینیڈا اور یورپی ملکوں کے حکمرانوں کے لیے انتہائی توہین آمیزرویہ تھا ۔ایک طرف دنیا پر راج کرنے والے طاقتور ملکوں کا اجلاس جوتیوں میں دال بٹنے کا منظر پیش کر رہا تھا تو
دوسری طرف عین انہی لمحات میں شنگھائی تعاون تنظیم کے نام سے آٹھ ملکوں کی ایک اور سرگرمی چین میں ہو رہی تھی جس میں پاکستان اور بھارت جیسے حالتِ جنگ میں کھڑے دو ملک بھی شریک تھے اور یہ ایک پروقار اجلاس تھا جہاں دلوں کی کدورتیں چہروں پر مصنوعی مسکراہٹوں اور مصافحوں کی شکل میں نمایاں تھیں۔ ان دونوں اجلاسوں کا یہی فرق چین کے ایک اخبار نے بہت طنزیہ اندا ز میں بھی واضح کیا ہے یعنی ایک تصویر میں چہروں پر اضطراب اور مایوسی تھی تو دوسری تصویر میں چہرے امید سے تمتما رہے تھے ۔چین کے شہر کنگ ڈاؤ میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سترہویں اجلاس کی اہم ترین بات صدر ممنون حسین اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا مصافحہ اور سرِراہگذر ہونے والی ہلکی گپ شپ ہے۔اس مصافحہ کے پیچھے کچھ عرصے سے ہونے والی غیر محسوس سرگرمیاں تھیں جو خلاؤں کے مسافر نریندر مودی کو زمین تک لانے کا باعث بنیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے بانی ا رکان میں چین، روس، قازقستان، تاجکستان، کرغیزستان ازبکستان شامل ہیں جبکہ پاکستان اوربھارت گزشتہ برس اس تنظیم کے رکن بنائے گئے تھے۔ افغانستان کو شنگھائی تعاون تنظیم میں مبصر کا درجہ حاصل ہے۔ مستقل رکنیت ملنے کے بعدبھارت کے وزیر اعظم پہلی بار شنگھائی تعاون تنظیم کے کسی اجلاس میں شریک ہوئے۔2001میں قائم ہونے والی یہ تنظیم دنیا کی بیالیس فیصد آبادی کی نمائندہ ہے اور دنیا کے بیس فیصد جی ڈی پی کی حامل ہے۔شنگھائی تعاون تنظیم کا سترہ صفحات پر مشتمل اعلامیہ بھی جاری کیا گیا جس میں دہشت گردی کی ہر شکل کی مذمت کرنے کے ساتھ ساتھ چین کے ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کی بھی حمایت کی گئی۔ بھارت واحد ملک تھا جس نے اپنا اختلافی نوٹ لکھا اور یہ نوٹ سی پیک کے حوالے سے تھا ۔ اس اعتراض کی بنیادبھارت کا یہ روایتی دعویٰ تھا کہ سی پیک گلگت بلتستان سے گزرتا ہے جو بھارت کا حصہ ہے۔اس جزوی اعتراض کے سوا بھارت نے ون بیلٹ بیلٹ ون روڈ کی تمام بین الابر اعظمی راہداریوں کی حمایت کی ۔بھارت کی طرف سے سی پیک کو اس کی علاقائی سالمیت کے خلاف قراردیا گیا ۔شنگھائی تعاون تنظیم کے بنیادی اصولوں میں یہ بات شامل ہے کہ رکن ملک اپنے باہمی اختلافات کے پروپیگنڈے کے لیے یہ پلیٹ فارم استعمال نہیں کریں گے ۔یہی وجہ ہے کہ اجلاس میں اختلافی مسائل پر بات کرنے سے احتراز ہی کیا گیا ۔نریندر مودی نے گھما پھرا کر تان دہشت گردی کی اصطلاح پر ہی توڑی مگر وہ پاکستان کا نام نہ لے سکے اور ممنون حسین اس ریاستی دہشت گردی کا ذکر نہ کر سکے جس کا سامنا اس وقت کشمیری عوام
بھارت کے ہاتھوں کر رہے ہیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم میں پاکستان اور بھارت تو شامل ہو چکے ہیں مگر ان کے اختلافات خطے کی ایک زمینی حقیقت ہیں۔ اجلاس میں تجارت ،انفراسٹرکچر ،تعلیم وصحت ،انفارمیشن ٹیکنالوجی جیسے معاملات چھائے رہے مگر پاکستان اور بھارت کے تعلقات کی گونج بھی مختلف انداز سے سنائی دیتی رہی ۔تنظیم کے دواہم ارکان روس اور چین کی قیادتوں کی طرف سے جو اظہار خیال کیا گیا اس کے مطابق شنگھاتی تعاون تنظیم پاکستان او ر بھارت کے درمیان ’’پیس پلیٹ فارم‘‘ بھی بن سکتی ہے ۔ چین کے وزیر خارجہ وانگ یی کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تاریخی تنازعات موجود ہیں مگر دونوں ملک کے شنگھائی تعاون تنظیم میں شامل ہونے کے بعد انہیں اپنے مسائل کے بہتر انداز سے حل کے مواقع میسر آئیں گے۔دونوں ملک اس پلیٹ فارم سے امن کی طرف بڑھیں گے جس سے علاقائی امن اور استحکام کو تقویت ملے گی۔روسی صدر ولادی میرپیوٹن نے پاکستان اور بھارت کو اس تنظیم کے پلیٹ فارم سے اپنے اختلافات کو کثیرالجہتی انداز میں حل کرنے کی ضرورت پر زورد یا۔شنگھائی تعاون تنظیم میں مودی او رممنون مصافحہ دونوں ملکوں کے تعلقات کی منجمد برف کو کس حد تک پگھلاتا ہے ؟اس کا فیصلہ تو آنے والا وقت ہی کرے گا مگر چین اور روس دونوں ملکوں کے تعلقات کو دوبارہ نارملائزیشن کی طرف لانے کے لیے پس پردہ کردار ادا کررہے ہیں ۔جی سیون ملکوں کی کانفرنس کے انجام کے برعکس شنگھائی تعاون کانفرنس امید کا ایک پیغام دے رہی تھی اور دونوں کا احوال بتارہا تھا کہ دنیا میں ایک نئے نظام کے سورج کو طلوع ہونے سے روکنا کسی کے بس میں نہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں