جمہوریت کے دس سال

114

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ دو سول حکومتوں کو آئین کے مطابق اپنی مدت پوری کرنے کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔ اس طرح یہ کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ جمہوریت پورے دس سال تک کھل کھیلتی رہی ہے۔ پارلیمنٹ اور اس کے ذیلی ادارے اپنے تمام اختیارات کے ساتھ کام کرتے رہے ہیں، بیورو کریسی کو بھی دونوں سول حکومتوں نے اپنی مرضی کے مطابق برتا ہے۔ فوج کے ساتھ ان حکومتوں کے تعلقات اگرچہ زیادہ خوشگوار نہیں رہے لیکن فوج نے ان کے کام میں مداخلت بھی نہیں کی اور گاڑی چلتی رہی۔ آئیے سب سے پہلے پیپلز پارٹی کی حکومت کے پانچ سال کا جائزہ لیتے ہیں۔ یہ 2008ء کے عام انتخابات کے نتیجے میں قائم ہوئی، اس سے پہلے ملک میں جنرل پرویز مشرف کی فوجی آمریت قائم تھی، انہوں نے این آر او کے ذریعے پیپلز پارٹی کی بیرون ملک مقیم چیئر پرسن بینظیر بھٹو سے سیاسی مفاہمت کرلی تھی البتہ ان کی خواہش تھی کہ بینظیر بھٹو انتخابات سے پہلے پاکستان واپس نہ آئیں اور وہ انتخابی نتائج اور آئندہ حکومت کا نقشہ اپنی صوابدید کے مطابق مرتب کرسکیں، لیکن بینظیر بھٹو اس پر آمادہ نہ ہوئیں اور انتخابات سے پہلے پاکستان واپس آگئیں۔ انہیں وطن واپسی پر کراچی میں قتل کرنے کی کوشش کی گئی، وہاں تو وہ بچ گئیں لیکن راولپنڈی کے جلسہ عام میں انہیں قتل کردیا گیا اور 2008ء کے انتخابات اس حال میں ہوئے کہ عوام کی ہمدردیاں پیپلز پارٹی کے ساتھ تھیں اور اس کی کامیابی کے امکانات روشن تھے۔ یہ انتخابات ایک فوجی آمر کی نگرانی میں ہورہے تھے اس لیے مسلم لیگ (ن)، تحریک انصاف، جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ اگر انتخابات آئین کے مطابق غیر جانبدار نگراں حکومت کے زیر اہتمام نہ ہوئے تو وہ انتخابات میں حصہ نہیں لیں گی اور انتخابات کا بائیکاٹ کریں گی۔ البتہ پیپلز پارٹی بہر صورت انتخابات میں حصہ لینے پر مصر تھی۔ وہ جانتی تھی کہ اگر اس نے عوام کی ہمدردی کو کیش نہ کرایا تو وہ اقتدار کی دوڑ میں پیچھے رہ جائے گی۔ اپوزیشن جماعتوں کا مطالبہ تو پورا نہ ہوا البتہ مسلم لیگ (ن)، جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمن گروپ اور کئی دیگر قوم پرست جماعتیں بائیکاٹ کے موقف سے منحرف ہو کر پیپلز پارٹی کے ساتھ جاکھڑی ہوئیں۔ صرف تحریک انصاف اور جماعت اسلامی بائیکاٹ کے اصولی موقف سے منحرف نہ ہوئیں اور انہوں نے 2008ء کے انتخابات میں حصہ نہیں لیا۔
انتخابات کے نتیجے میں پیپلز پارٹی وفاق اور سندھ میں برسراقتدار آگئی، جنرل پرویز مشرف اگرچہ وردی اُتار چکے تھے لیکن ابھی تک صدر کے منصب پر فائز تھے اور تمام معاملات اپنے کنٹرول میں رکھنا چاہتے تھے لیکن آصف زرداری نے ایک اور کمال یہ دکھایا کہ صوبائی اسمبلیوں کی تائید سے خود صدر بن بیٹھے اور پیپلز پارٹی کے ایک وفادار سید یوسف رضا گیلانی کو وزیراعظم بنادیا۔ پیپلز پارٹی کا پانچ سالہ دور اس اعتبار سے منفرد ہے کہ پارلیمانی جمہوریت میں صدارتی نظام کا تجربہ کیا گیا اور ایوان صدر سے تمام احکامات جاری ہوتے رہے۔ پارلیمنٹ ایوان صدر کے ہاتھوں یرغمال بن گئی تھی۔ مسلم لیگ (ن) کو پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی حیثیت حاصل تھی لیکن وہ پیپلز پارٹی کے ساتھ درپردہ مفاہمت کے تحت فرینڈلی اپوزیشن کا کردار ادا کررہی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ آصف زرداری کی تجویز پر مسلم لیگ (ن) نے ابتدا میں پیپلز پارٹی کی حکومت میں شمولیت کا بھی فیصلہ کرلیا تھا، ابھی زرداری صدر نہیں بنے تھے اور جنرل پرویز مشرف عہدہ صدارت پر فائز تھے اس لیے مسلم لیگی وزرا کو جنرل پرویز مشرف کے روبرو اپنے بازوؤں پر سیاہ پٹی باندھ کر اپنے عہدوں کا حلف لینا پڑا۔ زرداری اپنے سیاسی حریفوں کے خلاف نہایت باریک چال چلنے میں ماہر ہیں۔ انہوں نے مسلم لیگ (ن) کی مدد سے جنرل پرویز کو تو اقتدار سے باہر کیا لیکن خود صدر بننے کے بعد حکومت میں (ن) لیگ کو برداشت کرنے پر آمادہ نہ ہوئے اور لیگی وزرا کو مستعفی ہونا پڑا۔ البتہ مولانا فضل الرحمن کی جمعیت علمائے اسلام سے ان کی گاڑھی چھنتی رہی۔ پیپلزپارٹی کی حکومت قائم ہوتے ہی اس کے انہدام کی پیش گوئیاں بھی شروع ہوگئی تھیں لیکن یہ زرداری کا کمال ہے کہ وہ بچ بچا کے ’’جمہوریت جمہوریت‘‘ کھیلتے رہے ان کی ساری توجہ اپنی حکومت کو بچانے اور قومی وسائل کو لوٹنے میں مرکوز رہی۔ انہوں نے وفاق اور سندھ میں اپنے فرنٹ مین مقرر کر رکھے تھے جو پوری ’’دیانتداری‘‘ سے لوٹ کے مال میں سے ان کا حصہ انہیں پہنچارہے تھے۔ زرداری نے بظاہر فوج کے ساتھ بنا کر رکھنے کی بھی کوشش کی اور آرمی چیف کو ملازمت میں توسیع دے کر اس کا مظاہرہ کیا لیکن اس کے ساتھ وہ درپردہ فوج کو بے بال و پر کرنے کی سازشوں میں بھی مصروف رہے۔ انہوں نے سب سے پہلے آئی ایس آئی پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی اور اسے سویلین سیٹ اپ میں لانا چاہا لیکن ناکامی ہوئی، پھر حسین حقانی کے ذریعے فوج کے خلاف میمو اسکینڈل کا حصہ بنے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب زرداری کو پورا یقین تھا کہ فوج ان کی سازشوں کے ردعمل میں کسی وقت بھی اقتدار پر قبضہ کرسکتی ہے اور وہ مزاحمت کرنے پر مارے جاسکتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ وہ اُن دنوں رات میں کئی بار اپنی خواب گاہ تبدیل کرتے تھے اور بھاری اسلحہ اپنے پہلو میں رکھ کر لیٹتے تھے۔
دیکھا جائے تو جمہوری حکومتیں عوام کی فلاح کے لیے قائم کی جاتی ہیں، جمہوری نظام میں عوام اس توقع پر کسی سیاسی جماعت کو ووٹ دیتے ہیں کہ وہ برسراقتدار آکر ان کی زندگی میں آسانی پیدا کرے گی، ان کے لیے بنیادی سہولتوں کی فراہمی کو آسان بنائے گی، ملک سے مہنگائی، بیروزگاری، کرپشن، دہشت گردی اور وائٹ کالر جرائم کا خاتمہ کرے گی اور ملک میں تعلیم کے فروغ اور میرٹ پر خصوصی توجہ دے گی۔ ایمانداری سے دیکھا جائے تو زرداری حکومت ان تمام اوصاف سے خالی نظر آتی ہے۔ اس کا واحد ایجنڈا زیادہ سے زیادہ مال سمیٹنا تھا اور اس میں وہ پوری طرح کامیاب رہی۔ یہی وجہ ہے کہ 2013ء کے انتخابات میں عوام نے اسے بُری طرح مسترد کردیا اور اس نے مسلم لیگ (ن) کے لیے جگہ خالی کردی۔ خیال تھا کہ میاں نواز شریف تیسری مرتبہ وزیراعظم بنے ہیں تو انہوں نے ضرور ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھا ہوگا، ان کے طرزِ حکومت میں جوہری تبدیلی آئے گی اور وہ پارلیمانی جمہوریت کو مضبوط کرنے اور عوامی مسائل حل کرنے پر اپنی توجہ مرکوز کریں گے لیکن اب کی دفعہ تو بھارت سے دوستی اور اپنے ذاتی کاروبار کو فروغ دینے کے سوا ان کا کوئی اور ایجنڈا نہ تھا۔ انہوں نے ابتدا ہی میں یہ کہہ کر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی کہ قوم نے اپنے ووٹ کے ذریعے انہیں بھارت کے ساتھ دوستی کا مینڈیٹ دیا ہے، پھر وہ اس دوستی کے لیے اتنے بے چین ہوئے کہ بھارت کے ساتھ کشمیر سمیت تمام مسائل کو بھلا بیٹھے اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کی رسمی دعوت پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیے بغیر دہلی جا پہنچے اور وہاں اپنے کاروباری دوستوں سے ملاقاتیں کرتے رہے۔ میاں نواز شریف نے اپنے سیکولر احباب کے مشورے پر دونوں ملکوں کی تہذیب و ثقافت کو ایک قرار دے کر نظریہ پاکستان کو بھی شدید نقصان پہنچایا۔
میاں نواز شریف کی وفاقی اور میاں شہباز شریف کی پنجاب حکومت یہ دعویٰ کرتے نہیں تھکتیں کہ ان کے دور میں میگا پراجیکٹس شروع کیے گئے اور ریکارڈ ترقیاتی کام ہوئے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان ترقیاتی کاموں کی آڑ میں بے پناہ قومی وسائل ضائع کیے گئے اورنج ٹرین کی مثال ہمارے سامنے ہے جس پر 260 ارب روپے لاگت آئی ہے لیکن جس نے لاہور کا تاریخی ورثہ تباہ کردیا ہے اس ٹرین کی حیثیت ایک تفریحی ٹرین سے زیادہ نہیں ہے۔ یہ ٹرین جن علاقوں سے گزرتی ہے وہ سب غربت اور افلاس کے سمندر میں ڈوبے ہوئے ہیں اور اس بات کا احساس دلاتے ہیں کہ ان کی حالت بہتر بنانے کے بجائے پیسے ٹرین پر ضائع کردیے گئے ہیں۔ پنجاب بھی دوسرے صوبوں کی طرح پانی کو ترس رہا ہے، لوگوں کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں، فصلیں پانی کی عدم دستیابی سے تباہ ہورہی ہیں لیکن پنجاب کے ’’مغل حکمران‘‘ اپنا شوق پورا کرتے رہے۔ حالاں کہ وہ قومی خزانے کو برباد کرنے کے بجائے اس سے پانی کے ذخائر تعمیر کرکے قلت آب کا تدارک کرسکتے تھے، یہ بھی حقیقت ہے کہ دونوں بھائیوں نے یوں تو مسلم لیگ (ن) کے نام پر حکومت کی لیکن نہ کبھی اپنی پارٹی کو اہمیت دی اور نہ ہی پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلی کی بالادستی قبول کی۔ وہ آج ووٹ کے تقدس کا نعرہ بلند کررہے ہیں لیکن انہوں نے ووٹ کے ذریعے منتخب ہونے والے اداروں کو جتنا بے توقیر کیا اس کی نظیر نہیں ملتی۔ میاں نواز شریف نے اپنے چارسالہ دور اقتدار میں ایک سو سے زیادہ بیرونی دورے کیے لیکن پارلیمنٹ میں دس مرتبہ بھی نہیں آئے اور نہ ہی کبھی پارلیمنٹ میں اپنے کسی بیرونی دورے کی رپورٹ پیش کی۔ میاں نواز شریف کے دور حکومت کو سکھا شاہی سے تعبیر کیا جاسکتا ہے جس میں کسی پارلیمانی روایت اور جمہوری اقدار کا لحاظ نہیں رکھا گیا۔ ملک میں جمہوریت کے نام پر شخصی آمریت قائم کی گئی، پنجاب میں چھوٹے بھائی نے بھی یہی رویہ اپنایا۔ بالآخر پاناما لیکس نے میاں نواز شریف کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، قانون حرکت میں آیا اور اس نے انہیں نااہل قرار دیتے ہوئے اقتدار سے بے دخل کردیا۔ البتہ ان کی پارٹی کی حکومت برقرار رہی اور ان کی جگہ ان کے نامزد کردہ شاہد خاقان عباسی نے وزارت عظمیٰ سنبھال لی۔ میاں نواز شریف پورے ایک سال تک ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ کی گردان کرتے رہے اور حکومت عوامی مسائل سے بے نیاز انہیں پروٹوکول دیتی رہی۔ لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے بلند بانگ دعووں کے باوجود جب حکومت رخصت ہوئی تو پوری قوم سحر اور افطار میں بھی لوڈشیڈنگ کا عذاب جھیل رہی تھی۔ پاکستان کے عوام نے پورے دس سال تک پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کا تماشا دیکھا ہے اب 25 جولائی کو نئے انتخابات ہورہے ہیں جس میں وہ حکمرانوں کا ازسر نو چناؤ کریں گے۔ مومن ایک سوراخ سے دوسری بار نہیں ڈسا جاتا۔ پاکستانی عوام کے ایمان کا بھی یہی تقاضا ہے کہ وہ دوسری بار پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ کے سوراخوں میں اُنگلی نہ ڈالیں اور ان لوگوں کا انتخاب کریں جو امانت، دیانت اور صداقت کا پیکر ہوں اور ملک میں اسلام کے بابرکت نظام کو نافذ کرسکیں۔ اللہ تعالیٰ ان کا حامی و ناصر ہو۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ