شانِ رمضان

189

پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

میں شہر کے مشہورومعروف فائیوسٹارہوٹل میں اپنی طرزکی انوکھی شاندارافطاری پر مدعوتھا‘ میرے میزبان کے انگ انگ سے حقیقی خو شی پھوٹ رہی تھی اُس کے لہجے میں شفیق حلاوت اور چہرے پر عقیدت واحترام کی روشنی پھیلی ہو ئی تھی ۔ وہ ہر آنے والے مہمان کو انتہائی احترام سے کرسی پر بٹھاتا ‘چند کلمات کہتا اورآگے بڑھ جاتا۔ میں اِس شخص کی خاموش سخاوت سے بخوبی واقف تھا یہ دکھاوے کی سخاوت نہیں بلکہ خاموشی سے دوسروں کی مدد پر کاربند تھا اِس کا شمار شہر کے امیر ترین لوگوں میں ہوتا تھا لیکن امارت کا نشہ اوررنگ اِسے چھو کر بھی نہیں گزراتھا بلکہ دن بدن بڑھتی دولت اِس کے اندر عاجزی انکساری بھر تی گئی ، یہ ہر وقت خدا کی رضا کی تلاش کے لیے ضرورت مندوں میں اپنی دولت بے دریغ بانٹتا ‘ آج بھی اِس نے اپنے ملازمین میں سے اُن ملازمین کو چُناتھا جو سب سے کم تنخواہ لینے والے مثلا چوکیدار ‘ڈرائیور ‘ خانسامے ‘ کلرک وغیرہ اپنے اِن ملازموں کی یہ شہر کے مہنگے ترین ہو ٹل میں افطاری کرا تا ‘ بہت عزت سے پیش آتا ‘ اُن کے آنے کا شکریہ ادا کر تا‘ واپسی پر رمضان کے راشن اور عید کی شاپنگ کے لیے رقم لفافوں میں بند کر کے اُنہیں پیش کرتا‘ اِس سارے عمل میں وہ اِس بات کا بہت خیال رکھتا کہ کسی کی عزت نفس پامال نہ ہو ‘ اپنے ملازمین سے اِس طرح پیش آتا جیسے سرکاری افسران یا معاشرے کے بااثر ترین لوگ آئے ہو ئے ہیں ‘ سب سے مل کر کردار کی خو شبو میں مہکا یہ شخص آکر میرے پاس بیٹھ گیا ‘ دھیمے شیریں لہجے میں بولا جناب دعا کریں اللہ میری حقیر سی کو شش قبول کر
لے ۔میری بیوی اور بیٹے معاشرے کے طاقتور مشہور بااثر لوگوں کی افطاری کر اتے ہیں ‘ لوگوں میں اپنی دولت کی نمائش کر تے ہیں میرا اُن دعوتوں میں دل نہیں لگتا ‘ میں یہاں موجود معصوم لوگوں کی دعاؤں سے دولت مند ہوں پتہ نہیں اِن میں سے کسی کا رزق اور دعا میرے کھا تے میں ہے جس کی وجہ سے اللہ کریم مجھ جیسے گنا ہ گار کو رزق پر رزق دیئے جارہا ہے امیر لوگ جب افطاری پر آتے ہیں تو وہ اپنا حق یا نخرہ دکھا تے ہیں ‘ دعائیں تو یہ لوگ دیتے ہیں اِن کے چہروں پر پھیلے خوشی کے رنگ اور آنکھوں کی چمک بتا رہی ہے کہ یہ بہت خو ش ہیں ‘ ایسے لوگ اللہ تعالی کے قریب ہو تے ہیں اِن لوگوں کی دعائیں برق رفتاری سے در رحمت کھول دیتی ہیں ‘ یہ سچے کھرے لوگ ہیں اِن کے اندر منافقت نہیں ہے میں اُس شخص کی قسمت پر ناز کر رہا تھا ‘ دولت جو بڑے بڑے پارساؤں کو غرور میں مبتلا کر دیتی ہے ‘ تکبر اُن کے انگ انگ سے نشر ہو تا ہے جو انسانوں کو کیڑے مکو ڑوں کا درجہ دیتے ہیں ‘ پھر دولت کے نشے میں عام لوگوں کو روندتے چلے جا تے ہیں ‘ ہما ری ٹیبل پر موجود لوگ سادے لباسوں میں ملبوس چہروں اور حرکات و سکنات سے
بھی عام لگ رہے تھے ‘ یہ فرشتوں جیسے لوگ کھا نے کے لیے کھانے کی ڈشوں کی طرف جا تے تو معاشرے کے جانور نما امیر لوگ حیرت سے اُنہیں دیکھتے کہ یہاں کیسے آگئے یہ تو افورڈ ہی نہیں کر سکتے تو یہاں کیسے آگئے ‘یہاں بھی میرامیزبان آگے بڑھ کر سب کو گائیڈ کر رہا تھا ‘ نسل در نسل غربت کی چکی میں پسنے کی وجہ سے احساس محرومی اِن کی ہڈیوں تک میں اتر چکا تھا ‘ لوگ کھا نے پر ٹو ٹ پڑے تھے ‘یہ انتہائی شرافت سے دوسروں کو موقع دے رہے تھے ‘امیر لوگ انہیں اچھوت سمجھ کر گھو ر رہے تھے جیسے یہ غلطی سے یہاں آگئے ہوں ‘ اب میزبان نے ہو ٹل والوں کو بلا یا جو اُسے اچھی طرح جانتے تھے انہیں کہایہ میرے وی آئی پی مہمان ہیں اِن کی اچھی طرح میزبانی کرو ‘ عاجزی انکساری میرے میزبان کے گلے تک بھری ہو ئی تھی جس کا مسلسل اظہار کر رہا تھا ایک طرف یہ معصوم لوگ تھوڑا تھوڑا پلیٹوں میں ڈال کر آرام سے کھا رہے تھے ‘ دوسری طرف نام نہاد امیر زادے کھانے کے ساتھ کشتی کر رہے تھے پلیٹوں کو بھر کر لا تے تھوڑا چکھنے پسند نہ آنے پر پلیٹ اُسی طرح چھو ڑکر دوسرے کھا نے کی طرف بڑھ جاتے ‘ امیر زادے جانوروں کی طرح کھانے اُدھیڑ رہے تھے اُن کا بس نہیں چل رہا تھا سارے سال کا کھاناابھی کھالیں ‘ لگ رہا تھایہاں پر انسان نہیں جانوروں کا ریوڑگھس آیا ہے جو بے دردی سے کھا نوں کو اُجاڑ رہا ہے جس طرح جانور فصلوں میں گھس کر فصلیں اجاڑ دیتے ہیں اِسی طرح یہ کھانوں کے ساتھ طوفان
بدتمیزی کر رہے تھے ‘ اِنہی امیروں میں ایک ٹولا بھی آیا ہو ا تھا اِن کی بڑی توندیں ‘ بے ہنگم جسم بلکہ جسم کے جغرافیے بتا رہے تھے کہ وہ صرف کھانے کے لیے ہی زندہ ہیں مذہب کے یہ ٹھیکیدار یہ بھی بھول گئے تھے کہ تاجدار کائنات ؐ کا فرمان مبا رک ہے کہ کھاناتھوڑا اور بھو ک رکھ کر کھا یا جائے ‘ سرور دوجہاں محبوب خداؐ کا فرمان ہر چیز کی زکوۃ ہے اور جسم کی زکوٰۃ روزہ ہے ‘فرمانِ ربی ہے کھا ؤ پیو لیکن حد سے نہ بڑھو ‘ سرتاج الانبیاء ؐ کے فرمان سونے سے لکھنے کے قابل ہیں ‘ چود ہ صدیاں پہلے آپ ؐ زندگی گزارنے کے تمام سنہری اصول بتا گئے ہیں۔ آج سارا یو رپ اور مغرب کم کھانے پر زوردے رہا ہے کہ زیا دہ کھانا بیما ریوں کا سبب بنتا ہے جبکہ کم کھانا اور روزہ انسانی جسم کے لیے نوید زندگی ہے لیکن میرے سامنے شہر کے ریسٹورنٹ میں مسلمان روزے جیسی عبادت کی افطاری پر آقا کریم ؐ کے سنہرے اصولوں کی سرعام پامالی کر تے نظر آرہے تھے ‘ہما را مغرب نواز طبقہ جو دن رات مغرب کی جگالی کر تا نظر آتا ہے آخر ایک دن اِس کو بھی اسلام کی فطری تعلیمات اور طرزِ زندگی کی طرف آنا ہو گا ‘ نظام زندگی کا وہ کو نسا شعبہ ہے کونسا ادارہ ہے جس کی تعلیم یا طریقہ نبی کریم ؐ نے نہیں بتا یا میں اپنے سامنے کھانے پر کشتی کر تے انسانوں کو دیکھ رہا تھا‘ دوسری طرف معصوم غریب لوگ مہذب طریقے سے کھا رہے تھے یہ لو گ زندہ رہنے کے لیے کھا رہے تھے امیر لوگ پیسے پو رے کر نے کے چکر میں تھے افطاری کے بعد ریشم جیسے ملا ئم میزبان نے شکریہ ادا کیا تو میں نے کہا جناب اگلی دفعہ بھی مجھے اِس افطاری میں شامل ہو نے کی سعادت ضرور دیجئے گا جپھی ڈال کر واپس آگیا ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں