روپے کی بے قدری

150

نگراں حکومت کو اقتدار سنبھالے دس دن ہی ہوئے ہیں کہ خدشات حقیقت بن کر سامنے آنے لگے ہیں ۔ پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ تو کیا ہی گیا ہے مگر جو سب سے زیادہ خوفناک کام ہوا ہے ، وہ ہے روپے کی قدر میں کمی ۔ ایک ہفتے کے اندر اندر امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ گر کر 120 روپے فی ڈالر پر پہنچا دیا گیا ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اسے 130 روپے فی ڈالر پر پہنچانے کے منصوبے ہیں۔ آئی ایم ایف اور عالمی بینک گزشتہ کئی ماہ سے روپے کی قدر میں کمی پر زور دے رہے تھے ۔ ان ہی کی فرمائش پر عباسی دور حکومت میں اچانک ایک دن میں روپیہ 110 روپے فی ڈالر سے گرا کر 115 روپے پر لے آیا گیا تھا ۔ اب پھر ایک ہی دن میں پانچ روپے کا جھٹکا دے دیا گیا ہے ۔
سرکار کے پاس عوام کو پیش کرنے کے لیے اس کا ایک ہی جواز ہے اور وہ یہ ہے کہ اس سے پاکستانی برآمدات میں اضافہ ہوگا ۔ مگر کتنا؟ اس وقت پاکستان کی درآمدات اور برآمدات میں فرق تقریبا 36 ارب ڈالر پر پہنچ چکا ہے ۔ موجودہ مالی سال میں صرف مئی تک کے گیارہ ماہ میں پاکستان نے 55.23 ارب ڈالر کی درآمدات کیں ۔ اس کے مقابلے میں برآمدات 21.34 ارب ڈالر کی تھیں۔ پاکستان کے پاس برآمد کرنے کو ہے ہی کیا ؟ ہم سبزی ، مصالحے ، گارمنٹ ، اسلحہ ، جیولری ، ٹائر اور گاڑیاں ، موبائل فون ، کھانے کا تیل ، پٹرول و گیس ، کبھی کبھار گیہوں ، کھاد اور ادویہ اور اب تو زرعی بیج بھی درامد کرنے لگے ہیں ، غرض کیا چیز ہے جو درآمد نہیں کرتے ۔ برآمدات میں لے دے کر ہمارے پاس چاول ہے یا ٹیکسٹائل کی نچلے درجے کی مصنوعات ۔ اب ان دونوں میں مزید کتنا دم خم ہے کہ روپے کی قدر کم کرکے اس میں اضافہ کیا جاسکے گا ۔ البتہ درآمدی بل اچانک ہی بیس فیصد بڑھ جائے گا۔ اس کے علاوہ جو کام سب سے زیادہ خطرناک ہوگا وہ یہ ہوگا کہ قرض اور اس پر ادا کیا جانے والا سود بھی راتوں رات بیس فیصد بڑھ جائے گا ۔ اس کے علاوہ مہنگائی کے نہ رکنے والے طوفان کا دروازہ کھل جائے گا۔ بڑھے ہوئے درامدی بل کو پورا کرنے کے لیے مزید قرض بھی لینا پڑے گا ۔
جب پاکستان کی پوری معیشت ہی درآمدات پر انحصار کررہی ہے تو ہر چیز کی قیمت میں بیس فیصد اضافے کے لیے ذہنی طور پر تیار رہیے ۔ گھی تیل کی قیمت میں بیس فیصد اضافہ ، ایندھن کی قیمتوں میں بیس فیصد اضافہ ، چونکہ بجلی بھی فرنیس آئل پر منحصر ہے تو ا س کے ٹیرف میں بھی اضافہ وغیرہ وغیرہ ۔ اور پھر اس کے ردعمل میں ہونے والے اضافے کی زنجیر ۔
آخر ایسا کیوں کیا گیا ؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کے بغیر ہم نہیں جان سکتے کہ پاکستانی معیشت جو پہلے ہی مری ہوئی تھی اسے درے مزید کیوں لگائے گئے ۔ اس کا ایک جواب تو شمشاد اختر کی صورت میں موجود ہے ۔ شمشاد اختر ایک بینکار ہیں ۔ وہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی گورنر بھی رہ چکی ہیں ۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا گورنر بننے کا سیدھا اور صاف مطلب یہ ہے کہ وہ بین الاقوامی بینکاروں کی پسندیدہ فہرست میں شامل ہیں ۔ بین الاقوامی بینکاروں کی منظوری کے بغیر دنیا کے کسی بھی مرکزی بینک میں تقرری ناممکن ہے ۔ غور کرنے کی بات یہ ہے کہ جمہوری دور حکومت میں جب پانچ سال کسی وزیر خزانہ، کسی وزیر خارجہ اور کسی وزیر دفاع کے بغیر گزارے جاسکتے ہیں تو ننھی سی کابینہ میں وزیر خزانہ کیوں ؟ اور وہ بھی عالمی بینکاروں کا پسندیدہ ۔ پھر نگراں حکومت کا مینڈیٹ روز مرہ کے معاملات کو دیکھنا ہوتا ہے نہ کہ کلیدی اور اہم فیصلے کرنا۔ شمشاد اختر جو کہ بین الاقوامی بینکاروں کی نمائندہ ہیں ، کو نگراں حکومت میں اتنا اہم عہدہ کیوں دیا گیا اور انہیں اس فیصلے کی اجازت کیوں دی گئی ؟
ایک بار پھر سے یاد دہانی۔ کسی فرد یا کسی قوم کو غلام بنانے کا آزمودہ نسخہ اسے قرض تلے جکڑ دینا ہے ۔ کسی بھی قوم کو قرض پر مجبور کرنے کا آسان ترین طریقہ اسے جنگ میں ملوث کردینا ہے ۔ سعودی عرب کو ہی دیکھ لیں ۔ تیل جیسی اہم پیداوار کے ہوتے ہوئے یہ قرض تلے جکڑ دیا گیا ہے اور اب آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے املا پر عمل کرنے کے لیے مجبور ہے ۔ ایران جیسی معیشت اب تک ایران عراق جنگ کے جھٹکے سے نہیں سنبھل سکی ہے ۔ برطانیہ ، فرانس ، امریکا ، روس ، کون سی معیشت ہے جو جنگ کا دباؤ سنبھال سکی ہو ۔ یہ ساری کی ساری حکومتیں بھاری قرض تلے دبی عالمی سازش کاروں کے ہر اشارے پر ناچ رہی ہوتی ہیں ۔
پہلے زرداری اور پھر شریف دور حکومت میں پاکستان کو بھاری قرض تلے دبا دیا گیا ۔ پھر سی پیک کا وزنی پتھر بھی اس قوم پر لاد دیا گیا ۔ قرض کے اتنے بھاری بوجھ تلے یہ قوم بہ مشکل سانس لے پا رہی تھی کہ روپے کی قدر کو 110 روپے سے پہلے 115 روپے کیا گیا اور اب 130 پر لے جایا جارہا ہے ۔ کوئی جنگ نہیں لڑی ، بھاری کمیشن کے عوض کوئی نیا منصوبہ نہیں شروع کیا مگر راتوں رات قرض اور سود میں 20 فیصد کا اضافہ ہوگیا ۔یہ ہوتا ہے پتلی تماشا۔ کسی سیاسی جماعت کی طرف سے کوئی آواز بلند نہیں ہوئی اور نہ ہی ان سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے معیشت داں حیران ہوئے ۔ یہ ہوتا ہے نادان بننا ۔ یہ قرضے کس کے ہیں ۔ ظاہر سی بات ہے کہ ان ہی عالمی بینکاروں کے ہیں جن کے اشارے پر روپے کی قیمت گرا دی گئی ۔
سائیڈ افیکٹ میں پاکستانی قوم مہنگائی کے بوجھ تلے دب جائے گی ، یہ الگ مسئلہ ہے ۔ نگراں حکومت تو ویسے ہی تنخواہ دار ہے ، اسے تو اپنے آقاؤں کی خوشنودی چاہیے ۔ کسی بھی شے کی قیمت میں بیس فیصد اضافے کا مطلب کہیں سے مہنگائی میں بیس فیصد اضافہ نہیں ہوتا بلکہ یہ مجموعی طور پر ساٹھ فیصد پر منتج ہوتا ہے ۔
اس کا مطلب ہے کروڑوں افراد دیکھتے ہی دیکھتے خط غربت کو عبور کرکے نان شبینہ کو بھی محتاج ہوجائیں گے ۔ خصوصا تنخواہ دا طبقہ اس مسئلے سے دوچار ہوگا ۔ آبادی میں کمی اور اسے شدید غربت میں مبتلا رکھ کر کنٹرول میں رکھنا بھی ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے ایجنڈے میں شامل ہے ۔
نگراں حکومت کیا کررہی اور کیوں کررہی ہے ، یہ اپنے مینڈیٹ یعنی شفاف انتخاب کے علاوہ ہر کام کررہی ہے ۔ یہ کس کے ایجنڈے پر کام کررہی ہے ۔ اہم ترین فیصلے کیوں اس عبوری حکومت میں کیے جارہے ہیں ۔ یہ اہم ترین سوالات ہیں مگر اس پر غور کی کسی کو فرصت نہیں ہے ۔ نتخابات کو سامنے دیکھ کر ہر پارٹی کی رال ٹپک رہی ہے ۔ ویسے بھی اقتدار میں آکر انہیں بھی یہی کرنا ہے ۔ کم از کم گزشتہ حکومتوں کے تجربے تو یہی بتاتے ہیں ۔
اس دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کی سازشوں سے خود بھی ہشیار رہیے اوراپنے آس پاس والوں کو بھی خبردار رکھیے ۔ ہشیار باش ۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ

جواب چھوڑ دیں