اسپین کا اٹلی کو طمانچہ ،مہاجرین کو پناہ دینے کی پیشکش

167
روم: ایکوریس جہاز پر موجود تارکین وطن اپنے مستقبل کے حوالے سے فکرمند ہیں
روم: ایکوریس جہاز پر موجود تارکین وطن اپنے مستقبل کے حوالے سے فکرمند ہیں

میڈرڈ (انٹرنیشنل ڈیسک) 629 مہاجرین کو بچاکر اطالوی ساحلوں پر لانے والے فرانسیسی امدادی تنظیم کے بحری جہاز کو روم حکومت نے لنگر انداز ہونے کی اجازت نہیں دی تھی۔ تاہم اب ان مہاجرین کو اسپین پہنچایا جائے گا۔ اٹلی کی نئی عوامیت پسند حکومت کے اعلان کے بعد یہ جہاز بین الاقوامی پانیوں میں کھڑا تھا۔ اس بحری جہاز میں بحیرہ روم میں کئی امدادی کارروائیوں کے دوران بچائے گئے 629 مہاجرین سوار ہیں، جن میں کئی حاملہ خواتین اور سیکڑوں بچے بھی شامل ہیں۔ تاہم ایکوریس نامی اس امدادی بحری جہاز کو اٹلی اور مالٹا نے لنگر انداز ہونے کی اجازت نہیں دی تھی، جس کی وجہ سے ڈرامائی صورت حال پیدا ہو گئی۔ اختتام ہفتہ پر پیش آنے والی اس صورت حال میں اسپین کے نئے سوشلسٹ وزیر اعظم پیدرو شانچیز نے ان مہاجرین کو اپنے ہاں پناہ دینے کی پیش کش کی ہے۔ ہسپانوی حکومت نے اس بحری جہاز کو ویلنشیا میں لنگرانداز ہونے کی اجازت دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ایسا کرنا اسپین کے لیے فرض ہے۔ ایس او ایس میڈیٹرینی نامی امدادی تنظیم نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں بتایا کہکچھ دیر میں ایک اطالوی بحری جہاز ایکوریس میں اشیائے خور و نوش پہنچائی جائیں گی۔ پھر تارکین وطن کو اطالوی بحری جہاز میں سوار کیا جائے گا جو انہیں مشرقی اسپین میں ویلنسیا کی بندرگاہ پہنچا دے گا۔ اسپین کے علاوہ ایک فرانسیسی جزیرے نے بھی ان مہاجرین کو پناہ دینے کی ہامی بھری تھی۔ اس سے قبل ایس او ایس نے ہسپانوی پیشکش کے جواب میں کہا تھا کہ خراب موسم کے باعث شاید بحری جہاز کے لیے ویلنشیا تک کا سفر ممکن نہ ہو پائے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ