سیاستداں بدنام ہیں ، نیب نے سب سے زیادہ وصولیاں جرنیلوں سے کیں، فضل ا لرحمٰن

150

اسلام آباد(صباح نیوز)جمعیت علمائے اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے اپنے اوپر ہونے والی تنقید کے حوالے سے واضح کیا ہے کہ خود پر ہونے والی تنقید میں اپنی کمزوری تلاش کرتا ہوں۔ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فوج ایک ادارہ ہے جو ناصرف ناگزیر بلکہ ریاست اور سرحدوں کا تحفظ کرتا ہے لیکن جھگڑا اس وقت جنم لیتا ہے جب فوج سیاست میں حصہ لے۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ہم نے
قومی اسمبلی میں مطالبہ کیا کہ قومی احتساب بیورو (نیب) بتائے کہ کن لوگوں سے کتنی وصولیاں کیں۔ان کا کہنا تھا کہ اسمبلی میں پیش کردہ نیب کے جواب کے مطابق سب سے زیادہ وصولیاں فوجی جرنیلوں،دوسرے نمبر پر بیوروکریسی اور تیسرے نمبر پر سیاستدانوں سے کیں۔مولانا فضل الرحمننے کہا کہ لیکن سیاستدانوں کو اتنا بدنام کیا جاتا ہے کہ جیسے پورے ملک کا پیسہ صرف سیاستدانوں نے کھایا ہے۔انہوں نے کہا کہ میں کردار کی صداقت اور صفائی کا قائل ہوں، کچھ کمزوریاں ہمارے اندر بھی ہوتی ہیں لیکن ایسی کمزوریاں دوسرے میں زیادہ ہیں، اگر ملک کو صحیح سمت پر چلانا ہے تو اپنی اپنی ذمے داری ادا کرنا ہو گی۔میڈیا کے حوالے سے ان کہنا تھا کہ دنیا میں جہاں جمہوریت ہے وہاں آزاد صحافت ہے، میڈیا کی آزادی کا یہ مقصد نہیں کہ ہم مادر پدرآزادی چاہتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی ملک کی ترقی کی بنیاد خوشحال معیشت ہوتی ہے،پاکستان میں خرابیوں کے بہت سے مناظر ہیں۔علاوہ ازیںآزادی اظہار کو درپیش خطرات اور آئندہ انتخابات کے موضوع پر نیشنل پریس کلب میں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمن،پاکستان مسلم لیگ (ن)کے سینیٹر پرویز رشید، پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما فرحت اللہ بابر اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شبلی فراز نے کہا کہ ہمارے ملک کے سیاستدانوں میں خود اعتمادی ختم ہوچکی ہے، نادیدہ قوتوں نے آزادی صحافت کو بھی خاموشی سے جبر کے پنجوں میں جکڑ لیا ہے،یہ صورتحال ماضی کے مارشل لازسے مختلف ہے ، صورتحال سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ کے علاوہ نان اسٹیٹ ایکٹرز کی پیدا کردہ ہے، حکومت تو ہے لیکن اس کے پاس اختیار نہیں ہے جبکہ صحافت تو ہے لیکن آزادی نہیں ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ