2018 کے انتخابات سے قبل سویلین بالادستی کے خلاف مارشل لاء لگ چکا ہے،فرحت اللہ بابر

194

پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر کا کہنا ہے کہ ملک میں 2018 کے انتخابات سے قبل سویلین بالادستی کے خلاف مارشل لاء لگ چکا ہے،ملک کے اندر سویلین حکومت تو ہے لیکن اس کے پاس کوئی اختیارات نہیں ہے۔

اسلام آباد میں  آر آئی یو جے کے زیر اہتمام آزادی اظہار کو درپیش خطرات اور آئندہ انتخابات کے حوالے سے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے  پیپلزپارٹی کے رہنمافرحت اللہ بابر نے کہا کہ آزادی اظہار رائے پر پابندی ایک سنجیدہ معاملہ ہے،اس طرح کے سیمینارز منعقد کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے کیونکہ آئندہ ماہ پاکستان میں عام انتخابات ہونے جا رہے ہیں اور پاکستان ایک مشکل دوراہے پر کھڑا ہے،خوش آئند بات ہے کہ دو جمہوری حکومتوں نے اپنی آئینی مدت پوری کی لیکن دونوں حکومتوں کو اپنے ایک ایک وزیراعظم کی قربانی دینا پڑی۔

انہوں نے کہا کہ 2018کے انتخابات سے قبل سول اتھارٹی کے خلاف مارشل لاء لگ چکا ہے جو پنجوں کے بل انتہائی خاموشی سے آیا اور کسی کو اس کی بھنک تک نہ پڑی،یہ مارشل لاء ماضی میں لگائے گئے مارشل لاؤں سے بہت مختلف ہے،اس مارشل لاء کے نتیجے میں سویلین حکومت کے اختیارات بالکل ختم کر دیئے گئے اور صحافت کے خلاف ایسی قدغنیں لگائی گئیں کہ صحافت اب آزاد تو ہے لیکن اس کو آزادی حاصل نہیں ہے،اسی طرح ملک کے اندر جمہوریت اور سویلین حکومت تو موجود ہے لیکن جمہوری حکومت کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے، حالات ان نہج تک پہنچ چکے ہیں کہ منتخب وزیراعظم کے احکامات کو ایک ٹوئیٹ کے ذریعے رد کردیا جاتا ہے اور ملک کے اہم خارجی معاملات کا اعلان ٹوئیٹس پر کر دیا جاتا ہے۔

فرحت اللہ بابر نے کہاکہ پاکستان کے اندر آزادی صحافت کایہ حال ہے کہ صحافت پر فوجیوں کے ذریعے قبضہ تو نہیں کیا گیا لیکن دوسرے ذرائع استعمال کرتے ہوئے صحافیوں کو اتنا محدود کر دیا گیا ہے کہ وہ اپنا کام سرانجام نہیں دے سکتے، ہمیں ان تمام معاملات کو سمجھنا ہو گا اور اس کے خلاف لائحہ عمل بنانا ہو گا، پاکستان کے اندر ٹی وی چینلز اور اخبارات کو بند کردیا جاتا ہے اور وزارت اطلاعات اس سے لاعلم ہوتا ہے،ڈان لیکس سے تو ملکی سلامتی خطرے میں پڑ جاتی ہے،لیکن ٹائمز اخبار میں کوئی آرٹیکل چھپے تو کوئی رد عمل نہیں آتا۔

انہوں نے کہا کہ اظہار رائے پر پابندیوں کے خلاف اسلام آباد میں ایک بین الاقوامی کانفرنس بلانی چاہیئے،جہاں ان معاملات پر بات کی جائے اور بین الاقوامی میڈیااس کی خصوصی کوریج کرے، میری یہ بھی تجویز ہے کہ صحافی حضرات پارلیمنٹ کی کمیٹی کو درخواست دیں کہ وہ اس معاملے پر سماعت کریں اور جو لوگ آزادی رائے کے خلاف کام کر رہے ہیں ان کو بھی بلا کر جواب طلب کیا جائے۔

سابق سینیٹر نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کواپنے انتخابی منشور کے اندر آزادی اظہار اور صحافیوں کی زندگی کو درپیش خطرات کے حوالے سے روڈ میپ دینا چاہیئے، پاکستان میں سول ملٹری تعلقات میں تناؤ کی وجہ سے صحافیوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں،گزشتہ دنوں خاتون صحافی کی پر اسرار گمشدگی اور پھر واپسی پر شدید تحفظات ہیں، ایسے واقعات کو روکنا ہو گا،پاکستان کے اندر سیاستدانوں کی کرپشن پر پگڑی اچھالی جاتی ہے لیکن میں اگر یہ سوال کروں کہ کسی جرنیل کو 900ایکڑ زمین کیوں دی گئی تو ملکی سلامتی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
حصہ