انسانی اسمگلنگ میں ملوث 6 افراد پر اقوام متحدہ کی پابندیاں

65

نیویارک (انٹرنیشنل ڈیسک) اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے انسانوں کی اسمگلنگ کے نیٹ ورک سے وابستہ 6 افراد پر پابندیاں عائد کردیں۔ ذرائع کے مطابق یہ نیٹ ورک لیبیا میں متحرک ہے۔ سلامتی کونسل کی جانب سے انسانوں کی اسمگلنگ میں ملوث افراد کے خلاف عالمی پابندیوں کا یہ پہلا
موقع ہے۔ ذرائع کے مطابق پابندیوں کا نفاذ تب ہوا، جب ہالینڈ کی جانب سے پیش کردہ مسودے پر روس نے اپنے تحفظات ختم کر دیے۔ اس طرح6 افراد کے ناموں کو اقوام متحدہ کی پابندیوں سے متعلق بلیک لسٹ میں داخل کر دیا گیا۔اقوام متحدہ کے لیے امریکی سفیر نکیہیلی کا کہنا تھا کہ لیبیا میں تارکین وطن کو غلام بنا کر فروخت کرنا ہم سب کے ضمیر کے لیے ایک دھچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج لگنے والی پابندیاں کے بعد بین الاقوامی برادری انسانوں کی اسمگلنگ میں ملوث افراد کا احتساب ضرور کرے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عالمی پابندیوں کے تحت یہ افراد دنیا میں کسی بھی ملک کا سفر نہیں کر سکیں گے، جب کہ ان کے تمام اثاثے منجمد ہو جائیں گے۔ پابندیوں کے شکار افراد میں سے 2کا تعلق ایریٹریا، جب کہ 4 کا تعلق لیبیا سے ہے۔ اریٹریا سے تعلق رکھنے والے دونوں افراد نیٹ ورک کے سرغنہ تھے، جب کہ ان پابندیوں کی زد میں لیبیا کی کوسٹ گارڈ کے ایک علاقائی یونٹ کا سربراہ بھی شامل ہے۔ پابندیوں کے نفاذ سے قبل روس نے ان افراد کے حوالے سے مزید تفصیلات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ روس کا موقف تھا کہ وہ اس بارے میں کوئی فیصلہ کرنے سے قبل مسودے کو تفصیل سے دیکھنا چاہتا ہے کہ ان افراد پر یہ پابندیاں کیوں ضروری ہیں۔ روس نے اس سلسلے میں مہیا کیے جانے والے شواہد کی جانچ کے لیے اجلاس بھی بلوایا تھا۔ واضح رہے کہیہ نیٹ ورک یورپ اور امریکا میں بھی پھیلا ہوا تھا۔
انسانی اسمگلنگ/پابندیاں

Print Friendly, PDF & Email
حصہ